<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018</id><updated>2012-02-16T07:27:34.301-08:00</updated><category term='عید میلاد النبی'/><category term='مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ'/><category term='استانی، اٹھارویں شق، سینگ، تھپکی،'/><category term='مینڈکی'/><category term='اقسامِ بلاگرز'/><category term='ٹھوکو بلاگرز'/><category term='دین سے دوری ، روشن خیالی ، آزاد معاشرہ'/><category term='خوش نہیں دیکھو'/><category term='نیا انداز، چراغاں، بجلی چوری'/><category term='دل چاہے حیا کرے'/><category term='مرد نما عورت بلاگرز'/><category term='بارہ سنگھے'/><category term='علامہ اقبال ، محاسبہ ، پر اثر ، گونگی ہوگئی آج زباں'/><category term='ماحول، یاریاں'/><category term='روشن خیال بلاگرز'/><category term='کاپی شدہ'/><category term='وساوس'/><category term='عقل سلیم'/><category term='ٹھرکی بلاگرز'/><category term='کلب بلاگستان، چھبو کی آنکھ ، چھبو آنٹی، جنگستان'/><category term='میرے دوست، فرضی خاکہ، پہچان،دوست'/><category term='ترجیحات'/><category term='مکہ کے کفار'/><category term='حیاء'/><category term='چنگیز خان'/><category term='حجاب'/><category term='رئیس امرہوی'/><category term='روشن خیالی، ھیتھرو، لندن، مرد، عورت، بی بی سی'/><category term='اقبالی بیان کنویں کے مینڈک'/><category term='عرب شرفاء'/><category term='جلابی بلاگرز'/><category term='صحبت'/><category term='قرآن'/><category term='فارمولا'/><title type='text'>حیران و پریشان</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>31</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3837813760206099187</id><published>2012-02-06T10:53:00.000-08:00</published><updated>2012-02-06T10:53:05.468-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='نیا انداز، چراغاں، بجلی چوری'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عید میلاد النبی'/><title type='text'>منانا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔۔!!!!</title><content type='html'>&lt;br /&gt;ہمارے ایک دوست ہیں طارق عزیز صاحب انہوں نے یہ واقعات سنائے اور کم و بیش پورے پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔  جس کی ایک جھلک یہاں ملاحظہ فرمائیں!!!!!!&lt;br /&gt;گیارہ ربیع الاول کی رات کو میں اپنی بائیک پر ریگل سنیما چوک سے بائیں (سٹیٹ بنک کی ) طرف مڑنے لگا تو آگے ساری ٹریفک بند ملی۔ ویگن گاڑیوں والے واپس موڑ کر متبادل راستوں سے نکلنے لگے، ان میں ایک ایمبولینس بھی شامل تھی، جو شاید میو ہسپتال جانے والے راستے کی تلاش میں تھی۔ معلوم ہوا کہ عید میلاد النبی کا کوئی جلوس آرھا ہے جسکی وجہ سے راستے بند ہیں۔ خیر میں اطراف سے جگہ بناتے ہوئے کریم بخش اینڈ سنز کے سامنے سے نکل کر دائیں طرف والی سروس روڈ سے ہوتا ہوا آگے بڑھ گیا کہ شاید ادھر سے کوئی راستہ مل جائے۔ میں آگے بڑھتا ہوا، سٹیٹ بنک کے سامنے تک جا پہنچا، جہاں ٹریفک وارڈن نے دو ایک موٹر سائیکلوں اور بائیسائیکل والوں کو ھاتھ کے اشارے سے روکا ہوا تھا کہ جب تک جلوس نہیں گذر جاتا انتظار کرو۔ تھوڑی دیر میں ہائیکورٹ کی جانب سے دو گھوڑ سوار برامد ہوئے، ان کے پیچھے چار گھوڑوں والی ایک بگھی میں پچھلی سیٹ پر ایک پیر صاحب چمکدار کلف لگا لٹھے کا سوٹ، واسکٹ اور بھاری سی پگڑی تن زیب کیے اک شان بے نیازی سے ہاتھ میں تسبیح گھماتے ہوئے براجمان تھے، برابر مین دو چھوٹے بچے جنھوں نے دولہا جیسی شیروانیاں اور کُلّے پہں رکھے تھے بھی بیٹھے ہوئے تھے، مجھے لگا کہ جیسے کسی فلم کا منظر ہو جس میں بادشاہ سلامت کی شاھی سواری مع شہزادہ گان گذر رہی ہے، ین کے پیچھے دو مُریدین باقاعدہ مورچھل ہلا رہے تھے۔ بگھی کے پیچھے مریدین کا مشعل بردار قافلہ جھومتا ہوا آرہا تھا۔ مزید 20-25 منٹ کی زحمت برداشت کر نے کے بعد رستہ کھولا گیا اور میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ میں سارے راستہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیسا مذھبی رہنما اور جلوس ہے جسکی وجہ سے اللہ کی کتنی مخلوق کو شدید ذہنی و جسمانی کوفت اُٹھانا پڑ رہی ہے، اور جو ایمبولینس راستہ نہ ملنے کی وجہ سے واپس مڑ گئی کیا پتہ اسکے مریض کو کتنی تکلیف کا سامنا اُٹھانا پڑا ہوگا، کتنے لوگ ہونگے جو کسی مجبوری کی وجہ سے جلدی کسی مقام پر جانا چاہ رہے ہونگے مگر بارہ ربیع الاول سے قبل ہی غیر متوقع طور پر انھیں رستہ بند ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔&lt;br /&gt;ساتھ والے محلے کے ایک دوست بتا رہے تھے،میرے آس پاس کےمحلوں کے فارغ لڑکے سارہ دن رسوں سے راستے روک کر آنے جانے والوں سے زبردستی چندہ وصول کر رہے تھے، رات گئے تک یہ مشغلہ جاری رہتا، میں گذرتے ہوئے کچھ ایک کو نماز کی دعوت دی کہ بھائی جو برے لڑکے ہیں وہ سب آو پہلے نماز پڑھ لو پھر آکر باقی کا کام کر لینا،تب تک یہ چھوٹے لڑکے پہرہ دیں گے۔ بولے لو جی یہ جو ہم دین کا کام کر ہے ہیں یہ کیا ثواب کا کام نہیں، ہم اگر یہ چھوڑ کر چلے گئے تو چھوٹے لڑکے پتہ نہیں کتنے پیسے اپنی جیب میں ڈال لیں گے۔میں نماز سے فارغ ہو کر گھر کی جانب آرہا تھا، میں نے پوچھا کہ کتنا جمع کر چکے، اور کتنا کرو گے? بولے تقریبا" آٹھ ہزار ہونے کو ہے بس کل آخری دن ہے ہم نے لازما" 12 ہزار کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ پوچھا 12 ہزار کیوں? بولے لو جناب ساری گلی آخر تک سجانی ہے، لائٹین جھنڈیاں وغیرہ کا حساب لگایا ہے، وہ تقریبا" 10 ہزرا کی آئیں گی، اور 2000 کا ہم سب لڑکے جنھوں نے اتنی محنت کی ہے وہ عید میلاد النبی والے دن پنڈارہ بنا کر کھائیں گے، 11-12 کی درمیانی رات سب لڑکے شام سے ہی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے اور رات بھر جاگ کر کام مکمل کیا، میں فجر کی نماز کے لیے نکلا تو دیکھا کے تقریبا" سارے ہی لڑکے شب بیداری کی مشقت سے تھک کر بنائے گئے سٹیج پر بے سُدھ سو رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے، تو کیا دُنیاوی رسوم کے لیے نماز چھوڑ کر نبی پاک کی آنکھوں کو تھنڈک پہنچا رہے ہیں? کل قیامت کو جب اللہ پاک نماز کا ھساب لے گا تو کیا یہ عذر پیش کریں گے کے چندہ جمع کرنے اور سجاوٹ لگانے، پھر جشن منانے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی ?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں ساتھ والے محلے میں ایک دوست کی طرف گیا واپسی پر چھوٹی گلی کے اندر سے آنے کی بجائے مین روڈ کی طرف سے نکل آیا کہ چلو ذرا رونق ہی دیکھتا چلوں۔ ایک طرف گلی میں لوگوں کا ہجوم دیکھا تو آگے بڑھ کر دیکھا تو کچھ نوجوانوں نے (جنھون نے چہروں پر سبز پینٹ کیے ہوئے تھے، سٹیج پر بڑے سائز کے ڈیک لگا کر ڈسکو پرفارم کر رہے تھے، لوگ تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے جس سے پرفارمرز کے جوش میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ میں پاس کھڑے ایسے ہی بہروُپ میں کھڑے ایک نوجوان سے کہا کہ آج کے اس مقدس دن میں آپ لوگ انڈین گانوں پر پرفارم کر کے کیا خدمت انجام دے رہے ہیں? مسجد میں جائیں نماز پڑھیں، دورد شریف کی تسبیحات پڑہیں۔ نوجوان نے غصہ سے کہا، بھائی صاحب نعت کو انڈین گانا کہہ کر مذاق تو نہ اڑائیں، ہم اتنے بھی گئے گذرے نہیں کہ عید میلادالنبی والے دن انڈین گانے بجائیں، میں ذرا غور سے سُنا تو واقعی الفاط تو کچھ مدحت نما ہی تھے مگر ان کی ادائیگی اورڈسکو طرز کی میوزک بیٹ کی وجہ سے وہ کوئی انڈین ڈسکو گانا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ میں پیچھے کی جانب مڑا ہی تھا کے ساتھ کھڑا ایک باریش آدمی ماتھے پر تیوری ڈالتے ہوئے کہنے لگا کیا بات ہے?۔ میں نے کہا کچھ نہیں بس ذرا بچے کو سمجھا رہا تھا کہ آج کے دن ناچ گانے کی محفلون کی بجائے اللہ اللہ کیا جائے تو بہتر ہوگا ، وہ صاحب تنک کر بولے، جناب یہ بچے اپنے سٹائل میں حضور پاک کی آمد کا جشن منا رہے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہو رہی ہے، کہیں آپ ‘ وہابی" تو نہیں?۔ ۔ "کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا" &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اور میری مسسز حسب معمول رات کا کھانا کھا کر باہر والک کے لیے نکلے، آج بارہ ربیع الاول عید میلادالنبی کی وجہ سے سبھی راتے روشن منور تھے، بڑا اچھا لگ رہا تھا کہ کافی عرصہ بعد بجلی مسلسل آرہی ہے اور چھوٹے چھوٹے قمقموں کی سجاوٹ سے گلیاں محلے جگمگا رہے تھے، ہم اپنے روٹین کے راستے سے ہوتے ہوئے اگلے موڑ کی طرف جا رہے تھے، جہاں ایسے موقعوں پر کوئی رش نہیں ہوتا، مگر آج خلاف توقع اگلے چوک سے پہلے ہی راستے میں رش نظر آیا، حالانکہ سجاوٹیں وغیرہ تو گلیوں میں تھیں اور بڑا روڈ کھلا ہوا ہی تھا مگر اس چوک سے پہلے گلی سے باہر آکر چند ایک باریش بزرگوں نے مائیک ہاتھوں مین لیے لوگوں کو جمع کر کے نعرے لگوانے شروع کیے ہوئے تھے روڈ کی دونوں طرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا رش لگ گیا، میں نے بیگم کو ایک طرف کھڑا ہونے کو کہا اور ایک باریش نوجوان کو کہا کہ بھائی آپ ذرا آگے ہو کر مائیک والے صاحب سے کہیں کے یہ کام اگر آپ گلی کے اندر جہاں سجاوٹ کی ہوئی ہے وہان جا کر یہ نعرے لگوا لیں تو لوگوں کے گذرنے کا راستہ تو بلاک نہین ہوگا۔ نوجوان نے خفگی سے گھورتے ہوئے کہا ، جناب آج عید میلاد النبی کا دن ہے آپ لوگوں کو کس نے کہا تھا کہ آج باہر نکلو، ہم نے کوئی روز روز تو جشں منانا نہین ہوتا، اس پر بھی آپ لوگ ہمیں روک ٹوک شروع کر دیتے ہیں، اور دوبارہ مولانا صاحب کے نعرے :غلام ہیں غلام ہین"کے جواب میں "رسول کے غلام ہیں" کا جواب دینے لگا۔ میں اسکا جواب سن کر کچھ کہے بغیر بیگم کو ساتھ لیے واپس مڑ گیا، پیچھے سے آواز آ رھی تھی" غلامیئ رسول میں موت بھی قبول ہے، جو ہو نہ عشق مصطفیٰ تو زندگی فضول ہے۔، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں والے جن کے ساتھ خواتین بھی تھیں وہ بھی مایوس ہو کر واپس ٹرن کر رہے تھے جنیھں اب "عاشقان رسول" کی وجہ سے لمبا رستہ کاٹ اس چوک کی طرف جانا تھا، جس سے چند قدم پہلے غلامان رسول نعرے لگانے میں مصروف تھے۔ واقعی " جو ہو نہ عشق مصطفیٰ تو زندگی فضول ہے"۔ - حاجی صاحب نے اپنی گلی برقی قمقموں سے بھری ہوئی تھی جس مین 100 واٹ ک بلبوں کی کافی تعداد بھی جگ مگ کر رہی تھی، میں نے گذرتے ہوئے حاجی صاحب سے کہا واہ جناب بڑی رونق لگائی ہوئی ہے آپ نے، بولے: بس جناب عشق نبی پاک کا تقاضہ بھی نبھانا ضروری ہے نا، میں آن کی پشت کی جانب دیکھا جہاں سے لایئٹوں کی تاریں نکل رہی تھیں، چھوٹی تاریں تو ھاجی صاحب نے اپنے گھر سے اکسٹینشن لے کر لگائی ہوئی تھیں جبکہ بڑے 100 وات کے بلبوں کی تاریں بجلی کے میٹر سے پہلے "کنڈی" میں لگائی ہوئی تھیں۔ میں تعجب سے پوچھا حاجی صاحب یہ کیا، یہ تاریں تو سرکاری تار میں پھنسا کر ڈائیرکٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ بولے : لو جناب ہم نے کوئی ذاتی تقریب کے لیے تھوڑی یہ بجلی کے بلب روشن کیے ہوئے ہیں، عید میلادالنبی کی سجاوٹ کے لیے تو پھر "کنڈی" ہی لگانی پڑتی ہے نہ ۔ میں نے دل میں سوچا کہ واہ، نبی پاک کی ذات کو خراج تحسین اور وہ بھی چوری کی بجلی سے????? اور گھر کی جانب چل دیا۔&lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3837813760206099187?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3837813760206099187/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3837813760206099187' title='21 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3837813760206099187'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3837813760206099187'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2012/02/blog-post.html' title='منانا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔۔!!!!'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>21</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-4677398543716198434</id><published>2012-01-10T22:26:00.000-08:00</published><updated>2012-01-10T22:26:06.913-08:00</updated><title type='text'>تلافی نہیں!!!</title><content type='html'>اس کو آج کل کا ایک نہایت ہی سنگین المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے انتقال پر خوش ہونا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور کسی بھی ایک فرد کے کردہ گناہ کو بنیاد بنا کر اسے متعلق اور منسلک ہر فرد کو اسکا شریک کرنا بھی نہات ہی افسوسناک عمل ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور یہ دونوں ہی باتیں انتہائی خطرناک ہیں جن کا ادراک ابھی تو ہمکو نہیں ہوتا مگر اس دن جس دن ماں اپنے جگر کے گوشوں کو بھی بھول جائے گی تو اس دن ہمارا یہ عمل بھی ہمارے لئے انتہائی مشکل کا باعث بنے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس لئے کسی ایک فرد کے گناہ کو بنیاد بنا کر ساری قوم کو مورد الزام نہیں ٹھرانا چاہیے&lt;br /&gt;میں نے &lt;a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Haji_Abdulwahab"&gt;عبد الوہاب صاجب&lt;/a&gt; سے خود سنا ہے کہ اگر کسی فرد نے یہ کہا کہ تمام پنجابی برے ہیں یا فلاں قوم پوری کی پوری ایسی ہے تو روز محشر اس قوم کے ایک، ایک فرد سے اپنے اس کہے کی جس میں وہ پوری قوم مبتلا نہیں تھی اسکی معافی نہیں مانگے گا تب تک خلاصی نہیں ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو اللہ ہم سبکو کو اپنی حفظ امان میں رکھے اور ہر اس عمل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے لئے اس دنیا میں اور اسکے بعد آنے والی دنیا میں پریشانی کا سبب نا بنے&lt;br /&gt;آمین&lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-4677398543716198434?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/4677398543716198434/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=4677398543716198434' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4677398543716198434'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4677398543716198434'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2012/01/blog-post.html' title='تلافی نہیں!!!'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-2172449699982966943</id><published>2012-01-04T00:01:00.000-08:00</published><updated>2012-01-04T09:24:19.105-08:00</updated><title type='text'>ٹیگ در ٹیگ پوسٹ</title><content type='html'>یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی نے مجھے بھی ٹیگ کیا اور جہاں تک میری یاداشت کام کر رہی 2009 سے مستقل بلاگ پڑھ رہا ہوں پہلے میری نظر سے ایسی کوئی ٹیگنگ پوسٹ نہیں گذری خیر اچھی بات روایت ہے جاری رہنا چاہیے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے تو ٹیگ کیا ہے &lt;a href="http://hijabeshab.wordpress.com/"&gt;حجاب نے&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;م- 2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اپنی اماں اور اھلیہ کیساتھ حج ان شاءاللہ تعالی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مسلمانوں میں اتحاد ہونے کا انتظار ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;3۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ کا شکر ہے بغیر کسی نقصان کے سال گذر گیا :)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;4۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کوئی نہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;5۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ پو؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;4 اگست 2011 کو اللہ نے بیٹی دی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;6۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;افففففف ٹینشن آفس کی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;7۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;زندگی کیسے صراط مستقیم پر آجائے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ تو تھے میرے جوابات اب میں ٹیگ کرتا ہوں کچھ ساتھی بلا گرز کو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور میں ٹیگ کرتا ہوں اپنے ساتھی بلاکرز کو &lt;a href="http://www.dufferistan.com/"&gt;ڈفر&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://tanya.gulistaneurdu.org/"&gt;تانیہ بی بی&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://adilbaiya.blogspot.com/"&gt;عادل بھیا&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://omer-urdu.blogspot.com/"&gt;اہنا اوے لالا&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://darveshkhurasani.wordpress.com/"&gt;خراسانی صاحب&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تمام کے تمام لوگ جوابات دے دییں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور سب آخر میں سب &lt;a href="http://bakwasiyat-e-shabih.blogspot.com/"&gt;شبہیہ کی بکواس&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-2172449699982966943?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/2172449699982966943/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=2172449699982966943' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2172449699982966943'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2172449699982966943'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2012/01/2009-2012-2012-3-2011-4-2011-5-2011-4.html' title='ٹیگ در ٹیگ پوسٹ'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-5569652047179700707</id><published>2012-01-02T05:41:00.000-08:00</published><updated>2012-01-02T23:03:34.543-08:00</updated><title type='text'>2 جنوری</title><content type='html'>میں نے اسکو پہلی مرتبہ 2001 میں پاکستان کی ایک فرم میں بطور آیچ آر اسسٹنٹ کے دیکھا تھا اس وقت کچھ خاص دھیان بھی نہیں دیا تھا کیونکہ اس وقت میں دفتر کا کام بہت دل لگا کر کیا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور چونکہ وہ ایچ آر میں تھی اور اپنا ٹریک ریکارڈ ماشاءاللہ سے آج تک اتنا شاندار ہے کہ وقت ہر آفس پہنچنا تو کبھی سیکھا ہی نہیں اس لیے ایچ آر والوں سے تو آلویز 36 کا آنکڑا رہتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر کچھ ایسا ہوا کہ میں کمپنی چھوڑ کے 2002 دبئی چلا گیا اور جو اسکو پہلے مرتبہ دیکھا تھا وہ دبئی کی رنگنیاں دیکھ کر دل اور دماغ سے ایسے صاف ہوئی جیسے کچھ تھا ہی نہیں اور اس وقت تک واقعتاً کچھ نہیں تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دبئی میں 2 سال گذار کر واپس پاکستان آگیا اور جاب کی تلاش شروع کی جہاں پہلے جاب کرتا تھا وہاں بھی گیا تو پتہ چلا وہاں فی الحال کوئی آسامی خالی نہیں ۔ وہیں پر ایک دوست نے کسی دوسری فرم کا بتایا تو میں وہاں چلا گیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ آفس ڈیفنس میں واقع ہے وہاں پہنچ کر جس پہلی شخصیت سے ملاقات ہوئی تو دینا کے گول ہونے کا ہقین آگیا جی ہاں یہاں بھی وہی ایچ آر والی موجود تھی بس فرق صرف اتنا تھا کی پہلے والی کمپنی میں وہ اسسٹنٹ تھیں اور یہاں پر انکے اسسٹنٹ ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بس اب بہت دیٹیل میں نہیں جاونگا، جولائی 2004 کو پہلی مرتبہ میں نے اپنی ایچ آر منیجر کو پرپوز کیا اور 2 جنوری 2005 کو وہ میری زندگی میں شامل ہوگئ۔ آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے اس بات کو ماشاءاللہ سے سات سال ہوچکے ہیں اس دوران پہت سی جنگیں اور امن معاہدے ہوئے اور اللہ کا شکر ہے بہت اچھی گذر رہی ہے اور ان شاءاللہ آگے بھی اچھی بری جیسی بھی گذرے گی اکھٹا ہی گذرے گی ساتھ میں اپنے بچوں کے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر ایک بات ہے زندگی کے بہترین دن جو تھے وہ جولائی 2004 سے لیکر جنوری 2005 تک کے تھے اسکے بعد سے زندگی مزید سے مزید پہترین ہوگئ اور اس بات کو کہتے ہوئے مجھے فخر ہے کے مجھے ایک انتہائی مخلص غمگسار اور چاہنے والی شریک حیات ملی اللہ اسکو ہمہشہ خوش رکھے&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-5569652047179700707?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/5569652047179700707/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=5569652047179700707' title='18 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5569652047179700707'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5569652047179700707'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2012/01/2.html' title='2 جنوری'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>18</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-4464564486576967002</id><published>2011-10-11T05:06:00.000-07:00</published><updated>2011-10-11T05:06:47.670-07:00</updated><title type='text'>المیہ ہے یہ تو</title><content type='html'>المیہ ہے یہ تو ۔۔۔۔۔۔ اس دور کا سب سے بڑا المیہ جس میں، میں خود بھرپور طریقے سے مبتلا ہوں وہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح سمجھنا ۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; آپ کسی بھی صحیح بات کو غلط سمجھیں گے تو اور غلط کو صحیح تو پھر کسی بھی انسان کا اور اس معاشرے کا ٹھیک ہونا نا ممکن ہی ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بات یہ ہے کہ کل مجھے میرے ایک جانے والے نے کنیڈا سے فون کیا اور کہا کہ تم ایسا کرو یہاں آجاو بڑا سکون ہے بہت آزادی ہے بہت ڈویلویپمنٹ ہے ترقی کی راہیں بہت ہیں ۔۔ میں نے ان سے کہا کے یار یہ سب تو یہاں بھی بہت ہے ۔۔۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو مجھ سے کہا گیا ۔۔۔۔ ارے یار کہاں پھنسے ہوئے ہو یہ بھی کوئی آزادی ہے مرد الگ اور مستورات الگ :(&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مطلب یہ اخذ ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔ اصل آزادی یہ ہے کہ آپ کا جو دل چاہے کریں اور اسپر کوئی روک ٹوک نا ہو ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو بھائی میں باز آیا ایسی آزادی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :(&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-4464564486576967002?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/4464564486576967002/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=4464564486576967002' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4464564486576967002'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4464564486576967002'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/10/blog-post_11.html' title='المیہ ہے یہ تو'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-6942154386815717566</id><published>2011-09-11T01:46:00.000-07:00</published><updated>2011-09-11T01:46:34.424-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='رئیس امرہوی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عقل سلیم'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='چنگیز خان'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='عرب شرفاء'/><title type='text'>ُپیدائش میں ولی کی شرکت</title><content type='html'>جب چنگیز خان کی پیدائش ہوئی ہوگی تو اسکے والدین نے ایک جشن منایا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر انکے والدین اور اس جشن میں شریک کسی بھی فرد کو اس بات کا رتی برابر بھی اندازہ ہوتا کہ یہ چنگیز خان جب بڑا ہوگا تو کیا، کیا کارنامے انجام دیگا تو شائد وہ اسکو اسی دن مار دیتے ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم مسلمانوں میں بھی ایک شخص گذرا ہے حجاج بن یوسف کے نام سے اسکے کارنامے تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اسکا بھی اگر کسی کو پتہ ہوتا تو وہ بھی مار دیا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔ جب کے اسکے خاندان میں تو بڑے بڑے عرب شرفاء شامل تھے اور دین اسلام کے لئے انکی خدمات اور قربانیاں بھی بڑی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب انسان بلکہ جب کسی مسلمان کے گھر کوئی پیدا ہوتا ہے تو ایک جشن ہوتا ہے اسلامی اور سنت کیمطابق کان میں اذان اور اقامت کہی جاتی ہے&lt;br /&gt;پھر عقیقہ ہوتا ہے اور اپنی اسططاعت کیمطابق لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ جس میں سب ہی خوشی خوشی شرکت کرتے ہیں ۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے تو کوئی انجینئر تو کوئی مفکر ہوتا ہے تو کوئی اسکالر تو کوئی رئیس امرہوی جیسا انسان ہوتا ہے سب شریک ہوتے ہیں سب دعا دیتے ہیں ۔۔۔ کہ اللہ پاک عمر دراز کرے ۔۔۔ نیک اور صالح بنائے نصیب اچھا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;والدین اپنے شب و روز اپنی اولاد کے لئے وقف کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ والدین کی اپنی اولاد کے لیے قربانیوں کا کوئی شمار ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بچہ بھی آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جا رہا ہے ابتدائی دونوں میں جب تک والدین کے زیر اثر ہوتا ہے تو بہت ہی شریف اور نیک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بچپن سے لڑکپن کی طرف آجاتا ہے کچھ کچھ اپنی من مانیاں کرنے لگتا ہے والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ آپکے لئے صحیح نہیں ہے اسے آپکا بھی نقصان ہوگا اور دوسرے بھی پریشان ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بچے کے سمجھ میں نہیں آتی اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے اماں باوا میرے تو دشمن ہی ہو گئے اور اسی دوران بچہ لڑکپن کو پھلانگتا ہوا جوانی دیوانی میں داخل ہو جاتا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہت ہی زورآور طریقے سے اور بہت سے اسیے لوگوں کیساتھ مل جاتا ہے کہ جنسے ملنے پر اسکے وہ تمام لوگ جو اس عقیقے میں شامل تھے اسکو سجمھاتے ہیں کہ دیکھوا بیٹا یہ روش ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب یہ صرف تمھاری زات کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورئ قوم کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔ کہ جو لوگ اپنی قابلیت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے وہ اب ۔۔۔۔ کانا ۔۔۔ کمانڈو ۔۔۔ ٹنڈے ۔۔۔ ٹی ٹی ۔۔۔۔ اور لنگڑے کے ناموں سے جانے جا رہے ۔۔۔۔۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جن لوگوں کے ھاتھ میں قلم ہونا چاہیے تھا انکے ہاتھ میں اسلحہ آگیا ۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ میرٹ میں اول ہوتے تھے اب وہ لوگ لوٹ مار اور بھتہ خوری میں اول آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور اصل بات تو یہ ہے بیٹا کہ کسی اور کو نہیں اپنے ہی لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اپنے ہی شہر کو جلا رہے ہیں ۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شرفاء کی ایک جماعت اس بچے جو کہ اب جوان اور بااثر ہوگیا ہے اسکو سمجھاتے ہیں کہ اس وقت لوگ اور خاص کر نوجوان طبقہ اپنے والدین سے زیادہ آپ کی مان رہے ہیں ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو جو اس ٹائم کچھ شریف لوگ ریئس امرہوی جیسے انہوں نے مشورہ دیا اس بچے کو کہ ابھی بھی وقت ہے اگر اس وقت کی جنریشن کو تعمیری کاموں میں لگا دیا جائے تو بغیر کسی خون خرابے کہ انقلاب آجائے ۔۔۔ مگر&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;صد افسوس ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو ہر نشہ ہی حرام اور خطرناک ہے مگر جو سب سے خطرناک ہے وہ ہے جہالت اور طاقت کا نشہ اور اس میں بھی سب سے خطرناک ہے پڑھے لکھے جاہل کا جہالت کے نشے میں چور ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا خمیازہ 2 نسلیں تو بھگت چکیں اور پتہ ہیں کتنوں نے اسکو بھگتانا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اصل بات یہ ہے کہ کسی کی پیدایئش میں کسی ولی اللہ کی شرکت اس شخص کے مستقبل میں ایک اچھا انسان بنے کی دلیل نہیں جب تک کہ وہ انسان خود اسکی کوشش نہ کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کیساتھ جمے رہنے کی دعا نہ کرے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ سب کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-6942154386815717566?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/6942154386815717566/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=6942154386815717566' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6942154386815717566'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6942154386815717566'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/09/blog-post.html' title='ُپیدائش میں ولی کی شرکت'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3028242001406115134</id><published>2011-08-16T14:33:00.000-07:00</published><updated>2011-08-16T15:16:25.417-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کلب بلاگستان، چھبو کی آنکھ ، چھبو آنٹی، جنگستان'/><title type='text'>چھنو آنٹی کا کلب بلاگستان</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;بلاگستان کو جنگستان بنانے والی آنکھوں میں نشہ لئَے چھنو آنٹی کا ذکر تو بہت ہوچکا اب زرا انکے قلبی تعلق والے کلب کا بھی&amp;nbsp;ذکر ہو ہی جائے&amp;nbsp;&amp;nbsp; بلاگستان پہلے امن کا گہوارہ تھا ایک دن اس بلاگستانی محلے میں ایک خارش زدہ کتا داخل ہوا اس کا کام ہر&amp;nbsp;وقت&amp;nbsp;بھونکنا تھا بلاگستان کا ہر بلاگی اس کو دھتکارتا تھا مگر چھنو آنٹی اس کو بہت پسند کرتی تھی ہر طرف کی دھتکار&amp;nbsp;سے &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; تنگ آکر اس نے چھنو آنٹی کے قدموں میں پناہ لی آنٹی کو ایک ہمراز غمگسار مل گیا ، کتا جب بھونک کے تھک &amp;nbsp;جاتا تو چھنو آنٹی کے قدموں میں جا بیٹھتا اور قدموں میں سر رکھ کر سارے شکوے کہہ سناتا کہ کس نے اس پر کیا ستم &amp;nbsp;&amp;nbsp;ڈھائے، چھنو آنٹی اس زبان کی ماہر تھی سب کچھ سن کے تسلی دیتے ہوئے کہتی فکر نہ کر پیارے جب تک میں ہوں &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;پنی ہر بلاگ پوسٹ تجھ پہ وار دوں گی پھر پیار سے اس کی ٹیڑھی دُم کو جھٹکا دیتی بلکل اس طرح جیسے لکڑی کی کاٹھی والے گھوڑے پہ ہتھوڑا مارا جاتا تھا تو وہ دُم دبا کے بھاگتا تھا لیکن یہ بلاگی کتا مالکن کے پیار سے شرما کے &amp;nbsp;مالکن کے قدموں میں منہ چھپا لیتا اور سوچتا اس ظلمی بلاگستان میں کوئی تو ہے جو میرا اپنا ہے مالکن کا دستِ شفقت &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;اس لاغر کو ایک نئی توانائی بخشتا تھا کتا اپنے مالک کے لیئے وفادار لیکن پاکبازوں کے لیئے نجس ہے اس لیئے اے &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;ایمان والو ! کتے کا سوچ کے 313&amp;nbsp;&amp;nbsp;مرتبہ لاحول پڑھ کے پھونک مارا کرو غیبی پھونک ضرور اثر کرے گی اس لیئے &amp;nbsp;کہ کتا جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اس کا مالک بھی نظر نہیں آتا مگر اس کی باتیں کتوں پر اثر کرتی ہیں کتے کو ذلیل و خوار کرنے کی ترکیبوں پہ باقی باتیں پھر ہوں گی اس وقت لاحول پڑھتے ہی کتا مالکن کے پاس چلا گیا ہے اس &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;پوسٹ کی شکایت لگانے رب راکھا ۔۔۔ &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3028242001406115134?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3028242001406115134/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3028242001406115134' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3028242001406115134'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3028242001406115134'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/08/blog-post_16.html' title='چھنو آنٹی کا کلب بلاگستان'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-4730784776081320374</id><published>2011-08-10T10:56:00.000-07:00</published><updated>2011-08-10T18:26:27.552-07:00</updated><title type='text'>انٹ کی شنٹ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'Courier New', Courier, monospace;"&gt;ایسے ہی یہ پوسٹ بھی انٹ کی شنٹ ہے دیکھیں کہ کس، کس کے جاکے لگتی ہے :ڈ&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="line-height: 14px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'Courier New', Courier, monospace;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="line-height: 14px;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;بدصورت ہونا اتنی بری بات نہیں جتنا دماغی طور پر بدصورت ہونا۔ آپ میں یہ دونوں خامیاں اتم طور پر پائی جاتی ہیں۔ کیا آپ اپنی احساس کمتری کا اسی طور پرچارک کرتی رہیں گی؟ ویسے اگر آپ نے بچپن میں اس درخت سے ایک دفعہ بھی ہانڈی کھال لیتی ہوتی تو عقل اور شکل دونوں کو فرق پڑتا۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;خیر اب بچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چک گئی کھیت۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;دراصل آپ کے اندر اتنا گند ہے کہ کینیڈا تو دور کی بات آپ تو جنتی مسلمانوں میں بھی کیڑے نکال دیں۔ وجہ ویسی ہی ہوگی کہ جیسے آپ کینیڈا کے لئے ذلیل ہو خوار ہو کر ویزہ حاصل کر سکیں ویسے ہی جیسے آپ کے اعمال اور اخلاقیات ہیں جنت کے لئے بھی تردد کرنا ہو گا۔ پانی ابال کر ہی پیچئے مگر خدارا یہ پتوں کا سفوف سادہ ہی پھانکئے کہ چہرے پر نہ صحیح دماغ کا گند تو صاف ہو۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;جیسے آپ اپنا تعفن اور بغض اپنی علمی تحاریر سے باہر نہیں رکھ سکتیں ویسے ہی قاری سے توقع نہ رکھیں نہ کسی معتدل تبصرہ نگار کو جانور کی طرح پڑیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: 'lucida grande', tahoma, verdana, arial, sans-serif;"&gt;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-4730784776081320374?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/4730784776081320374/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=4730784776081320374' title='15 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4730784776081320374'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4730784776081320374'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/08/blog-post.html' title='انٹ کی شنٹ'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>15</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3055822066553046348</id><published>2011-07-25T01:49:00.000-07:00</published><updated>2011-07-25T05:32:25.519-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ٹھوکو بلاگرز'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن خیال بلاگرز'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='جلابی بلاگرز'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ٹھرکی بلاگرز'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مرد نما عورت بلاگرز'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقسامِ بلاگرز'/><title type='text'>اقسامِ بلاگرز</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="81" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="115" style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔ ہاں تو آج بات ہوگی کچھ بلاگرز کی اقسام کے بارے میں اور یہ سراسر میری اپنی ذاتی آرا ہیں کوئی اسکو ذاتی نہ لے اور اگر لے بھی لے تو اسکی مرضی ۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="88" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="127" style="text-align: right;"&gt;ویسے تو جی کئی اقسام کے بلاگرز ہیں ۔۔۔ مگر بات ہوگی صرف اردو بلاگرز کی کیونکہ انگریزی بلاگ تو میں پڑھتا نہیں ہوں بس دیکھتا ہوں :)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;پچھلے ایک سال سے میں تقریباً روزآنہ کی بیناد پر بلاگ پڑھ رہا ہوں اور کسی بھی بلاگ کو پڑھنے کے لئے اردو سیارہ کا سہارا لیتا ہوں کے وہاں آسانی سے کسی بھی بلاگ کی رسائی ممکن ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اس عرصے میں جو میں نے محسوس کیا بس آج اسکا ہی ذکر خیر ہوگا یہاں۔۔۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="91" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سب سے پہلے بلاگرز کی اقسام !&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="93" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="89" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="114" style="color: red;"&gt;&amp;nbsp;&lt;strong&gt;فلسفی بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بلاگز کو تو شائد خود بھی کچھ نہیں پتہ ہوتا کے وہ کیا لکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسکا کام ہوتا ہے صرف لکھنا چاہے کسی کو سمجھ آئے یا نا آئے اور ایسے بلاگروں کی تعداد بہت ہی کم ہے میں سب کا نام تو نہیں لکھوں گا مگر آجکل ہمارا ایک بہت ہی اچھا دوست ایسی ہی بلاگنگ کر رہا ہے اگر اپنا اوے شاہ پڑھے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میں نے اسکو کہا ہے ۔۔۔ باقی وہ خود بہت سمجھدار ہے :)&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="80" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="92" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="111" style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;بھوکے بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان بلاگروں کی تعداد اب کچھ ترقی کی جانب جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان میں بلا تخصیص مرد اور خواتین سب شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنکا مقصد کچھ نہیں ہوتا سوائے اپنے بلاگ کی ٹریفک بڑھانے کے ۔۔۔۔ اور آپ یقین کریں یہ ایک ایسی لت ہے جسکا اگر ابھی سے علاج نہیں کیا تو یہ بلاگرز سے وہ، وہ لکھاوائے گی اور وہ، وہ کروائے گی کہ پوچھو مت۔&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="95" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="95" style="text-align: right;"&gt;ایسا بلاگرز لکھتے ہوئے نا کچھ سوچتا ہے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے اسکا مقصد صرف اپنی بکواس لکھنے کا ہوتا ہے چاہے اس کے لکھنے سے اسکا انسان ہونے میں بھی شک ہونے لگے اور بعض اوقات تو کچھ خواتین بلاگرز بھی ایسا لکھتی ہیں کے گمان ہوتا ہے کوئی انتہائی پڑھا لکھا جاہل انسان اس بلاگ کو لکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی تازہ مثال تو ماضی قریب میں ایک مکھی کی بھنبھناہٹ سے لی جاسکتی ہے ۔۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="96" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="110" style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;مرد نما عورت بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اب کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ کہونگا تو وہ کیا کہتے ہیں کہ یہ بات تیر کی طرح لگے گی مقام خاص پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ بلاگرز ہیں جنکا کام ہی لوگوں کا زہن خراب کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بقول ہمارے ایک دوست کے ۔۔۔۔۔۔ یہ احساس محرومی کی ماری بلاگرز ہوتی ہیں انکو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہیے ۔&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="100" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="98" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="108" style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;نفیس بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بلاگروں کی تعداد انتہائی قلیل مقدار میں ہے ۔۔۔۔ اور بلاشبہ یہ ہی چند بلاگرز ہیں جنکی وجہ سے قارئین تک حقیت پر مبنی تحریں پہنچتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انکا مقصد واقعی کسی اچھی بات کی ترویج کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ان میں جاوید گوندل صاحب ۔۔۔ ابو شامل، تلخابہ اجمل صاحب، ڈاکٹر جواد، اپنا عمر لالا، حجاب، تانیہ رحمان وغیرہ ۔۔۔۔۔ اور بھی بہت نام ہیں مگر ان نامون کی تعداد پھر بھی اپر دی گئی قسم بلاگرز سے بہت کم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;div closure_uid_dxr97c="88"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="101" style="text-align: right;"&gt;&lt;div closure_uid_dxr97c="74"&gt;&lt;span closure_uid_dxr97c="79" closure_uid_ndnmj4="107" style="color: red;"&gt;&lt;strong closure_uid_dxr97c="95"&gt;&lt;span closure_uid_dxr97c="100" style="color: red;"&gt;&lt;span closure_uid_dxr97c="76"&gt;دبنگ&lt;/span&gt;&amp;nbsp;بلاگرز&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;strong&gt;&lt;span style="color: blue;"&gt;‘ ٹھوکو بلاگرز‘(&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;span closure_uid_dxr97c="102" style="color: blue;"&gt; بلاگرز لوگوں کے اندیشوں کو مدِ نطر رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ نام تبدیل کردیا ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ اپنے&lt;/span&gt; &lt;span style="color: blue;"&gt;استاد کو تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا)&lt;/span&gt;. یہ صرف چند بلاگرز ہیں اور انکا مقصد ان بلاگرز کی ٹھوک ٹھوک کے بجانا ہے جنکا مقصد لوگوں کے زہنوں کو خراب کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ بہت کم لکھتے ہیں مگر جب بھی لکھتے ہیں تو سمجھ میں نہیں آتی کہ کس کی بجا رہے ہیں ۔۔۔ ان میں سر فہرست تو اپنا استاد ہے اسکے بعد ایک ایسا بلاگر ہے جسکا نام تو ایویں چول سا ہے اور شکل کو پیلیا ہوا&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ایک اپنے ڈاکٹر صیب ہیں ایک جو کبھی بدتیمز تھا اب نہیں رہا ۔۔۔۔ ایک وقار اور جو سب سے زیادہ چھوٹا ہے لیکن بنا ہوا انکل سب کا، اپنے دوست شاکر عزیز ۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ ایسے ہی ہیں بلاگرز دنیا میں جیسے کچھ لوگ ہوتے ہیں امن کمیٹی میں اور جنکا کام ہوتا ہے کہ جو کوئی امن خراب کرنے کی کوشش کرے اسکی تشریف لال کردیں ان اقسام کے بلاگرز کا بھی یہی کام ہوتا ہے کہ جو کوئی بلاگرز ورلڈ میں نقص امن کا سبب بنتا ہے یہ اسکی لال کردیتے ہیں مگر ایسے کہ لال بھی ہوجاتی ہے آواز بھی نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="102" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="105" style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;جلابی بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو بڑی ہی عجیب قسم کے بلاگرز ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اپنی پوسٹس ایسی بھینکر سپیڈ میں لکھتے ہیں جیسے کسی کو جلاب لگے ہوئے ہوں ۔۔۔۔ مطلب اور مقصد کچھ بھی ہیں ۔۔۔۔۔ بس سال کے آخر میں گنتی ہوئی تو پتہ چلا کے سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اسکو 6 سے ضرب دے دیں ۔۔۔ ارے بھائیوں مہینے میں ایک ہی پوسٹ لکھو مگر با معنی لکھو :)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="103" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;روشن خیال بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ بلاگرز اپنی تعریف آپ ہیں انکا بلاگ پڑھنے کے بعد مجھے تو غسل کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اور کلمہ بھی پڑھتا ہوں ساتھ میں کہ دل و دماغ سب پاک ہو جائے&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان بلاگرز میں بڑے ہی اعلی قسم کی شخصیات شامل ہیں ۔۔۔۔۔ اگر یقین نہ آئے تو کچھ دن صبر کریں کہ ابھی تحقیق جاری ہے اور گرمیاں بھی کچھ خاص شروع نہیں ہوئی ہیں وہاں :)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="116" style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;پست ذہن بلاگرز&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔(یہ لوگوں کی سوچ ہےکہ یہ پست زہن ہیں) آہ یہ وہ بلاگرز ہیں جو بیچارے گنتی کے ہی ہیں ۔۔۔۔۔ اور یہ کہتے ہیں کہ بھائی جیسا کہا گیا ہے صرف ویسا ہی کرو اپنی عقل نہیں لگاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھ تو گئے ہونگے جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو قلم کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا تعلق انکے خالق سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں بہت ہمارے سب سے محترم بھائی سعد المعروف بنیاد پرست اور ابو نجمہ سعید صاحب۔ سلیم صاحب ، عمران اقبال اور ایک ہیں خامخواہ قابل زکر ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="117" style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;ٹھرکی بلاگرز&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بلاگرز، بلاگرز کم اور کمنٹیٹر زیادہ ہیں ۔۔۔۔۔ انکا مقصد مرد بلاگرز کے بلاگ پر بلاوجہ کی تنقید اور خواتین بلاگرز کے بلاگ پر جا کر اپنی ٹھرک کو پورا کرنا ہوتا ہے جاہے وہ خواتین بلاگرز انکی ٹوں کی ٹوں ہی نہ کر دیں اور اگر کہیں وہ خواتین روشن خیال ہوں تو پوچھیں مت :)&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="78" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="78" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_ndnmj4="128" style="color: black;"&gt;&lt;span style="color: red;"&gt;&lt;strong&gt;صلح جو بلاگرز&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt; ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ بلاگرز ہیں جو بیچارے بس اسی کوشش میں ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی بلواہ نا ہو اگر کچھ ہو جاتا ہے تو یہ کوشش کرکے صلح نامہ کرواتے ہیں انمیں جو بلاگرز ہیں وہ میرے خیال سے شازل سمیر اور اپنے وکیل صیب ہیں ۔۔۔۔۔ اور بھی ہونگے مگر میں نے انکی تحریروں کو ایسا ہی پایا ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="78" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="78" style="text-align: right;"&gt;اور بھی کئی اقسام کے بلاگرز ہیں مگر یہ وہ چند اقسام ہیں جو میں نے لکھی ہیں جنکو میں نے پڑھا ہے اور لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ لکھنے کا کوئی مقصد ہی نہیں رہا&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_ndnmj4="118" style="text-align: right;"&gt;ہاں میں کس قسم کا بلاگر ہوں ۔۔۔ تو بھائی میں تو ابھی اس تالاب میں اترا ہی نہیں ہوں جس کو بلاگنگ کہتے ہیں :)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3055822066553046348?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3055822066553046348/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3055822066553046348' title='26 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3055822066553046348'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3055822066553046348'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/07/blog-post.html' title='اقسامِ بلاگرز'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>26</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3728010434914076248</id><published>2011-06-15T03:56:00.000-07:00</published><updated>2011-06-15T03:56:13.283-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='علامہ اقبال ، محاسبہ ، پر اثر ، گونگی ہوگئی آج زباں'/><title type='text'>گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے</title><content type='html'>ویسے تو کئی تحرریں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھتے ہی کچھ دیر کے لیئے ہی سہی اپنا اثر کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو پہلی مرتبہ پڑھ کر سمجھ میں ہی نہیں آتی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر کچھ تحاریر ایسی ہوتی ہیں جنکو انسان غیر ارادی طو پر کئی کئی مرتبہ پڑھتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ آیا وہ تحریر اسکو سمجھ آرہی ہے کہ نہیں ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لیکن جب سمجھ آتی ہے تو لگتا ہے کہ جیسے شاعر نے میری روزآنہ کی زندگی کو سامنے رکھ کر یہ اشعار لکھے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ اسطرح کل میرے ساتھ بھی ہوا ۔۔ میں آفس سے نکلا تو ایک صفحہ کسی کاپی کا میری گاڑی کی بونٹ پر پڑا ہوا تھا مین نے اسکو اٹھا کر دیکھا تو اس پر اردو کی نظم تحریر تھی&lt;br /&gt;میں نے وہیں کھڑے کھڑے پڑھا اور وہ کاغذ لپیٹ کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے شک تو تھا کہ یہ نظم انکی ہی ہوگی جو میں سمجھ رہا ہوں ۔۔۔ گھر پہنچ کر پہلا کام یہی کیا گوگل میں سرچ کیا تو نام آیا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں اسکو پڑھنے کہ بعد سوچتا رہا کہ واقعی لگتا ہے کہ اللہ پاک کی کوئی خاص رحمت تھی اس شخص کیساتھ جسکو اس دور میں یہ ہنر بخشا کہ وہ لوگوں کہ لیے مشعل راہ بن سکے کسی جگمگاتے ہوئے جگنو کی طرح۔  &lt;br /&gt; &lt;br /&gt;ویسے تو اقبال رحمۃ اللہ عیلہ کی تمام شاعری ہی بہت پر اثر ہے مگر یہ نظم تو ماشاءاللہ سے بہت ہی خوب ہے اور جو اگر میں اپنا زرا سا بھی محاسبہ کرلوں تو شائد زندگی بدل جائے  اس لیے آپ سب کے ساتھ بھی شئیر کر رہا ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اقبال فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے&lt;br /&gt;ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ بات نہیں کہ مجھ کو اس ہر یقیں نہیں&lt;br /&gt;بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;توفیق نہ ہوئی مجھ کو اک وقت کی نماز کی&lt;br /&gt;اور چپ ہوا موزن اذاں کہتے کہتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کسی کافر نے جو پوچھا کہ یہ کیا ہے مہینہ&lt;br /&gt;شرم سے پانی ہوا میں رمضاں کہتے کہتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے شیلف میں جو گرد سے اٹی کتاب کا جو پوچھا&lt;br /&gt;میں گڑھ کیا زمیں میں قرآں کہتے کہتے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے&lt;br /&gt;یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3728010434914076248?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3728010434914076248/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3728010434914076248' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3728010434914076248'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3728010434914076248'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/06/blog-post_15.html' title='گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-7747099766787360217</id><published>2011-06-12T00:11:00.000-07:00</published><updated>2011-06-12T00:11:00.847-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='استانی، اٹھارویں شق، سینگ، تھپکی،'/><title type='text'>استانی، مائی ورک اور پیٹھ پہ تھپکی۔</title><content type='html'>ہمارا ایک دوست اپنی والدہ کے انتقال کے بعد یتیم ہوگیا اور اسکی والدہ مرتے، مرتے ایک عدد ہر جگہ سینگ پھنسانے والی چیز اسکے حوالے کر گئیں ایسے میں ایک محلے کی آنٹی نے اس سینگ پھنسانے والی چیز کو اپنی زیر تربیت(جامہ نہیں )رکھ رکھا لیا۔ ساتھ ساتھ اسے وہ پڑھا بھی رہی ہیں کہ اسکی والدہ نے اس شعبہ پہ کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اس سینگ پھنسانے والی چیز نے استانی محترمہ سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس ایسی یہ کیا تکنیک ہے جس سے آپ سامنے والے کو دیوار سے لگا دیتی ہیں۔ بلخصوص احکام اسلام میں تو کوئی آپ کے نقطہ نظر کو کاٹ ہی نہیں سکتا۔ سبکو چپی لگ جاتی ہے(اگر چہ اسکی یہ چپی آپکو پاگل اور نفسیاتی مریض سمجھنے کی وجہ سے ہوتی ہے) استانی نے پہلے  تو کنواریوں کی طرح نخرے دکھائے (کیونکہ اصل زندگی میں انکو نخروں کا موقعہ نی ملا۔ جسکے سامنے  نخرہ کیا وہ پلٹ کر واپس نی آیا )اور کہا:کیا ہم نے یوں ہی پھرا یا ہے اپنا دماغ؟! عرصہ ہائے دراز لگا تب جاکے پھرا ۔ سینگ پھنسانے والی چیز خوشامد کرتے کرتے جب تھک گیا تو اس نے ترپ کا یکا بن کے  آخری چال چلی اور استاد کے تجویز کردہ نسخہ(نسخہ نی بے دوا ) کی پیش کش کی جس کو سنتے ہی وہ "ٹھنڈی" ہوگئیں (استاد کیسی دوا بتائی ہے وہ تو ٹھنڈا کر دیتی ہے) اور فرمانے لگیں:سامنے والے نے جو بات  یا آیت پیش کی ہے اسکو لیکر بیٹھ جاؤ۔ اور عقلی طور پہ جو بعید سے بعید اعتراض یا اعتراضات اس پہ ہو سکتے ہوں وہ سب کر ڈالو ۔ سامنے والے کی خود ہی چپی لگ جائے گی۔ "اصول کافی حد تک میں سمجھ گیا ہوں بس ایک آدھ مثال اگر آپ دے دیتیں تو میں تو میں بصیرت کے درجہ پہ فائز ہوجاتا"۔ "مثال چاہیئے؟ لو مثال بھی لو ۔ یہ دیکھو میں نے ایک ڈاکٹر کو کیسے دیوار سے لگایا ہے جس نے ایک آیت پیش  پیش کی تھی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;۔"آپ نے میری اس بات کا جواب نہیں دیا کہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک جاہل مرد موجود ہے جو کسی گائوں سے شہر میں نووارد ہے اور ایک عورت ہے جو اسی شہر میں رہتی ہے پڑھی لکھی ہے ، تمام فہم و فراست رکھتی ہے، جدید علوم سے واقف ہے. وہ ایک بہتر گواہ ہوگی یا وہ جاہل مرد جو اس شہر کی گلیوں سے نا آشنا"۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; جاؤ گھر جا کے اس ضابطہ پہ خوب مشق کرو۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب وہ سینگ پھنسانے والی چیز ٹھری نری جاہل ۔۔۔۔۔ الف سے لام لا لٹو نہیں پتہ اسکو وہ سیدھے پمارے دوست کے پاس آیا اور آنٹی کی دی ہوئی مشق کو انجام تک پہچانے کی دوخواست کی پہلے تو ہمارے دوست نے منع کیا کہ ، نہ کر اوے کہ اگر میں نے اسکا جواب لکھ دیا تو آنٹی نے تجھے دیوار کے ساتھ لگا کے وہ کرنا ہے کہ وہاں وہاں تیرے زخم آئیں گے کہ کسی کو دکھا کہ ہمدردی بھی نہیں لے سکے گا۔۔۔۔۔ لیکن نہیں بھئی سینگ پھنسانے والی چیز کوئی آخری ڈھیت مانا ہی نہیں تو پھر ہمارے دوست کہا چل جیسی تیری مرضی  ۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہمارا دوست نیٹ پہ بیٹھا اور مشقی میٹر کیلئے گوگل بگھوان کو عرضی دی۔ انہوں نے جواب میں مندرجہ ذیل "مواد"باہر پھینکا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;۔"دودن پہلے میرے سسر صاحب نے نکاح فارم کی ایک کاپی کروائ اور کہا کہ وہ پینسل سے &lt;br /&gt;بھر کر یہ کاپی دیں گے اور اصل نکاح فارم اسی طرح بھرا جائے گا۔ جب وہ فارم واپس آیا تو ہم سب کو ایک خوشگوار حیرت ہوئ کہ انہوں نے فارم کی ایک ایک شق کو پر کیا تھا۔ اور شق نمبر اٹھارہ جسکے تحت طلاق کا حق بیوی کو تفویض کیا جاتا ہے اس میں ہاں لکھا تھا"۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور ساتھ ہی یہ جواب لکھ کر سینگ پھنسانے والی چیز کے حوالے کر دیا۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فرض کیجئے کہ ایک پڑھے لکھے جوڑے کی شادی اس شق کے ساتھ ہوتی ہے۔ دونوں بڑی محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے جذبہ کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں ۔لوگ بھی اس جوڑے پہ رشک کرتے ہیں۔ شادی کے بعد شوہر بیوی کو ملازمت کا نہ صرف اختیار دیتا ہے بلکہ اپنے سے بھی اچھی ملازمت اس کیلئے تلاش لیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد شوہر مزید کوشش کر کے بیوی کیلئے بیرون ملک بھی ایک ملازمت تلاش لیتا ہے۔ بیوی بیرون ملک چلی جاتی ہے۔ اپنی عمدہ کار گذاری کی وجہ سے اسے اس سے بھی اچھی ملازمت دوسری جگہ مل جاتی ہے۔شوہر سے بھی رابطہ میں رہتی ہے۔ ادھر میاں بھی اپنے لئے باہر کی ملازمت تلاش کرتا ہے، دوران تلاش وہ ٹارگیٹ کلنگ کی زد میں آتا ہے اور اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھتا ہے۔ رہی سہی نوکری بھی چلی جاتی ہے۔ بیوی ضروری کاموں کی وجہ سے وطن نہیں آپاتی البتہ شوہر کا سرمایہ ختم ہوجانے کے بعد علاج کا تھوڑا خرچہ اٹھاتی ہے۔ سوئے اتفاق یہ کہ ایک بار میاں اپنا منھ دھوتا ہے اور بجائے پانی کی بوتل اٹھانے کے تیزاب کی بوتل اٹھا تا ہے۔ گرمی زیادہ ہونی کی وجہ سے چھینٹے نہیں مارتا بلکہ بوتل چہرے پہ انڈیلتا ہے ۔علاج بسیار کے بعد جان تو بچ جاتی ہے مگر چہرہ مکروہ ہوجاتا ہے۔ بیوی ضروری کام نپٹا کر وطن آتی ہے ۔ شوہر کی یہ حالت دیکھ کر اسکی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ کچھ دن تو برداشت کرتی ہے پر ایک دن شوہر سے کہہ دیتی ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ کیوں؟ ان احوال میں تم مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے۔ لیکن یہ تو میرے ساتھ حادثہ ایسا ہوگیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے؟ یہ میں نہیں جانتی۔میں نے تمہارے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا تھا۔ تمہارے لئے یہاں بھی ملازمت تلاش کی تھی اور باہر بھی۔ اسکا کچھ تو خیال کرو۔ دیکھو میں نے تمہارے چہرے کے علاج میں اتنا پیسا خرچ کیا ہے کہ اتنا تم نے ابھی تک کمایا بھی نہیں ہوگا۔ تم نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک کیا ہے اس پہ میں شکریہ ادا کرتی ہوں لیکن میں اس وقت تمہاری تلاش کی ہوئی ملازمت پہ نہیں ہوں میں تو اپنی قابلیت اور صلاحیت کی وجہ سے اپنا ایک الگ جہان بنا چکی ہوں۔ لیکن میرا کچھ تو سوچو، میرا آگے کیا ہوگا میرے تو رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ یہ  سر دردی تمہاری ہے۔ تو اب تم کیا چاہتی ہو؟میں شق اٹھارہ میں دیا ہوا حق استعمال کرنا چاہتی ہوں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سوال یہ ہے کہ جب تک میٹھا میٹھا رہا بیوی ہپ ہپ کرتی رہی جونہی کڑوا شروع ہوا بیوی نے تھو تھو کرنا شروع کر دیا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب وہ سینگ پھنسانے والی چیز اپنا کام استانی کو دکھانے کیلئے لے گئے تاکہ پیٹھ پہ "یو آر اے سمارٹ بوئے کے تعریفی جملہ کے ساتھ شاباشی کی تھپکی لیں۔ انہوں نے کام ملاحظہ کیا۔ بعد ملاحظہ کے حکم دیا کہ ہاٹھ اٹھاؤ۔  اٹھا لئے۔ "دیوار سے لگ جاؤ"۔ لگ گئے۔ انہوں نے  "دیوار سے لگانے" کے بعد تھپکی لی اور  پیٹھ پہ جو بجائی ہے ( اور صرف تھپکی ہی نہیں بیلن چکلا جھاڑو  گلاس۔ و علی ہذا القیاس) تو سینگ پھنسانے والے بیٹھنے اور سونے کے لائق نہیں رہے دو دن سے گھوڑے کی طرح کھڑے کھڑے سورہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پیٹھ پہ وہ والی تھپکی کے بجائے یہ والی تھپکی کیوں پڑی؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-7747099766787360217?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/7747099766787360217/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=7747099766787360217' title='10 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7747099766787360217'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7747099766787360217'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/06/blog-post_12.html' title='استانی، مائی ورک اور پیٹھ پہ تھپکی۔'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>10</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-8682399425185945124</id><published>2011-06-07T12:09:00.000-07:00</published><updated>2011-06-07T12:10:38.172-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دین سے دوری ، روشن خیالی ، آزاد معاشرہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='قرآن'/><title type='text'>تمام خداوں سے بہتر خدا۔</title><content type='html'>ہم سب ایک شخص کے نہایت عجیب و غریب استدلال کچھ دنوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں پہلے وہ عقل استعمال کرتا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ عقل استعمال ہی ایک نیوٹرل بندے اور غیر مسلم کے پوائنٹ آف ویو سے کی تھی۔ پھر وہ خدا کا انٹرویو کر آتا ہے اپنی لاشعوری کوشش کہ اس کو لا دین نہ سمجھا جائے۔ عجب تضاد کا شکار ہے۔ پھر برسوں گمنامی میں سونے والا ایک اور شخص جو کہ نہایت دعووں کے ساتھ گیا تھا پھر نمودار ہوتا ہے اور اپنی لا یعنی باتوں کا آغاز کر لیتا ہے حتی کہ غیروں کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی مانند دوسرے بلاگز پر پرائے پھڑے  میں ٹانگ اڑا لیتا ہے اور واپس جا کر مالک کو اپنی کارگزاری سنا رہا ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;یہ شخص جا بجا ترجمہ کرتا ہے اور اخلاقی جرات کا یہ عالم ہے کہ کہیں بتانے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ سب اس کا لکھا نہیں عجب فراڈ انسان ہے۔ فلپائن میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ جلا لیا۔ آگے کی کہانی اس کو خوب معلوم ہے۔ اللہ واقعی بے نیاز ہے مگر اگر وہ اتنا ہی بے نیاز ہے تو لوگوں کو حساب کیونکر لے گا؟ جنت قدموں تلے رکھنے والیوں کو ایک &lt;a href="http://www.facebook.com/#!/notes/abunajma-saeed/%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%AC%D9%86%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AC%D9%88%D8%AA%DB%8C/167890713275022"&gt;یہ&lt;/a&gt; بھی پڑھ لینا چاہئے۔ کیونکہ بارہا ثابت ہو چکا کہ اس نے قران سمجھنا تو دور کی بات ترجمے سے پڑھ بھی نہیں رکھا۔ اور ہم تمام لوگوں کے لئے درج کی گئِ تمام آیات اہم ہیں مگر اہم ترین آخری والی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٩﴾ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿١٠﴾ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ﴿١١﴾ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-8682399425185945124?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/8682399425185945124/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=8682399425185945124' title='28 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/8682399425185945124'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/8682399425185945124'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/06/blog-post_07.html' title='تمام خداوں سے بہتر خدا۔'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>28</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-2765098832391547186</id><published>2011-06-06T07:30:00.000-07:00</published><updated>2011-06-06T08:42:43.621-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مینڈکی'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='اقبالی بیان کنویں کے مینڈک'/><title type='text'>اعترافی اور اقبالی بیان</title><content type='html'>ایک مینڈکی نے خفیہ طور پر اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر ہمارے اوے چینل کے نمائندے کو اپنا اعترافی اور اقبالی بیان ارسال کیا ہے جس کو من و عن آپک قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا کسی بھی قسم کی مماثلت کو غیر اختیاری مماثلت سمجھا جائے &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بقول اور فعل مینڈکی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آپ میں سے اکثر لوگ مجھے اچھی طرح جانتے اور پہچا نتے ہیں اور جو نہیں جانتے میں ان کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں ایک مینڈکی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آئیے میں آپ کو مزید اپنے بارے میں بتاتی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرا مسکن پانی کے قریبی علاقوں میں ہوتا ہے۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں اور وہاں کی مخلوقات سے مجھے سخت نفرت ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میری وہ خوبی جو مجھے دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے میری پُھدکنا۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر ہر وقت میں تو بس پھدکتی رہتی ہوں۔ حاسدین اسی بات سے ہی بہت جلتے ہیں کہ میں گھر آرام سے کیوں نہیں بیٹھتی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسرے مینڈکوں کی طرح میرے دل کے بھی تین خانے ہیں۔ ایک خانہ "اُن" کیلیے اور باقی دو خانے میرے دو دوستوں ع غ کیلیے!&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے سر میں زہریلے غدود پائے جاتے ہیں جو مجھے دشمنوں کا نوالہ بننے سے محفوظ رکھتے ہیں اور میری سوچ کو زہریلا کرتے ہیں۔ میری زبان کافی لمبی اور زہریلی ہے جس کی مدد سے میں اپنے آس پاس چھوٹے موٹے کیڑوں کو ایک پل میں چٹ کر جاتی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جب موافق موسم شروع ہوتا ہے تو میں راتوں کواٹھ کر ٹرٹرانا شروع کر دیتی ہوں اور ارد گرد کے مینڈک جو کہ کنویں کے مینڈک نہیں ہوتے، میری پکار پر لبیک کہتے ہوئے میری طرف لپکتے ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں دیگر جاہل اور ان پڑھ مینڈکیوں کے بر عکس صرف ایک بچے کی قائل ہوں اور دیگر ہزاروں انڈے ضائع کر دیتی ہوں۔ میں ان جاہلوں کو میٹامارفوسس کا عمل اور اس کے نقصانات بھی سمجھاتی رہتی ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;حد سے زیادہ ٹرٹرانے کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے مجھے زکام ہوا جو کہ اب بخار میں تبدیل ہو چکا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-2765098832391547186?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/2765098832391547186/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=2765098832391547186' title='23 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2765098832391547186'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2765098832391547186'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/06/blog-post.html' title='اعترافی اور اقبالی بیان'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>23</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-9204810926126278439</id><published>2011-05-24T00:11:00.000-07:00</published><updated>2011-05-24T00:11:33.862-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='وساوس'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='کاپی شدہ'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مکہ کے کفار'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='قرآن'/><title type='text'>کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟</title><content type='html'>ہمارے ایک درینہ دوست نے وہ تحاریر جو کہ آج کل لوگوں کے زہنوں کو منتشر کرنے کے لیے لکھی جا رہی ہیں ، کہ جواب میں کچھ تحقیق کری ہیں ان شاءاللہ ان کی یہ تحریر  بہت فائدہ دے گی کچھ اقتباسات یہاں لکھ دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;  یہ بہتان سب سے پہلے مکہ کے کفار و مشرکین نے قرآن پر لگایا تھا، اللہ نے قرآن  ہی میں انکے ان تمام وساوس کا جواب دے دیا تھا، پھر بھی بعد میں یہود ونصاری نے باوجود اپنی کتابوں میں ہی اس کتاب کے سچی ہونے کی گواہیوں کے’ محض اپنے عناد و تکبر کی وجہ سے  اسے دوہرایا اور آج بھی  انکے پیروکار جان بوجھ کر یا جہالت میں ان وساوس کو کاپی کرتے آرہے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://bunyadparast.blogspot.com/2011/05/blog-post_9854.html"&gt;باقی کی تحریر اس بلاگ پر پڑھی جاسکتی ہے &lt;/a&gt;اور تبصرے بھی اس بلاگ پر کئے جا سکتے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جزاک اللہ خیر&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-9204810926126278439?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/9204810926126278439/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=9204810926126278439' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9204810926126278439'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9204810926126278439'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/05/blog-post_4792.html' title='کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-5201903653937974513</id><published>2011-05-10T01:09:00.000-07:00</published><updated>2011-05-10T01:11:53.933-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='روشن خیالی، ھیتھرو، لندن، مرد، عورت، بی بی سی'/><title type='text'>جو یہاں کرو تو حرام اور وہاں ہوا تو حلال</title><content type='html'>یہ بھی صرف ایک خبر ہے اور صرف یہ جانے کے لئے کہ ھیتھرو پر کتنے فیصد روشن خیال اور ترقی پسند لوگ ہوتے ہیں اور کس ملک کے شہر میں موجود ہے یہ پوائی اڈاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے فیصد تاریک خیال بستے ہیں ان روشن خیالوں کے درمیان&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور ایک بات اور برائے مہربانی اعداد و شمار مصدقہ ہونے چاہیے نیز یہ بھی اگر معلوم چل جائے کہ اسکی آخر وجہ کیا تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور آخر میں ایک بات یہ کہ اگر اسطرح کبھی بھی کہیں بھی مردوں کا کنوارہ پن جانچا ہے انہوں نے تو وہ حوالہ بھی مل جاتا تو مشکل آسان ہو جاتی بہت سے لوگوں کی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انیس سو ستر کے عشرے میں برطانیہ کے ويزا ضابطوں کے تحت جنوبی ایشیائی خواتین کے کنوارے پن کی جانچ کرنے کے بارے میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ویزا دینے کے لیے لڑکیوں کی دوشیزگی کی جانچ کا معاملہ جتنا سمجھا جا رہا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فروری 1979 میں کنوارے پن یا دوشیزگی کی جانچ کے بارے میں انکشاف اور ہنگامہ آرائی کے بعد برطانوی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی تھی۔ حکومت نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس طرح کے ایک دو معاملے ہوئے تھے لیکن آسٹریلیائی محققوں کے ہاتھ بعض ایسی فائلیں آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کم ازکم 80 بھارتی خواتین کو برطانیہ آنے کے لیے اس ہتک آمیز عمل سے گزرنا پڑا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس انکشاف کے بعد اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت معافی مانگے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;برطانوی قانون کے تحت تیس برس گزرنے کے بعد اس طرح کی فائلوں کی کاپی نکالنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اسی کے تحت آسٹریلیائی محققوں نے کئی محکموں سے دستاویزات حاصل کی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک سے شادی کر کے برطانیہ میں جا کر بسنے والی خواتین کے کنوارے پن کی جانچ کے ایک دو نہین بلکہ متعدد واقعات ہوئے تھے اور یہ جانچ سرکاری پالیسی کا حصہ تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;لندن سے چھپنے والے اخبار ''گارڈین '' میں خبر شائع ہو نے کے بعد فروری 1979 میں برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے جانچ کے عمل پر پابندی لگا دی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے شعبۂ قانون کے محقق اے ون سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت برطانوی حکومت نے بس ایک دو ایسے واقعات کی بات تسلیم کی تھی لیکن یہ سچ نہیں تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سمتھ نے کہا ’برطانیہ کی وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزیراعظم کے دفتر سے ہم نے جو کاغذات حاصل کیے ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ 1970 کے عشرے میں بھارت میں دلی اور مُمبئی میں 80 خواتین کی جانچ ہوئی تھی۔ ’ہمارے پاس پاکستان اور بنگنہ دیش کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جتنا سمجھا جا رہا تھا یہ معاملہ اس سے کافی بڑا ہے‘۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;فروری 1979 میں اس معاملے کے سامنے آنے پر جوائنٹ کاؤنسل آن ویلفیر آف مائگرینٹس نے اس کی کافی مخالفت کی تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1960 میں قائم کیے گئے اس ادارے کی قانونی معاملات کی سربراہ حنا ماجد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک معاملہ ہے اور جس کے لیے حکومت کو معافی مانگنی چاہیے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وہ کہتی ہیں ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت جنوبی ایشیائی خواتین سے ہونے والی ان ذیادتیوں پر معافی مانگے کیونکہ یہ ایک شرمناک اور نفرت انگیز عمل تھا۔ اس بات کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کہ کیونکہ یہ عمل خواتین، مائگرینٹس اور انسانی حقوق کے تئیں اہانت کے جزبات کا عکاس تھا‘۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آسٹریلیائی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی نوجوان لڑکیوں کے کنوارے پن کی میڈیکل جانچ کے واقعات دلی اور مُمبئی میں واقع ویزا دفاتر میں اور کئی بار برطانیہ پہنچنے پر ہیتھرو ائر پورٹ پر بھی پیش آئے تھے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-5201903653937974513?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/5201903653937974513/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=5201903653937974513' title='11 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5201903653937974513'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5201903653937974513'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/05/blog-post_10.html' title='جو یہاں کرو تو حرام اور وہاں ہوا تو حلال'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>11</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-6488767981138601493</id><published>2011-05-03T00:16:00.000-07:00</published><updated>2011-05-03T00:20:32.768-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ'/><title type='text'>مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ</title><content type='html'>میں کیا اور میری اوقات کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر چاہوں بھی تو اس بات پر اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتا چاہے ساری عمر ایک ہی سجدہ میں کیوں نہ گزار دوں کے ایک سانس اندر گیا اور پھر واپس آجائے باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ میری ماں،باپ کی، اور میری اہلیہ اور میرے ان تمام بے شمار دوستوں کی دعاوں کا نتیجہ ہے کہ  جب بھی دل میں خواہش جنم لیتی ہے کہ بیت اللہ کی سعادت کی جائے یا آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رودضہ پر نور کی سعادت کی جائے تو یقین جانئے اللہ پاک بغیر کسی مشقت کے خیر و عافیت کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں جب تک یہاں نہیں آیا تھا تو اکثر یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ یا اللہ صرف ایک مرتبہ اپنے گھر کی اور روضہ رسول کی زیارت کر وادے کہ آخر کو ایک مرتبہ دیکھوں تو صحیح اس مقام اس جگہ کو کہ جس کی جانب رخ کر کے اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ اس شہر اور اس ہستی کے روضہ کا دیدار تو کروا دے یا اللہ کہ جس کی وجہ سے یہ  کائنات تخلیق کی گئی اور جو محسن انسانیت ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;الحمداللہ ثمہ الحمداللہ، اللہ پاک نے یہ سعادت بخشی کہ کئی مرتبہ جانا ہو چکا ہے دونوں مقدس مقامات پر اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یقین جانئے میں جب بھی جاتا ہوں تو یہ لگتا ہے کہ پہلی مرتبہ آہا ہوں کہ دیدار سے دل ہی نہیں بھرتا اور میں یہی دعا مانگتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یا اللہ کم سے کم ایک مرتبہ ہر مسلمان کو حج بیت اللہ اور روضہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت نصیب فرمائے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور جانے سے پہلے ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہوں کہ جنکو میری وجہ سے دانستہ اور غیردانستہ تکلیف پہنچی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرمائے&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-6488767981138601493?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/6488767981138601493/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=6488767981138601493' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6488767981138601493'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6488767981138601493'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/05/blog-post.html' title='مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-9183342338761606722</id><published>2011-04-18T00:33:00.000-07:00</published><updated>2011-04-18T00:43:26.158-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دین سے دوری ، روشن خیالی ، آزاد معاشرہ'/><title type='text'>یہ آیک خبر ہے اسکو صرف خبر سمجھ کر پڑھا جائے</title><content type='html'>مہنگے علاقے کے ایک جدید کلینک میں نوجوان عرب خواتین ایسے آپریشن کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں جس سے نہ صرف ان کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ شاید بچ بھی جائے۔آپریشن کا خرچہ سترہ سو پاؤنڈ ہے اور اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں۔ &lt;br /&gt;یہ کلینک دبئی یا قاہرہ میں نہیں بلکہ پیرس میں واقع ہے اور وہاں موجود خواتین آپریشن کے ذریعے کنوارپن کی بحالی چاہتی ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایشیا اور عالم ِعرب میں شادی سے پہلے کنوارپن ختم ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں خواتین کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد یہ معلوم ہونے پر کہ وہ پہلے ہی مباشرت کی مرتکب ہو چکی ہیں انہیں قتل بھی کیا جا سکتا یا کم سے کم برادری سے تونکال ہی دیاجائےگا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب یہ خواتین آپریشن کے ذریعے ماضی کے جنسی فعل کے تمام نشان مٹا کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ شادی کی رات ان کے بستر پر خون کے داغ نظر آئیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خواتین کنوارپن کے حوالے سے دباؤ میں آ کر بعض اوقات اپنی جان لینے پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں۔ کلینک میں پیرس کے آرٹ کالج کی ایک طالبہ بھی موجود تھی جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتی۔ وہ پیرس میں پیدا ہوئی لیکن عرب روایات ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انہوں نے کہا کہ ’جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد میں نے اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سوچا کیونکہ اس وقت کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا تھا۔‘ لیکن اب ان کے پاس حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ ان کے ماضی کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہو، خاص طور پر ان کے ہونے والے شوہر کو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کنوارپن کی بحالی کا آپریشن تقریباً تیس منٹ میں مکمل ہوتا جس دوران عورت کی جھلی کو دوبارہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ کلینک کے مالک ڈاکٹر مارک نے بتایا کہ ان کے مریضوں کی اوسط عمر پچیس سال ہے۔ اس طرح کے آپریشن دنیا بھر میں ہو رہے ہیں لیکن ڈاکٹر مارک واحد عرب سرجن ہیں جو اس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چینی طب میں تو کنوارپن کی بحالی آپریشن کے بغیر بھی ممکن ہے۔ ایک ویب سائٹ پر بیس پاؤنڈ میں مصنوعی جھلیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔چینی جھلی ایلاسٹک سے بنتی اور اس کو مصنوعی خون سے بھرا جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;کیا اسکو روشن خیالی کہا جائے دھوکہ دہی یا پھر دین سے بے انتہا دوری&lt;br /&gt;لبنانی خاتون ندا نے بتایا کہ وہ شادی سے پہلے سات سال تک ایک لڑکے کے ساتھ رہی، لیکن اس لڑکے کے گھر والے کہیں اور رشتہ کرنا چاہتے تھے۔ان کی شادی نہ ہو سکی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ندا کی اب شادی ہو چکی ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آپریشن کے ذریعے دوبارہ جھلی بحال کروائی تھی۔ ’شادی کی رات میں بالکل سو نہیں سکی۔ بہت ڈری ہوئی تھی لیکن اسے بالکل شک نہیں ہوا۔ میں تمام رات روتی رہی۔‘&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شام کے ایک عالم شیخ محمد نے بتایا کہ کنوارپن کے بارے میں لوگوں کو رویے روایت پر مبنی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی عیسائی آبادی بھی عورت کے کوارپن کے بارے میں اتنے ہی کٹر نظریات رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عرب مبصر ثنا الخیاط کے مطابق یہ سارا معاملہ ’کنٹرول‘ کا ہے۔ ’اگر وہ کنواری ہے تو اپنے شوہر کا کسی دوسرے مرد سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگر اس کے دوسرے مردوں سے تعلقات رہے ہیں تو پھر وہ تجربہ کار ہو گی۔ تجربہ انہیں طاقت دیتا ہے۔‘&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-9183342338761606722?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/9183342338761606722/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=9183342338761606722' title='73 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9183342338761606722'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9183342338761606722'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/04/blog-post_18.html' title='یہ آیک خبر ہے اسکو صرف خبر سمجھ کر پڑھا جائے'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>73</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-6832732398435697858</id><published>2011-04-11T04:03:00.000-07:00</published><updated>2011-04-11T04:04:18.477-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='فارمولا'/><title type='text'>فارمولا</title><content type='html'>بہت دن ہو گئے جی اب تو 30 مارچ2011 کو گذرے ہوئے ۔۔۔۔ یہ دن بھی پاکستان کی تاریخ میں کمال کا دن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سمجھ گئے نا تو پھر اب کام کی بات ہو جائے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کبھی کسی نے تکون چاند دیکھا ہے، یا کبھی کسی نے ہوائی جہاز کو بانی پر تیرتے اور پانی کے جہاز کو ہوا میں اڑتے دیکھا ہے۔۔۔۔ ارے ناراض نہ ہوں میں تو پوچھ رہا ہوں آپ لوگوں سے ۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اچھا دیکھنے کو چھوڑیں یہ بتائیں کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کچھ لوگ لاجک لگا کر اسکو ممکن کر دیکھانے کی کوشش کریں گے اور آخر تک لگے رہیں گے اپنے اپنے طریقوں سے مگر جو علم رکھتے ہیں وہ شائد یہ کہہ دیں کہ اللہ پاک کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں وہ چاہے تو کچھ بھی کر ستکتا ہے۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جی ہاں بےشک اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں اور مسلمان ہونے کے ناطہ ہمارا ایمان بھی یہی ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسکے لئے اس اللہ نے ایک فارمولا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ پہلے ہم انسان وہ کریں جو اللہ  نے کہا ہے اسکے بعد اللہ پاک ہر وہ کام ہمارا کر دینگے جس کو عقل بھی کہتی ہے کہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم انسان ڈیڑھ سیانے کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ یا اللہ پاک آپ ہمارا یہ کام کر دیں تو پھر میں آپ کے تمام احکامات مانوں ۔۔۔۔۔۔ اور اس پر ہی جمے رہتے ہیں۔۔۔۔اور رو، رو کے دعائیں کرتے ہیں مطلب صرف دعا خالی خولی بغیر عمل کے۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو آپکا کیا خیال ہے ایسی دعا کس بلندی تک جاتی ہے اور اگر ہم کو دعا کو عرش تک پہنچانا ہے تو کس بات کی اشد ضرورت ہے ؟؟؟؟&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-6832732398435697858?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/6832732398435697858/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=6832732398435697858' title='11 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6832732398435697858'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/6832732398435697858'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/04/blog-post.html' title='فارمولا'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>11</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-7797401143500404380</id><published>2011-03-06T23:58:00.000-08:00</published><updated>2011-03-07T00:04:32.443-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='میرے دوست، فرضی خاکہ، پہچان،دوست'/><title type='text'>میرے دوست</title><content type='html'>انسان اپنے دستوں سے پہچانا تا ہے یہ بات کتنی درست ہے اسکا اندازہ اب جاکے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقی لائف میں تو دوست رہے نہیں یا یوں کہہ لیں کے مجھ سمیت کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں رہا کے کبھی وہی فرصت ہو اور میں اور میرے دوست ہوں ۔۔۔۔۔ بلاوجہ کی باتیں اور ان باتوں پر بلا وجہ ہنسنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تو دوستی بھی الیکٹرانک ہوگی ہے ۔۔۔۔۔ جی ہاں اب فرینڈ صرف فیس بک پر، مگر یہاں بھی آپ اپنے فرینڈ لسٹ میں موجود فرینڈز کی وجہ سے ایڈ کیے جایئں گے۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ویسے تو میری فیس بک فرینڈ لسٹ میں 100 سے زیادہ ہی فرینڈز ہیں مگر ان میں سے چند ہی ہیں جنکی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نا ہوگا۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور سب سے مزے کی بات جنکی وجہ سے بدنام ہوئے ان سے ابھی تک ملاقات ہی نہیں ہوئی اب تو ہر دم یہ دعا کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ تمام محترمین سے ملاقات ہوجائے تو انکی ہتھ بوسی کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مگر انسان تو پھر انسان ہے اللہ نے عقل تو دی ہے تو اس ہی کم عقلی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے چند دوستوں کا فرضی خاکہ بنایا ہوا ۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مثلاً دوست جو سب سے زیادہ ڈیڑھ سیانے ہیں انکی شکل سے لگتا ہے کہ شائد کبھی کوئی ڈھنگ کا کام کرسکیں گے سوائے اسکے کہ دوسروں کے باتھ میں پیٹرول دے دیا ساتھ ایک کیوبا کا سگار بھی سلگا دیا اور کہا جا بچے ۔۔۔۔۔۔ اور بچہ اتنا سیدھا کے چلا بھی گیا۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسرے دوست ہیں شکل سے تو بلکل گلاب کے پھول کی طرح ہیں ۔۔۔۔۔ مگر انکا فرضی خاکہ کچھ اسطرح ہی کہ چوک میں ایک دودھ کی دوکان کے باہر تھڑے پے پیٹھے ہوئے ہیں دو تین چھوٹے ساتھ ہیں جیسے کہیں کے استاد ہوں اور وہ چھوٹے استاد کے ھاتھ پاؤں اور ٹانگیں دبا رہے ہیں اور استاد صاحب لسی اور مکھن بن سے شغل فرما رہے ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تیسرے دوست تو ہیں ہی انتہائی بدتمیز اور انکا فرضی خاکہ بہت حد تک انکی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ خود کچھ کرنا کرانا نہیں بس کبھی کسی آنٹی کو انکل اور کسی انکل کو آنٹی بنانا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی تو خود سمجھ گئے ہونگے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چوتھے دوست ہمارے اللہ انکو خوش رکھے جہاں رہیں خوش رہیں (آج کل گوشئہ نشین ہیں) اگر آپکو کوئی اپنا ایسا کام جسکو آپ چاہتے ہوں کہ قیامت تک ختم نہ ہو ۔۔۔۔۔ تو ہمارے اس دوست کو دے دیں وہ فوراً سول کورٹ کا جج بن جائے گا اور دیتا رہے گا آپکو ۔۔۔۔۔۔ تاریخ پے تاریخ، تاریخ پے تاریخ، تاریخ پے تاریخ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور یہ جو ہمارے دوست ہیں۔۔۔۔ انکا کچھ پتی ہی نہیں چلتا کہ کب انکا دماغ پھر جائے اور کب یہ آپکے اپر چڑھائی کر دیں ویسے اب تک کے تجزیے اور فرضی خاکے کے مطابق یہی سب سے نیک انسان ہیں انکو زیادہ ٹینشن ہوتی ہے تو یہ جنگل جنگل نکل جاتے ہیں وہ گیت گنگناتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگل جنگل پتہ لگا ہے ۔۔۔چڈی پہن کر شیر نکلا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور یہ جو آخری ہیں انکا جو فرضی خاکہ ہے وہ کچھ اسطرح ہے کہ ایک ھاتھ میں سرخ جھنڈا ہوگا اور آفس میں بیٹھے ہونگے اگر مدیر نے کوئی کام کا کہا تو اپکو تو پتہ ہے جھنڈے میں ڈنڈا بھی تو ہوتا ہے&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-7797401143500404380?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/7797401143500404380/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=7797401143500404380' title='13 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7797401143500404380'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7797401143500404380'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/03/blog-post.html' title='میرے دوست'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>13</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-1590167393401752721</id><published>2011-02-26T23:01:00.000-08:00</published><updated>2011-02-26T23:06:28.985-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='حجاب'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='دل چاہے حیا کرے'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='حیاء'/><title type='text'>جس کا دل چاہے حیا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔</title><content type='html'>ہمارے ایک بزرگ ہیں ۔۔۔۔ عمر انکی تقریباً 80 سال تو ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 20 سال کی عمر سے دین کی محنت کو بلا کسی غرض کے کر رہے ہیں ہاں غرض ہے تو صرف اتنی کہ کس طرح سارے کے سارے مسلمان اللہ کی ماننے والے ہو جایئں اور اپنی ساری زندگی اس طرح سے گذاریں جس طرح سے گذرانے کا حکم ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ کوئی آج سے 10 سال پہلے کئ بات ہے بیان  فرمارہے تھے اور جب عموعی مجمے میں بات ہوتی ہے تو ایسی عام اور سادہ زبان میں ہوتی ہے کے ہر کسی کے بآسانی سے سمجھ میں آجائے کیونکہ ہر طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں اس قسم کی نشستوں میں ہوتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اسی بیان میں ایک ڈاکٹر صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے انکی سمجھ میں یہ عام اور سیدھی باتیں نہیں آیئں کہ ہانچ وقت کی نماز پڑھو، اللہ کا زکر کرو ، دوسرے مسلمان کا اکرام کرو سارے کے سارے اعمال کرنے کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونی چاہئے اور جتنا علم اللہ پاک نے عطا کیا ہے اسکو دوسروں تک پہنچاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اتنی سادہ سی باتیں ہیں کہ  جنکو سمجھنا اور سمجھ کر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں بس اللہ پاک کا ہقین ہو اور آخرت کا ۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بہرحال ڈاکٹر صاحب بیان کے بعد بزرگ صاحب کے باس گئے اور ان سے عرض کی کہ حضرت آپنے ابھی جو بیان فرمایا وہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے تو ان بزرگ نے ان سے تعارف کرا تو ڈاکٹر صاحب نے بڑے فخر سے بتایا کہ میں فلاں شعبے میں ڈاکٹریٹ ہوں ہعنی پی ایچ ڈی ۔۔۔۔۔ بزرگ نے انکی تعلیمی قابلیت تو سراہا اور آخر میں فرماہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کہ جب کبھی ایسی محفل میں بیٹھو جہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی بات ہو رہی ہو تو اپنی معلومات کے پاجامے کو اتار کے بیٹھا کرو اپنے دل کے پبالے کو خالی کر کے بیٹھا کرو اس طرح بیٹھا کرو کہ تم کو کچھ نہیں آتا اور کچھ نہیں پتہ ورنہ اگر یہ سوچ کر اور یہ زہن میں رکھ کر بیٹھے کہ مجھے سب کچھ آتا ہے اور مجھے سب پتہ ہے تو اتنی سی بھی بات سمجھ نہیں آئے گی کہ&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;نماز میں کل 14 فرض ہیں اور ان میں سے ایک فرض ہے ستر کا ڈھکا ہوا ہونا اگر ستر ڈھکی ہوئی نہ ہو تو نماز نہیں ہوگی اور اور عورتوں کے بال انکی ستر کا حصہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور ستر کے کھلے ہونے کا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سب کو پتہ ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تو اب جس کی مرضی ننگا بابانگ دھل گھومے یا جس کا دل چاہے حیا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور یہ پیغام تو تمام نبیوں کا مشترکہ ہے کہ  ۔۔۔۔ جب تم حیا نہ کرو تو جو دل چاہے وہ کرو۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-1590167393401752721?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/1590167393401752721/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=1590167393401752721' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/1590167393401752721'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/1590167393401752721'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/02/blog-post_26.html' title='جس کا دل چاہے حیا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-8421853035272092414</id><published>2011-02-19T22:02:00.000-08:00</published><updated>2011-02-19T22:05:35.112-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='خوش نہیں دیکھو'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ترجیحات'/><title type='text'>در شاباش روشن خیال</title><content type='html'>دنیا میں 3 قسم کے لوگ ہوتے ہیں اول وہ جو کہتے ہیں ھمکو کسی سے کچھ لینا دینا نہیں اور وہ اپنی لائف میں مست رہتے ہیں دوئم وہ جو کہتے ہیں یار اپنی تو خیر ہے مگر اپنے دوسرے بھائی کا بھلا ہو جائے یہ والی قسم اپ آہستہ آہستہ ناپید ہوتی جا رہی ہے اور تیسری قسم وہ ہوتی ہے جس میں اتنی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے جیسے بارش کے بعد پتنگوں کی تعداد میں ہوتا ہے تیسری قسم کے حامل افراد کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;1 - نہ جیو اور نہ جینے دو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;2- اگر کوئی خوش قسمتی سے جینے لگے یا جینے کی کوشش کرنے لگے وہیں سے اسکو دھکا دے دو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;3- کسی کو کبھی کسی حال میں خوش نہیں دیکھو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;4 - اور سب سے بڑی خوبی کے کوئی اگر انکے عمل کو ذرا سا بھی غلط کہے تو اس کے اپر فوراً ذہنی پسماندگی کا لیبل لگا دو&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اصل میں آج صبح میں ہماری ایک فیس بکی فرینڈ ہیں محترمہ پاپردہ پٹھان صاحبہ انکے بلاگ پر گیا وہاں انکی تحاریر پڑھیں بہت ہی شائستہ اور مہذب الفاظات میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہوا ہے اپنے خیالات تو اپنے دسروں کی خیالات کی ترجمانی بھی کی ہوئی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انکی تحاریر میں ایک تحرہر کسی دوست کی طرف سے الوداعی تحریر بھی ہے جس میں انکے دوست نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے معذرت کی ہے اس تحریر کے تبصروں میں لوگوں نے انکے اس اقدام کو ان لوگوں نے بہت سراہا جو گھر اور گھر میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت سے واقف ہیں اور ان لوگوں نے اس فعل کو غیر اہم اور دقیانوس قرار دیا جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے انکے لئے انکا اپنا آپ ہی سب کچھ ہوتا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اصل میں ذندگی میں ترجیحات وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہیں لڑکوں کی ترجیحات شادی سے پہلے کچھ اور، اور شادی کے بعد کچھ اور بلکل اسی طرح لڑکیوں کا بھی معاملہ ہوتا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور اصل میں تو جینا ہے ہی دوسروں کے لئے اپنے لئے تو بارہ سنگھا بھی جیتا ہے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پتہ نہیں بات کہاں سے کہاں چلی جائے گی اور نا جانے کتنے روشن خیال لوگ پتہ نہیں کیا کیا کہیں گے مگر بات صرف اتنی سے ہے کہ جس چیز کا پابند کیا گیا ہے اسکو خوش اسلوبی سے کرنے کی کوشش کی جائے اپنی سائنس نہیں لڑائی جائے اور اگر خود کچھ اچھا نہیں کر سکتے تو جو کوئی دوسرا اچھا کر رہا ہے تو اسکے راستے میں روڑے نہیں اٹکائے جایئں ۔۔۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-8421853035272092414?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/8421853035272092414/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=8421853035272092414' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/8421853035272092414'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/8421853035272092414'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/02/blog-post.html' title='در شاباش روشن خیال'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-7133085645753986134</id><published>2011-01-20T07:59:00.000-08:00</published><updated>2011-01-20T08:01:04.764-08:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='بارہ سنگھے'/><title type='text'>جہاں خطرہ محسوس کرتا ہے اپنا روپ اور نام تک بدل لیتا ہے۔</title><content type='html'>کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک بارہ سنگھا رہتا تھا۔ وہ جنگل میں آزادانہ گھومتا پھرتا تھا۔  جنگل کے بعض قطعے ایسے تھے جہاں اسے گھاس وافر مقدار میں میسر تھی۔ وہ ان قطعوں سے خوب گھاس چرتا اور پورے جنگل میں بول و براز کرتا پھرتا۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;اس کی یہ بے باکی بعض جانوروں کو پسند نہ آئی۔ انھوں نے حسد کے مارے بارہ سنگھے کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں جانوروں نے باہمی مشاورت سےشہر کےمنجھے ہوئے  شکاریوں سے رابطہ کیا۔ جب شکاری بارہ سنگھے کا شکار کرنے  جنگل پہنچے تو انہیں  جانوروں نے بارہ سنگھے کی تمام خصلتوں سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ کیوں اس سے چھٹکارہ پانا ناگزیر ہو چکا ہے۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;شکاریوں نے بارہ سنگھے کو پھانسنے کیلیے جنگل میں جگہ جگہ پھندے لگا دیے۔ بارہ سنگھا چونکہ یہ سب مشاہدہ کر رہا تھا لہٰذا محتاط ہو گیا اور کسی پھندے میں نہیں آیا۔ تنگ آکر شکاریوں نے دو سو سالہ پرانا طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن کسی خرگوش کی مخبری پر شکاریوں نے بارہ سنگھےکو  آن لیا اور اس کے پیچھے شکاری کتے چھوڑ دیے۔  بارہ سنگھا اپنی پوری رفتار سے بھاگا۔ چونکہ اس کی رفتار کتوں سے تیز تھی لہٰذا کتے اور شکاری کافی پیچھے رہ گئے۔ بھاگتے بھاگتے اچانک سامنے جھاڑیاں آ گئیں۔  شکاری یہ دیکھ کر خوش ہو گئے کہ بارہ سنگھے کے سینگ اب جھاڑیوں میں پھنس جائیں گے اور ہم اس کا شکار کر لیں گے مگر بارہ سنگھے  کو اپنے پردادا کا انجام معلوم تھا جو ان جھاڑیوں میں اپنے سینگ پھنسا کر کتوں کا شکار بن گیا تھا۔ بارہ سنگھے نے ہائی جمپ کیا اور جھاڑیوں کے اوپر سے گزر گیا اور جنگل میں روپوش ہو گیا۔ شکاری اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;دن گزرتے گئے۔ شکاریوں اور بارہ سنگھے کی آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ ایک دن لومڑی نے بارہ سنگھے کو بھیس بدلنے  کا مشورہ دیا تاکہ شکاریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔&lt;br /&gt; &lt;br /&gt;وہ دن اور آج کا دن، شکاری اب تک بارہ سنگھے کا شکار کرنے کیلیے سرگرداں ہیں مگر بارہ سنگھا اب بہت چالاک ہو چکا ہے۔ جہاں خطرہ محسوس کرتا ہے اپنا روپ اور نام تک بدل  لیتا ہے۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-7133085645753986134?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/7133085645753986134/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=7133085645753986134' title='22 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7133085645753986134'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7133085645753986134'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2011/01/blog-post.html' title='جہاں خطرہ محسوس کرتا ہے اپنا روپ اور نام تک بدل لیتا ہے۔'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>22</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-2331827080397327551</id><published>2010-10-27T04:12:00.000-07:00</published><updated>2010-10-27T04:23:47.401-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='صحبت'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='ماحول، یاریاں'/><title type='text'>صحبت</title><content type='html'>میں آج سے نہیں بچپن سے اس بات کا داعی رہا ہوں کہ جو بات دل میں ہے وہ کر دو ۔۔۔۔۔۔ دل میں بات نہیں رکھو اسکے بہت سے نقصانات ہوتے ہیں جن کی تفصیل سب کو پتہ ہی ہے ۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بات اصل میں یہ ہے کہ ہر شخص اپنے آپ میں ایک ارسطو ہے میں خود بہت بڑا ارسطو ہوں ۔۔۔۔ دسروں کو تو بہت کہتا ہوں کہ یہ کام نا کرو ۔۔۔۔۔ تم لوگ پتہ نہیں کیسے کر لیتے ہو ۔۔۔ ۔مگر کچھ دن بعد وہی کام خود کر رہا ہوتا ہوں اور دسروں کو تبلیغ بھی کر رہا ہوتا ہوں ۔۔۔۔۔ اسکی کیا وجوہات ہیں وہ مجھے نہیں پتہ اگر آپ کو پتہ ہوں تو ضرور بتایئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میرے ایک بچپن کے دوست ہیں انتہائی لفنگے قسم کے کئی مرتبہ ان سے دوستی نبھانے کے چکر میں ابا کی جانب سے زبردست قسم کی مار بھی کھائی ۔۔۔۔۔ مگر چونکہ لفنگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو گیا تھا اس لئے مار کا کوئی اثر نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسری طرف حال یہ تھا کہ کوئی مجھے لفنگا کہہ دے تو لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے کے جب ہم نے کوئی لفنگا گیری کی ہی نہیں تو کہا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر کالج میں آکر کچھ پڑھے لکھے لوگون میں اٹھنا بیٹھنا ہوا ۔۔۔۔۔۔ اپنا تعلیمی ریکارڈ تو تھا ہی ایسا کہ میٹرک کے پرچے کمبایئنڈ اسٹیڈی کی نظر ہو گئے رات پھر فلمیں وہ بھی ایسی کے کئ کئ دن انکے اثر سے نکلنے میں لگتے تھے اور صبح امتحانی پرچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ جب اخبار میں آیا تو ابا سمیت سب ہی چشمے لگا لگا کر رول نمبر ڈھونڈتے رہے مگر ناکام رہے سب کیونکہ ھمکو تو پہلے ہی پتہ تھا کے نتیجہ وہی دھاک کے پانچوں پرچوں میں فییل۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہاں کالج میں کچھ پڑھے لکھوں سے دوستی ہوئی تو ایک دن ابا سے کہتے ہوئے سنا (پڑھے لکھوں سے صرف دوستی تھی خود نہیں پڑھتے تھے) کہ چلو برخوردار کی گیدرنگ تو ٹھیک ہوئی اب کچھ کر بھی لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ بس یارو یہ بات ابا کی دل پر لگ گئی  کہ ابھی ھم نے صرف  اچھے لوگوں میں بیٹھنا شروع کیا ہے تو لوگوں کی نظر میں اچھے ہوگئے اگر بقلم خود اچھے ہوجایئں گے تو ابا اور گھر والے کتنے خوش ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مقصد یہ ہے کے انسان خود کچھ نہیں ہوتا ماحول اسکو اچھا برا بناتا ہے ۔۔۔۔ اور ماحول کے بنانے والے میں اور آپ ہیں ۔۔۔۔ کسی بھی فورم پر کیوں نہ ہوں اپنی اقدار کو نہ ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کچھ عرصے کے بعد بری بھی اچھی لگنے لگتی ہیں بقول استاد محترم کے&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شاید میں بھول گیا تھا یا بھول جاتا ہوں جسکی وجہ سے پریشانیاں اور رسوایئاں اٹھانی پڑتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور میں نے کچھ دن پہلے اپنے ایک دوست سے کہا بھی تھا کہ کبھی ایسا کوئی کام نہ کرو جسکی وجہ سے تم کسی کے سوال کا جواب نہ دے سکو ۔۔۔۔۔۔۔۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-2331827080397327551?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/2331827080397327551/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=2331827080397327551' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2331827080397327551'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/2331827080397327551'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/10/blog-post.html' title='صحبت'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-9020478921531859820</id><published>2010-08-27T03:31:00.000-07:00</published><updated>2010-08-27T03:36:58.250-07:00</updated><title type='text'>عبادت کس کی؟؟؟؟</title><content type='html'>رمضان کے مبارک مہینے میں تمام مسلمان الحمداللہ، اللہ اک کی بھر پور عبادت کرتے ہیں ... روژے رکھتے ہیں.... پانچ نمازیں مرد مسجد میں اور عورتیں گھر میں پابندی کے ساتھ پڑتھی ہیں...... بہت ہی اچھا ماحول پوتا ہے ہر طرف ایک نورانیت چھائی پوئی ہوتی ہے...... مگر؟؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کیا اللہ کی عبادت روژوں کی علاوہ باقی پورے سال کیوں نہیں کرتے؟؟؟... کیا اسلام صرف رمضانی مذہب ہے؟؟؟ کیا اللہ کا رحم صرف رمضان میں ہوتا ہے؟؟؟؟ یہ چند باتیں ہیں جو مجھ سمیت ہع مسلمان کہ سوچنے کے لئے ہیں.......&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آخر میں ایک مولانا صاحب جن کا تعلق بہاولپور سے ہے اور نام انکا محمد احمد ہے... اپنے ایک بیان میں فرما رہے تھے کہ.......... صرف رمضان میں اللہ کی عبادت نہیں کرنا چاہیے بلکہ پورے سال اور پوری زندگی ایسے ہی گزارنی چاہیے..... اگر صرف رمضان میں اللہ کی عبادت کریں اور پورے سال اپنی من چاہی زندگی گذاریں تو پھر غالب گمان یہ ہے کہ ھم اللہ کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ""رمضان کے مہینے"" کی عبادت کرتے ہیں.....&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس لیے آیئے عہد کریں کہ سارا سال بلکہ ساری ژندگی ایک اللہ کی عبادت اس طرح ہی کریں گیں جس طرح رمضان میں کرتے ہیں..........&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اللہ اپنے فضل و کرم سے عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-9020478921531859820?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/9020478921531859820/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=9020478921531859820' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9020478921531859820'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/9020478921531859820'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/08/blog-post.html' title='عبادت کس کی؟؟؟؟'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-7379046933090650234</id><published>2010-07-21T04:48:00.000-07:00</published><updated>2010-07-21T04:49:18.255-07:00</updated><title type='text'>رمضان المبارک</title><content type='html'>اللہ کریم کا بڑا احسان ہے کے اس نے ہم کو انسان بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اب پہ ھم پر منحصر ہے کہ ہم کسطرح انسانوں والی حرکتیں کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رمضان المبارک کا مہینہ قریب ہے اللہ ہم سب کو اس مبارک مہینے تک پہنچائے ۔۔۔کہتے ہیں کہ جو بھی اچھا اور نیک کام رمضان میں شروع کیا جاتا ہے تو اللہ پاک اس کام کو پورا سال کرنے کی توفیق عطا کرتے ہیں ۔۔۔ تو کیوں نہ اس رمضان میں اللہ سے اپنے گذشتہ کیے ہوئے گناہوں پر معافی مانگیں اور اللہ پاک سے عہد کریں کہ اللہ جو ہوا اور جو غلط کیا اسے ہم توبہ کرتے ہیں اور ایک نئی اور شفاف زندگی شروع کرتے ہیں جس میں اطاعت، فرمانبرداری رواداری اور وہ سب کچھ ہوگا جو مطلوب خالق ہے ۔۔۔۔۔ اور جب ہر کام اور ہر لمحہ اس طرح ہوجائے گا تو پھر یہ جو حالات آج ہم پر مسلط ہیں اسکے لیئے کسی کو کچھ کہنا نہیں ہوگا اللہ پاک اپنی رحمت سے انشاءاللہ سب ٹھیک کر دیں گے آمین&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-7379046933090650234?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/7379046933090650234/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=7379046933090650234' title='6 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7379046933090650234'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7379046933090650234'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/07/blog-post.html' title='رمضان المبارک'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>6</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-5885272038333621092</id><published>2010-06-27T13:57:00.000-07:00</published><updated>2010-06-27T13:58:55.768-07:00</updated><title type='text'>خالی ذہن</title><content type='html'>خالی ذہن.........................آرام کی جگہ ہے کسی کی&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-5885272038333621092?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/5885272038333621092/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=5885272038333621092' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5885272038333621092'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5885272038333621092'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_27.html' title='خالی ذہن'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-7742970966013206738</id><published>2010-06-19T11:47:00.000-07:00</published><updated>2010-06-19T12:05:15.545-07:00</updated><title type='text'>عجیب بات ہے</title><content type='html'>عجیب بات ہے کبھی بھی سمجھ میں نہیں آئی........ کیا اتنا سا فھم نہیں بے.... کہ ھم کیوں اس بات کو پھیلانے کا باعث بنیں جو بات کہنے سے کو بھی شخص نہ تو اسلام میں رہتا ھے بلکہ ملعون اور لعنتی بھی ٹیہرایا جاتا ہے....... یہ تو کہیں کی محبت نہ ہوئی کہ قیصر ایوب ملعون نے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخی کی ان الفاطات کو ھم اپنے فیس بک پے چھاپ دیں اور دوسروں کو بھی ٹیگ کر دیں..... کیا یہ ان لوگوں کا کام اور آسان نہیں کرتے ھم لوگ جن کا مقصد ہئ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا ھے...... اور یہ بھی سوچنے والی بات ھے کہ کیا انکی کی گئی بکواس سے معاز اللہ کیا ھمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کوئی کمی ہوتی ھے.......ھان اتنا ضرور یے کہ بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس وققت بہت رنجیدہ ہو جاتے ہونگے جب فرشتے انکو خبر کرتے ہونگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کس طرح سنتوں کو چھوڑ بیٹھی ھے........ تو ضرورت اس امر کی ھے کہ اپنے آم کو اسقدر باعمل امتی بنا لیں کہ کوئی ایک لفظ بھی غلط کیتے ہوئے ہزاورں بار سوچے اور اسکے بعد بھی اسکی ہمت نہ پڑے کچھ کہنے کی...&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-7742970966013206738?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/7742970966013206738/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=7742970966013206738' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7742970966013206738'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/7742970966013206738'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_19.html' title='عجیب بات ہے'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-4777252276806790904</id><published>2010-06-16T03:20:00.000-07:00</published><updated>2010-06-16T03:22:03.390-07:00</updated><title type='text'>وہ درویش کیسا دانا و عقلمند تھا</title><content type='html'>“خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے، اُس سے عاجزی چھین لیتا ہے“۔ ماسٹر جی نے اپنی بات کا آغاز ایک حقیقی اور غیر معمولی بات سے کیا۔ مجب سمیت چالیس کے قریب نٹ کھٹ اور بلاکے شرارتی قسم کے لڑکے ھمیشہ کی طرح دم سادھے بیٹھے تھے۔ یہ ہمارے ہائی اسکول کے وہ واحد استاد تھے جن کے بارے میں طالب علم تو درکنار انکے کسی اپنے ساتھی کو بھی کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی۔ جس نے جب بھی یاد کیا اچھے اور عمدہ الفاظ میں یاد کیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماسٹر جی نے بولنا شروع کیا۔ “کسی غریب کا اپنی غریبی پے ندامت اختیار کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا کسی امیر کا اپنی امارت پر غرور کرنا۔ جو شخص اپنی قسمت پا راضی نہیں ہوتا اہ خدا کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ کیونکہ اس طرح وہ خدا کی تقسیم سے بغاوت کرتا ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان جدوجہد اور محنت کا راستہ ترک کر دے۔ جو ہے اس پر قناعت کرنا، خدا کا شکر بجالانے کے مترادف ہے اور جو نہیں ہے یس کے لئے جدوجہد کرنا خدا کی خواہش کی تکمیل کا نام ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“تم پوچھو گے کے وہ کیسے، خدا کی مرضی اس میں کہاں سے آگئی؟؟“ ماسٹر جی نے ہمارے پر تجسس چہروں کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“انسان کی ساخت پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انسان بنا ہی محنت کے لئے ہے، اسکے ھاتھ پاؤں، جسمانی طاقت اور اسے بخشی ہوئی بے بہا دماغی قوتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قدرت اسے محنت کرتے دیکھنے کی متمنی ہے۔ جس طرح کسی مشین کے موجد کو اس وقت تک حقیقی خوشی اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا جب تک اسکی بنائی ہوئی مشین پوری طرح سے کام کرنا نہ شروع کردے، اسی طرح خدا اس شخص سے کبھی خوش نہیں ہوسکتا جس نے اسکے بناے ہوئے وجود کو ناکارہ بنادیا ہو، ہا اسے کام لینے کے بجائے اسے دوسروں کے سہارے چھوڑ دیا ہو۔“ ماسٹر جی نے ہلکے سے گلا کھنکارا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوے کہا۔ “تمہیں پتہ ہے کہ لوگ دولت اور شہرت کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور ذہن صرف تدبیر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں سب سے برا حسد کسی کے ساتھ اپنا مقدر تبدیل کرنے کی خواہش کرنا ہے“۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماسٹر جی ذرا دیر کے لئے ٹھرے تو ایک لڑکے نے ان سے سوال کی اجازت لی اور بولا۔ “سر ھم انسان ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حسد درست نہیں ھم ایسا کر بیٹھتے ہیں۔ کوئی آسان طریقہ بتائیے کہ ھم اپنا دامن اس برائی سے بچا سکیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماسٹر جی مسکرائے اور پھر بولے۔ “ یہ بہت ہی سادہ سا سوال ہے اور اسکا جواب اسے بھی سادہ ہے۔ دیکھو جس سے حسد ہو رہا ہو، اگر اسے دعا دے دی جائے تو حسد جاتا رہتا ہے۔“ تمام لڑکے ماسٹر جی کے جواب پر حیران زدہ رہ گئے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“کیا تمہیں پتہ ہے کہ ایک مضبوط ینسان کی تعریف کیا ہے؟؟“ ماسٹر جی نے ہماری طرف دیکھا، ھم جو انہیں بڑی عقیدت اور محبت سے دیکھ رہے تھے چپ ریے۔ شاید اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ ھم جانتے تھے کہ کوشش کے باوجود بھی ھم اس منطقی جواب تک نہیں پہنچ سکیں گے جو ان کے شایان شان ہو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“میں تمہیں بتاتا ہوں“۔ ماسٹر جی نے کہا “ مضبوط انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ غریب جو دولتمندوں کی دولت دیکھ کر حسد نہیں کرتے اور نہ دولت کی حرص انہیں بے چین کرتی ہے۔ اور دوسرے وہ امرا جو اہنے مال پر غرور نپہں کرتے اور نہ اپنی دولت سے دوسروں کو خوف زدہ کرتے ہیں، میرے خیال میں امیروں سے نفرت کرنے والا غریب اور غریبوں سے نفرت کرنے والا امیر دونوں یکساں درجے کے مجرم ہیں کیونکہ دونوں کے نزدیک نفرت کرنے کی وجہ  “دولت“ ہے۔ دولت پر تکبر نہ کرنے والے جانتے ہیں کہ “المتکبر“ اللہ کی وہ صفت ہے جس میں کسی طرح کی شرکت شرک ہے اور شرک جدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم یے۔“&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“لیکن سر کیا انسان دنیاوی کامیابیوں پر فخر نہیں کرسکتا؟؟ کیا یہ بھی شرک کے ذمرے میں آئے گا؟؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے سوال کیا تو ماسٹر جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ “ فخر اگر اپنی حدود میں رہے تو برا نہیں لیکن اگر حدود سے باہر نکل جائے تو پھر غرور اور فخر میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ دکھو اور میری بات پر غور کرو فخر یہ ہے کہ میں بھی ہوں اور غرور یہ ہے کہ بس میں ہی ہوں۔ جب تم کسی شخص کو غرور کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ بے خبری اور غلط فہمی کا شکار ہے، تم ایسے شخص سئ دور رہنا، وہ دنیا سے ستائش چاہتا ہے اور ستائش اپنے اوپر عدم اعتماد کی علامت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے والوں کی قریب سے گذریں تو شاید وہ بہت چھوٹے نظر آیئں۔“&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ھم ہمہ تن گوش تھے۔ معرفت اور علم کے خزانوں سے اپنا دامن بھرتے جا رہے تھے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں یہ واحد پیریڈ ہوتا تھا جس میں استاد کو “خاموش پلیز خاموش“ کے الفاظ کہنے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماسٹر جی بولے۔ “مجھے صرف ڈر لگتا ہے تو اس بات کا کپ ہمارا معاشرہ مغرب کی اندھی تقلید میں ایسی شکل اختیار نہ کر جائے جہاں پیسہ تہذیب و نسب اور غربت محض احساس شرمندگی بن کر رہ جائے، کیونکہ جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ  اس نے معاشرے میں عزت اور مرتبہ حاصل کرنے کے بنیادی اور حقیقی فلسفے پر کاری ضرب لگائی ہے۔ پتہ نہیں میں کس حد تک غلط یا درست ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ وقت گذرنے کہ ساتھ ساتھ انسانیت، خاندانی شرافت، تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار جیسے اوصاف ثانوی حیثت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور معاشرے میں محض “عزت کا معیار“ محض دولت رہ گئی پے“۔ ماسٹر جی نے اپنا جملہ پورا کیا ہی تھا کہ پیریڈ کے خاتمے کی گھنٹی بج اٹھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس بات کو برس ہا برس گذر گئے لیکن ماسٹر جی کی باتیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ وہ درویش کیسا دانا و عقلمند تھا۔ آنے والے دور کے بارے میں اسکے خیالات اور خدشات کتنے دورست تھے۔ میں ذندگی کے بہت سے معاملات میں آج بھی ان کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں اور میرا یقین ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اپنے احتساب کا قائل ہو۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-4777252276806790904?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/4777252276806790904/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=4777252276806790904' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4777252276806790904'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/4777252276806790904'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_16.html' title='وہ درویش کیسا دانا و عقلمند تھا'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3688171986370117851</id><published>2010-06-10T10:55:00.000-07:00</published><updated>2010-06-10T10:57:10.883-07:00</updated><title type='text'>عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے"</title><content type='html'>بازا میں ایک دکان کھلی جو شوہروں کو فروخت کرتی ہے ' اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام اس بازار کی طرف چل پڑا - دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا - اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے " پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں کہ : " اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ' جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے ' اور اگر اس منزل پر کوئی پسند نہ آئے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے - مگر ایک بار اوپر جانے کے بعد پھر سے نیچے نہیں آسکتی سوائے باھر نکل جانے کے - " ایک عورت جو جوان اور خوبصورت تھی دکان میں داخل ہوئی - پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا - " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں - دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں ' اور بچوں کو پسند کرتے ہیں " تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا - " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں ' بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں " یہ پڑھ کر عورت کچھ دیر کے لئے رک گئی ' مگر پھر یہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور جا کر دیکھتے ہیں وہ اوپر چلی گئی - چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا - " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں ' بچوں کو پسند کرتے ہیں ' خوبصورت ہیں اور گھر کے کاموں میں مدد بھی کرتے ہیں " یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ' کیا ایسے بھی مرد ہیں دنیا میں ؟ وہ سوچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ' مگر دل نہ مانا ' وہ ایک منزل اور اوپر چلی آئی - وہاں دروازہ پر لکھا تھا - " اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ' الله والے ہیں ' بچوں کو پسند کرتے ہیں ' بیحد خوبصورت ہیں ' گھر کے کاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں " اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے - وہ خیال کرنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتا ہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ چھٹی منزل پر چلی آئی یہاں بورڈ پر لکھا تھا " آپ اس منزل پر آنے والی 3448 ویں خاتون ہیں - اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے - یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ "عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے" آگے لکھا تھا ہمارے اسٹور پر آنے کا شکریہ ' سیڑھیاں باھر کی طرف جاتی ہیں۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3688171986370117851?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3688171986370117851/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3688171986370117851' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3688171986370117851'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3688171986370117851'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_10.html' title='عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے&quot;'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-3435248415621426837</id><published>2010-06-09T16:03:00.000-07:00</published><updated>2010-06-09T16:15:37.497-07:00</updated><title type='text'>ابھی نہیں تو پھر کب</title><content type='html'>پہلے تو سمجھتا تھا کہ کوئی بڑے ہی فالتو لوگ ہیں جو بلاگ لکھتے ہیں. اور ساتھ میں حیران بھی ھوتا تھا کہ اتنا وقت نکال کے لوگ پہ شغل کیسے کر لیتے ہیں جبکہ یہاں تو دفتر کے بعد تو کسی کام کو کرنے کا دل ہی نہیں کرتا..... اور جو قریبی بلاگی دوست تھے ہر وقت انکو ملامت کرتا رہتا تھا کہ یار کوئی کم دا کم کرو یہ کیا ہر وقت بلاگ پے بونگیاں مارتے رہتے ھو...... پھر کچھ عرصے پہلے اک دوست نے کتابی چہرہ پے اکاوونٹ بنادیا اور کچھ تصاویر بھی لوڈ کر دیں.....تو اس طرح کتابی چہرے پے کچھ یار دوست مل گئے اور کچھ نئے بن گئے... ان نیوںمیں ایک دوست ہیں جو تمام کتابی چہرے والے دوستوں کے استاد مانے جاتے ہیں، نے مشورہ دیا کہ جو بلاگ لکھتے ہیں سمجھو کمال کرتے ہیں تب تک ھم بھی کچھ آشنا ہو چکے تھے سو بنا ڈالا ایک اپنا بلاگ بھی... اور آج آدھی رات کو بیٹھے پہ اوٹ پٹانگ لکھتے ھوئے ایک بزرگ با عمل کی کہی ہوئی بات یاد آگئی.... کہ جو کوئی کسی دوسرے کو اسکی کسی برائی پے طنز کرے گا تو اللہ اسکو مرنے سے پہلے اس برائی میں ضرور مبتلا کرے گا.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج اگر اپنے اطراف پے نطر دوڑایئں تو سب ایک جیسے ہی لگتے ھیں...... کیونکہ آج ہر شخص دوسروں کے عیب تلاش کر رہا ھے اور اپنے اسکو نظر نہیں آرہے..... &lt;br /&gt;تو کوئی پی ایچ ڈی ھے تو اسکو مبارک کوئی بھائی ھو یا کوئی بھی زبان بولنے والا کیا فرق پڑتا یے اصل تو یہ ہے کہ مین نے کیا، کیا اب تک...صرف باتیں.... اور میں کیا سب جانتے ہیں کہ باتوں سے آجتک کوئی پیدا نہیں ھوا.......مجہے آج آور ابھی سے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا اپنی اور اپنی آنے والی نسلووں کے لئے... ابھی تو یہ انفرادی سوچ ہے انشاءاللہ جس دن اجتماعی سوچ بن جائے گی تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ سرے بحر ھم کو لوٹ لے.......&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اوہ ہو اصل بزرگ والی بات تو رہ گئی تو ان بزرگ نے کسی شخص کو پان کہانے پے ٹوک دیا تھا اور بقول انکے اسکے بعد انہوں نے بیس سال تک پان کہائے..........اور پھر اللہ سے اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کی تو اللہ نے بھی انکو توفیق دی اور انکی جان اس بری لت سے چھوٹی......&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-3435248415621426837?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/3435248415621426837/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=3435248415621426837' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3435248415621426837'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/3435248415621426837'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post_09.html' title='ابھی نہیں تو پھر کب'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-1563657122245617018.post-5029799667976636997</id><published>2010-06-09T03:27:00.000-07:00</published><updated>2010-06-09T03:31:16.496-07:00</updated><title type='text'>اعتراض پو تو بتادے۔۔۔۔</title><content type='html'>کسی کو کوئی اعتراض پو تو بتادے۔۔۔۔ پھر بعد میں کوئی بھی اعتراض قبولا نہیں جائے گا۔۔۔۔۔ کیونکہ میں بلاگی ھو جاوں گا تو کسی کی نہیں سنوں گا۔۔۔ صرف سناونگا۔۔۔&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/1563657122245617018-5029799667976636997?l=zhasankhan.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://zhasankhan.blogspot.com/feeds/5029799667976636997/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=1563657122245617018&amp;postID=5029799667976636997' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5029799667976636997'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/1563657122245617018/posts/default/5029799667976636997'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://zhasankhan.blogspot.com/2010/06/blog-post.html' title='اعتراض پو تو بتادے۔۔۔۔'/><author><name>ضیاء الحسن خان</name><uri>http://www.blogger.com/profile/11388165516185442154</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry></feed>
