Monday, February 6, 2012

منانا عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔۔!!!!


ہمارے ایک دوست ہیں طارق عزیز صاحب انہوں نے یہ واقعات سنائے اور کم و بیش پورے پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس کی ایک جھلک یہاں ملاحظہ فرمائیں!!!!!!
گیارہ ربیع الاول کی رات کو میں اپنی بائیک پر ریگل سنیما چوک سے بائیں (سٹیٹ بنک کی ) طرف مڑنے لگا تو آگے ساری ٹریفک بند ملی۔ ویگن گاڑیوں والے واپس موڑ کر متبادل راستوں سے نکلنے لگے، ان میں ایک ایمبولینس بھی شامل تھی، جو شاید میو ہسپتال جانے والے راستے کی تلاش میں تھی۔ معلوم ہوا کہ عید میلاد النبی کا کوئی جلوس آرھا ہے جسکی وجہ سے راستے بند ہیں۔ خیر میں اطراف سے جگہ بناتے ہوئے کریم بخش اینڈ سنز کے سامنے سے نکل کر دائیں طرف والی سروس روڈ سے ہوتا ہوا آگے بڑھ گیا کہ شاید ادھر سے کوئی راستہ مل جائے۔ میں آگے بڑھتا ہوا، سٹیٹ بنک کے سامنے تک جا پہنچا، جہاں ٹریفک وارڈن نے دو ایک موٹر سائیکلوں اور بائیسائیکل والوں کو ھاتھ کے اشارے سے روکا ہوا تھا کہ جب تک جلوس نہیں گذر جاتا انتظار کرو۔ تھوڑی دیر میں ہائیکورٹ کی جانب سے دو گھوڑ سوار برامد ہوئے، ان کے پیچھے چار گھوڑوں والی ایک بگھی میں پچھلی سیٹ پر ایک پیر صاحب چمکدار کلف لگا لٹھے کا سوٹ، واسکٹ اور بھاری سی پگڑی تن زیب کیے اک شان بے نیازی سے ہاتھ میں تسبیح گھماتے ہوئے براجمان تھے، برابر مین دو چھوٹے بچے جنھوں نے دولہا جیسی شیروانیاں اور کُلّے پہں رکھے تھے بھی بیٹھے ہوئے تھے، مجھے لگا کہ جیسے کسی فلم کا منظر ہو جس میں بادشاہ سلامت کی شاھی سواری مع شہزادہ گان گذر رہی ہے، ین کے پیچھے دو مُریدین باقاعدہ مورچھل ہلا رہے تھے۔ بگھی کے پیچھے مریدین کا مشعل بردار قافلہ جھومتا ہوا آرہا تھا۔ مزید 20-25 منٹ کی زحمت برداشت کر نے کے بعد رستہ کھولا گیا اور میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ میں سارے راستہ یہی سوچ رہا تھا کہ کیسا مذھبی رہنما اور جلوس ہے جسکی وجہ سے اللہ کی کتنی مخلوق کو شدید ذہنی و جسمانی کوفت اُٹھانا پڑ رہی ہے، اور جو ایمبولینس راستہ نہ ملنے کی وجہ سے واپس مڑ گئی کیا پتہ اسکے مریض کو کتنی تکلیف کا سامنا اُٹھانا پڑا ہوگا، کتنے لوگ ہونگے جو کسی مجبوری کی وجہ سے جلدی کسی مقام پر جانا چاہ رہے ہونگے مگر بارہ ربیع الاول سے قبل ہی غیر متوقع طور پر انھیں رستہ بند ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔
ساتھ والے محلے کے ایک دوست بتا رہے تھے،میرے آس پاس کےمحلوں کے فارغ لڑکے سارہ دن رسوں سے راستے روک کر آنے جانے والوں سے زبردستی چندہ وصول کر رہے تھے، رات گئے تک یہ مشغلہ جاری رہتا، میں گذرتے ہوئے کچھ ایک کو نماز کی دعوت دی کہ بھائی جو برے لڑکے ہیں وہ سب آو پہلے نماز پڑھ لو پھر آکر باقی کا کام کر لینا،تب تک یہ چھوٹے لڑکے پہرہ دیں گے۔ بولے لو جی یہ جو ہم دین کا کام کر ہے ہیں یہ کیا ثواب کا کام نہیں، ہم اگر یہ چھوڑ کر چلے گئے تو چھوٹے لڑکے پتہ نہیں کتنے پیسے اپنی جیب میں ڈال لیں گے۔میں نماز سے فارغ ہو کر گھر کی جانب آرہا تھا، میں نے پوچھا کہ کتنا جمع کر چکے، اور کتنا کرو گے? بولے تقریبا" آٹھ ہزار ہونے کو ہے بس کل آخری دن ہے ہم نے لازما" 12 ہزار کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ پوچھا 12 ہزار کیوں? بولے لو جناب ساری گلی آخر تک سجانی ہے، لائٹین جھنڈیاں وغیرہ کا حساب لگایا ہے، وہ تقریبا" 10 ہزرا کی آئیں گی، اور 2000 کا ہم سب لڑکے جنھوں نے اتنی محنت کی ہے وہ عید میلاد النبی والے دن پنڈارہ بنا کر کھائیں گے، 11-12 کی درمیانی رات سب لڑکے شام سے ہی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے اور رات بھر جاگ کر کام مکمل کیا، میں فجر کی نماز کے لیے نکلا تو دیکھا کے تقریبا" سارے ہی لڑکے شب بیداری کی مشقت سے تھک کر بنائے گئے سٹیج پر بے سُدھ سو رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلّم نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے، تو کیا دُنیاوی رسوم کے لیے نماز چھوڑ کر نبی پاک کی آنکھوں کو تھنڈک پہنچا رہے ہیں? کل قیامت کو جب اللہ پاک نماز کا ھساب لے گا تو کیا یہ عذر پیش کریں گے کے چندہ جمع کرنے اور سجاوٹ لگانے، پھر جشن منانے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی ?

میں ساتھ والے محلے میں ایک دوست کی طرف گیا واپسی پر چھوٹی گلی کے اندر سے آنے کی بجائے مین روڈ کی طرف سے نکل آیا کہ چلو ذرا رونق ہی دیکھتا چلوں۔ ایک طرف گلی میں لوگوں کا ہجوم دیکھا تو آگے بڑھ کر دیکھا تو کچھ نوجوانوں نے (جنھون نے چہروں پر سبز پینٹ کیے ہوئے تھے، سٹیج پر بڑے سائز کے ڈیک لگا کر ڈسکو پرفارم کر رہے تھے، لوگ تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے جس سے پرفارمرز کے جوش میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ میں پاس کھڑے ایسے ہی بہروُپ میں کھڑے ایک نوجوان سے کہا کہ آج کے اس مقدس دن میں آپ لوگ انڈین گانوں پر پرفارم کر کے کیا خدمت انجام دے رہے ہیں? مسجد میں جائیں نماز پڑھیں، دورد شریف کی تسبیحات پڑہیں۔ نوجوان نے غصہ سے کہا، بھائی صاحب نعت کو انڈین گانا کہہ کر مذاق تو نہ اڑائیں، ہم اتنے بھی گئے گذرے نہیں کہ عید میلادالنبی والے دن انڈین گانے بجائیں، میں ذرا غور سے سُنا تو واقعی الفاط تو کچھ مدحت نما ہی تھے مگر ان کی ادائیگی اورڈسکو طرز کی میوزک بیٹ کی وجہ سے وہ کوئی انڈین ڈسکو گانا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ میں پیچھے کی جانب مڑا ہی تھا کے ساتھ کھڑا ایک باریش آدمی ماتھے پر تیوری ڈالتے ہوئے کہنے لگا کیا بات ہے?۔ میں نے کہا کچھ نہیں بس ذرا بچے کو سمجھا رہا تھا کہ آج کے دن ناچ گانے کی محفلون کی بجائے اللہ اللہ کیا جائے تو بہتر ہوگا ، وہ صاحب تنک کر بولے، جناب یہ بچے اپنے سٹائل میں حضور پاک کی آمد کا جشن منا رہے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہو رہی ہے، کہیں آپ ‘ وہابی" تو نہیں?۔ ۔ "کوئی بتلاو کہ ہم بتلائیں کیا"

میں اور میری مسسز حسب معمول رات کا کھانا کھا کر باہر والک کے لیے نکلے، آج بارہ ربیع الاول عید میلادالنبی کی وجہ سے سبھی راتے روشن منور تھے، بڑا اچھا لگ رہا تھا کہ کافی عرصہ بعد بجلی مسلسل آرہی ہے اور چھوٹے چھوٹے قمقموں کی سجاوٹ سے گلیاں محلے جگمگا رہے تھے، ہم اپنے روٹین کے راستے سے ہوتے ہوئے اگلے موڑ کی طرف جا رہے تھے، جہاں ایسے موقعوں پر کوئی رش نہیں ہوتا، مگر آج خلاف توقع اگلے چوک سے پہلے ہی راستے میں رش نظر آیا، حالانکہ سجاوٹیں وغیرہ تو گلیوں میں تھیں اور بڑا روڈ کھلا ہوا ہی تھا مگر اس چوک سے پہلے گلی سے باہر آکر چند ایک باریش بزرگوں نے مائیک ہاتھوں مین لیے لوگوں کو جمع کر کے نعرے لگوانے شروع کیے ہوئے تھے روڈ کی دونوں طرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا رش لگ گیا، میں نے بیگم کو ایک طرف کھڑا ہونے کو کہا اور ایک باریش نوجوان کو کہا کہ بھائی آپ ذرا آگے ہو کر مائیک والے صاحب سے کہیں کے یہ کام اگر آپ گلی کے اندر جہاں سجاوٹ کی ہوئی ہے وہان جا کر یہ نعرے لگوا لیں تو لوگوں کے گذرنے کا راستہ تو بلاک نہین ہوگا۔ نوجوان نے خفگی سے گھورتے ہوئے کہا ، جناب آج عید میلاد النبی کا دن ہے آپ لوگوں کو کس نے کہا تھا کہ آج باہر نکلو، ہم نے کوئی روز روز تو جشں منانا نہین ہوتا، اس پر بھی آپ لوگ ہمیں روک ٹوک شروع کر دیتے ہیں، اور دوبارہ مولانا صاحب کے نعرے :غلام ہیں غلام ہین"کے جواب میں "رسول کے غلام ہیں" کا جواب دینے لگا۔ میں اسکا جواب سن کر کچھ کہے بغیر بیگم کو ساتھ لیے واپس مڑ گیا، پیچھے سے آواز آ رھی تھی" غلامیئ رسول میں موت بھی قبول ہے، جو ہو نہ عشق مصطفیٰ تو زندگی فضول ہے۔، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں والے جن کے ساتھ خواتین بھی تھیں وہ بھی مایوس ہو کر واپس ٹرن کر رہے تھے جنیھں اب "عاشقان رسول" کی وجہ سے لمبا رستہ کاٹ اس چوک کی طرف جانا تھا، جس سے چند قدم پہلے غلامان رسول نعرے لگانے میں مصروف تھے۔ واقعی " جو ہو نہ عشق مصطفیٰ تو زندگی فضول ہے"۔ - حاجی صاحب نے اپنی گلی برقی قمقموں سے بھری ہوئی تھی جس مین 100 واٹ ک بلبوں کی کافی تعداد بھی جگ مگ کر رہی تھی، میں نے گذرتے ہوئے حاجی صاحب سے کہا واہ جناب بڑی رونق لگائی ہوئی ہے آپ نے، بولے: بس جناب عشق نبی پاک کا تقاضہ بھی نبھانا ضروری ہے نا، میں آن کی پشت کی جانب دیکھا جہاں سے لایئٹوں کی تاریں نکل رہی تھیں، چھوٹی تاریں تو ھاجی صاحب نے اپنے گھر سے اکسٹینشن لے کر لگائی ہوئی تھیں جبکہ بڑے 100 وات کے بلبوں کی تاریں بجلی کے میٹر سے پہلے "کنڈی" میں لگائی ہوئی تھیں۔ میں تعجب سے پوچھا حاجی صاحب یہ کیا، یہ تاریں تو سرکاری تار میں پھنسا کر ڈائیرکٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ بولے : لو جناب ہم نے کوئی ذاتی تقریب کے لیے تھوڑی یہ بجلی کے بلب روشن کیے ہوئے ہیں، عید میلادالنبی کی سجاوٹ کے لیے تو پھر "کنڈی" ہی لگانی پڑتی ہے نہ ۔ میں نے دل میں سوچا کہ واہ، نبی پاک کی ذات کو خراج تحسین اور وہ بھی چوری کی بجلی سے????? اور گھر کی جانب چل دیا۔

27 comments:

UncleTom said...

رسول کے عشق میں جشن ، اور وہ بھی دوسروں کے خرچ پر ۔۔ واہ رے دوغلے پاکستانیو

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

وہابی کہیں کے۔
سرکار دو عالم کا جشن ہے۔۔
پاکستان بھی انہی کی ملکیت ہے۔
کنڈی لگا لی تو کیا فرق پڑ گیا!!!۔

Abdul Qadoos said...

چند نامعقول ناہنجار لوگوں کی وجہ سے چند نامعقول ناہنجار لوگوں کو جشن ولادت نبی صلٰی اللہ علیہ وسلٰم پر تنقید کا موقع مل جاتا ہے

نورمحمد said...

محترم آ پ نے بالکل
حقیقت بیان کی ہے ۔۔۔ میں کل سوچ ہی رہا تھا کہ اس پر کچھ لکھوں ۔ ۔ ۔

اور محترم عبدالقدوس صاحب ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ یہ چند نامعقول لوگوں کی بات نہیں ہے ۔۔۔ ذرا غور کریں گیں تو ہر جگہ یہی تصویر نظر آئے گی ۔ ۔

اللہ ہمیں سمجھ عطا کرے ۔ آمین

نورمحمد said...

محترم آ پ نے بالکل
حقیقت بیان کی ہے ۔۔۔ میں کل سوچ ہی رہا تھا کہ اس پر کچھ لکھوں ۔ ۔ ۔

اور محترم عبدالقدوس صاحب ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ یہ چند نامعقول لوگوں کی بات نہیں ہے ۔۔۔ ذرا غور کریں گیں تو ہر جگہ یہی تصویر نظر آئے گی ۔ ۔

اللہ ہمیں سمجھ عطا کرے ۔ آمین

Abdul Qadoos said...

صوفی نور محمد صاحب مدظلہ علیہ! حضرت تنقید انتہائی غلط موقع پر کی گئی ہے

جعفر said...

اس طریقے سے جشن منانے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو شرم اور غیرت دونوں آنی چاہییں

UncleTom said...

عبدالقدوس بھائی اگر آپ اپنا نقطہ نظر تھوڑا تفصیل سے بیان کر دیں تو شاید کوئی غلط فہمی نہ رہے اور ہمین آسانی سے سمجھ بھی آجائے

ثاقب شاہ said...

میں اس بات کی مکمل گواہی دیتا ہوں کہ پاکستان میں اور خصوصاً کراچی جیسے شہر میں وہ تمام باتیں ہورہی ہیں جن کا ذکر آپ نے کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ بعض خواتین کی نعت خوانی اور سلام و درور کی محافل منعقد کی جاتی ہیں اور ان کی آواز باہر کے تمام غیر محرم مرد سنتے ہیں۔ اور بارہ ربیع اول والے دن ہمارے روڈ پے date point بنا ہوتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود میری گزارش ہے کہ اس کا حل کیا ہے تنقید برائے تنقید تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن اس کا حل یہ حدیث ہے یقیناً۔

ابو نجیح العرباض ابن ساریۃؓ کی سند پر روایت کیاگیا ہے کہ انہوں نے کہا الہک کے رسولﷺ نے ہم سے تنبیہ آموز خطاب فرمایا جس سے ہمارے دلوں میں خوف پیدا ہوا۔ اور ہماری آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ہم نے عرض کی،’’اے اللہ کے رسول، ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک الوداعی نصیحت ہو، تو ہمیں وصیت فرمائیے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا،’’ میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہواور سننے اور اطاعت کرنے کی اسکے باوجود کہ تمہارا حاکم ایک غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یقیناً، تم میں سے}اُس وقت تک{حیات رہنے والے لوگ بہت سے اختلافات کو دیکھیں گے۔ تو میری سنت پر قائم رہنااور میرے خلفاء راشدین جو کہ ہدایت یافتہ ہیں اُنکی سنت کو تھامے رہنا۔ اُسے اپنی داڑھ سے گرفت کرلینا }یعنی مضبوطی سے پکڑ لینا{۔ اور نئی متعارف شدہ چیزوں سے بچتے رہنا۔ دائماً، ہر اختراع گمراہ ہے۔ ‘‘
اسے ابو داؤد نے محفوظ کیا ور الترمذی نے محفوظ کیاجنہوں نے کہا کہ یہ حسن صحیح حدیث ہے۔
colourislam.blogspot.com

ضیاء الحسن خان said...

عبدالقدوس بٹ صیب ٹھیک فرمایا آپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12 ربیع الاول پر کی جانے والی بدعات کو اگر کوئی محرم میں لکھے گا تو بعض ناہنجارلوگ کہیں گے کہ “بھائی موقع اور مناسبت سے بات کیا کرو بے موقع اور بے محل بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی“

ثاقب صاحب، بلاگ پر خوش آمدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی شک نہیں جو آپنے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ اور بھلائی، فلاح اور نجات صرف اور صرف اللہ کے احکامات کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے پورا کرنے میں ہی ہے ۔۔۔ ۔اسکے علاوہ کسی بھی طریقے میں سوائے سراسر نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔

نور محمد صاحب بلاگ پر خوش آمدید ۔۔۔۔۔ اور آپ بھی ضرور لکھیے کہ یاد دہانی ایمان والوں کو نفع دیتی ہے

محمد نعمان said...

یہ تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو کچھ اس مضمون میں بیان کیا گیا وہ ایک حقیقت ہے، جو کہ شاید کسی اندھے کو بھی نطر آجائے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ دل کا اندھا نہ ہو۔

جہاں تک بات ہے نامعقول لوگوں کی نامعقول لوگوں پر تنقید تو میرے خیال سے معقول لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معقولیت سے اس نا معقولیت کا سدِ باب کرنے کا کچھ انتظام فرمائیں۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ خود بھی اس نامعقولیت میں اضافہ ثابت ہوں۔

عمیر ملک said...

سب جانتے ہیں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔ سب سمجھتے بھی ہیں کہ کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے۔ پتا نہیں کیوں پھر بھی بس کئے جاتے ہیں۔ اور بعض چیزیں تو معاشرے کا ایک تاریک پہلو بن گئی ہوئی ہیں، ہر تہوار، جشن، تعطیل وغیرہ کی آڑ میں یہی کچھ ہوتا ہے۔
لوگ بہت سے کام بس کاؤنٹر سیلیبریشن کے طور پہ ہی کر رہے ہیں آجکل۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر جواد احمد خان said...

اگر میں یہ کہوں کہ یہ سب کچھ ایک سیاسی حربہ سے زیادہ کچھ نہیں تو بہت سارے لوگ ناراض ہوجائیں گے۔
مگر حقیقت یہی ہے کہ جشن عید میلاد النبی یا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ ایک سیاسی نعرہ بن چکا ہے جسکا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل بیت اور شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شیعہ لوگ کیش کراتے ہیں اور اپنی موجودگی اور طاقت کو شو کرتے ہیں۔
عشق رسول کسی میلاد اور جشن کا محتاج نہیں

افتخارراجہ said...

حضرت یہ تو کچھ بھی نہیں یہ سلسلہ تو اب انٹرنیشنل ہوچکا ہے، ادھر اٹلی میں ہمارے شہر بریشیا سے لیکر مانچسٹر، لوٹن، برمنگھم تک یہی نظارے تھے اور جیو، کیو ٹی وی، نور ٹی وی اور جانے کون کون سے چینل براہ راست جلوسوں کی کوریج دے رہے تھے، مانچسٹر سے ایک بھگی بردار جلوس کی قیادت دو لمبی دھاڑیوں والے پیر صاحبان فرمارہے تھے، ہیں جی، لگا ملکہ کی سواری جارہی ہے، اور ہم جیسے لوگ گھر میں بیٹھ کر ڈی وی پر دیکھ رہے تھے اور ہمشیرہ صاحب واہ واہ کہہ رہی تھیں، کہ دیکھا عشق رسول مین لوگ کیا کیا کرتے ہیں ، ایک آپ ہو کہ گھر میں بھیٹے ہوئے صوفہ توڑ رہے ہو، ہیں جی

ثاقب شاہ said...

ضیا صاحب شکریہ کہ آپ نے میرے رائے کی تائید کی۔
گزشتہ روز میں نے ایک حدیث سنی اور واللہ میں کانپ اٹھا اور اس شدت نے مجھے آمادہ کیا کہ میں اس حدیث کو جب تک صحیح حدیث کی کتاب میں خود نہ دیکھ لوں کسی سے بیان نہیں کرونگا ۔ اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور آدھے گھنٹے کی قلیل محنت کے بعد مجھے حدیث مل گئی۔
آپ اس حدیث کو پڑھیں واللہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کی آواز ہے جو ہمیں تنبہ کررہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
منصورہ بن ابی مزاحم یحیی بن حمزہ اوزاعی اسود بن عبداللہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أصبھان کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیروکار ہوجائیں گے جن پر سبز رنگ کی چادریں ہوں گی۔
صحیح مسلم باب فتنوں کا بیان، جلد سوم، حدیث:2895

میرے بھائیوں میری گزارش ہے کہ ہر اس کام سے آپ اپنے کو بچائیں جو کہ بدعت ہے اور ان تمام لوگوں کی مدد کریں جو دین اسلام کو اس سرِ زمین پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ کوشش میری طرف سے یہ ہے کہ اپنے بلاگ کو ان مختصر تحریروں سے مزین کروں جوکہ دین اسلام کی اصل تک پہننچے میں معاون ہوں ۔ علم کی کس پاس کمی ہے ؟پس عمل کی کمی ہے۔اللہ ہماری مدد فرمائے۔ آمین

عادل بھیا said...

ضیاء بھیا اِس بامعنی پوسٹ کیلئے شکریہ اور اللہ کرے اِس تحریر کو اللہ کسی نہ کسی کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ یقین مانئیے دِل بہت دُکھتا ہے اپنی ہی معصوم بہن بھائیوں کی اِن حرکات پر۔ اللہ ہمیں ہدایت دے

بنیاد پرست said...

حقیقت لکھی ہے، جہاں اس طبقے کی کچھ اکثریت ہے وہاں یہی کچھ ہوتا ہے ۔

Anonymous said...

کچھ سعودی ریالوں کا اثر ہے اور کچھ وہابی نجدیوں کی غلامی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی وہاں روٹی روزی لگی ہے۔۔ایسی باتیں تو آپ کرہں گے ہی۔۔۔۔ کبھی عربوں کی بدتمیزیوں اور گستاخیوں پر بھی روشنی ڈالیں تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو۔

ضیاء الحسن خان said...

گمنام بھائی نام تو لکھو ذرا چہرا تو کرواو اپنا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے بعد آپ جو کہو لکھ دینگے

ثاقب شاہ said...

مجھے بڑا افسوس ہوتاہے جب ہمارے مسلمان بھائی جانز اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ ان کا فرقہ بہتر ہے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ذرا بھی تعامل نہیں کرتے۔ برائے کرم قرآن مجیدکو پڑھیں اور واللہ صرف اس کی قرأت ہی نہ کریں اس کا ترجمہ پڑھیں تفسیر پڑھیں اور معلوم کریں کہ آیا ہمارا اسلام دین حنیف ہم سے کیا تقاضا کررہا ہے۔ کفارومشرکین اکھٹے ہوچکے ہیں مسلمانوں کے خلاف کیا مسلمان متحد نہ ہو کفارومشرکین کے خلاف۔۔۔۔۔
ثاقب شاہ
colourislam.blogspot.com

Anonymous said...

جناب عرب ةو اس دن صبح اته كر روزه ركهةي هين اور ابني كام بر جاةي هين كوي بد اعمالي يا ةعطيل نهين كارةي

Truth Exposed said...

شکر کریں کہ آپ زندہ بچ گئے...
زیادہ بحث کرتے تو عاشقان رسول آپ کی چھترول بھی کر سکتے تھے...

Truth Exposed said...

plz remove the word check for spam form your blog.
It really hurts while commenting
thanks

جہانزیب اشرف said...

ہزار کنجر و ہابی مرے تے جب ایک ضیا آوے مولوی پیدا ھؤا ۔۔۔کچھ سعودی ریالوں کا اثر ہے اور کچھ وہابی نجدیوں کی غلامی کا۔۔۔۔۔

umar said...

جی بالکل
ایسا ہی ہوتا ہے
دو ہزار گیارہ میں میں فیصل آباد کے ایک ہسپتال میں تھا کیونکہ گیارہ ربیع الاول کو میرے دائیں بازو کا آپریشن تھا۔
آپریشن کی وجہ سے رات پہلے ہی بہت بھاری محسوس ہورہی تھی کہ اچانک بارہ بجے فائرنگ شروع ہوگئی جق کہ صبح آٹھ تک جاری رہی۔
بارہ ربیع الاول کے دن صبح 10 بجے ڈھول پیٹنا شروع کردیا گیا۔
میں جب ہاسپٹل سے باہر اپنی گاڑی میں آکر بیٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چوک میں خانہ کعبہ کا ماڈل بنا کر اسکا طواف کیا جارہا تھا۔
استغفراللہ

ارتقاءِ حيات said...

مسلمانوں کو اس امر کا احساس کرناچاہئے کہ آج ان کے پیغمبر کی توہین اس لئے ہورہی ہے کہ وہ دنیا میں کمزورو ناتواں ہیں اور بین الاقوامی سطح پران کاکوئی وزن اور ان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ اگر آج وہ تنکے کی طرح ہلکے نہ ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ ان کے پیغمبرﷺ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا احتساب کریں ، اپنی کمزوریاں دور کریں اور اسبابِ ضعف کا خاتمہ کریں ۔ اپنے دین سے محکم وابستگی اختیار کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں احکامِ شریعت پر عمل کریں کہ یہی ان کے لئے منبع قوت ہے اور گہرے ایمان اور برتراخلاق کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی متحد ہو کر آگے بڑھیں اور طاقتور بنیں تاکہ دنیاان کی بھی قدر کرے اور ان رہنمائوں کی بھی جنہیں وہ مقدس سمجھتے اور محترم گردانتے ہیں ۔

ہو اگر عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
(اقبال)

Zeeshan Ahmad said...

حد ہوگئی ایک حقیقت پر مبنی تحریر کو وہابیت کا طعنہ دے کر ون سائیڈڈ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے