Tuesday, June 24, 2014

وہ محبت تھی ہی نہیں!!!


وہ محبت تھی ہی نہیں اگر محبت ہوتی تو اتنی آسانی سے اس سے دستبردار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
میرے حساب سے تو مجنوں سے ایک لیول کے اپر تھا میں محبت میں گھر پہنچتے ہی ابا سے ملاقات ہوئی اور میں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ابا حضور مجھے محبت ہوگئی ہے تو ابا نے پہلے تو کچھ دیر مجھے دیکھا اور پھر کہا کہ میرے نکمے لعل تو یہ اسکو بتا جس سے محبت ہوئی ہے مجھے بتانے سے کیا فائدہ میں نے کہا کہ اصل میں وہ جس سے محبت ہوئی ہے وہ جس گھرانے کا ستارہ اور کرن ہے وہاں شائد آپ کی رضا نہ ہو تو اب کہنے لگے کہ اگرچہ محبت واقعی ہے تو پھر ہماری مرضی ہو یا نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا بشرطیکہ محبت ہو،۔۔اس مکالمے کے بعد میں نے ابا کو ساری تفصیل بتادی کہ کس سے ہوئی اور کتنی ہوئی اور یہ بھی کہ دونوں جانب برابر کی آگ لگی ہوئی ہے اس پر ابا اتنی آسانی سے راضی ہوجائینگے یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔۔خیر ابا صرف اور صرف ہماری محبت کی شدت دیکھ کر اپنے پرانے خاندانی جھگڑوں کی بھلا کر پہنچ گئے رشتہ لے کر وہاں پہنچ کر پہلا سامنا ہی ہماری محبت سے ہو گیا اور ابا چونکہ بہت ہی دوراندیش تھے اسی دور اندیشی کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا کہ آج تو میں یہ جو سلسلہ چل رہا ہے اسکو فائنل کر کے ہی جاؤنگا یہ سنتے ہی ہماری محبت نے جو جواب دیا اسکو سننے کے بعد میں تو چکرا ہی گیا اور ابا نے جو مجھے دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ جیسے کہہ رہے رہوں یہ ہے تمھاری محبت جو ایک سوال کے سامنے نہیں رک سکی وہ ساری زندگی تمام تر مشکلات اور پریشانیوں میں کیا ساتھ دے گی تمھارا۔۔۔۔۔اور اسکے بعد ہماری محبت تو شائد ختم نہیں ہوئی تھی مگر جس سے محبت تھی اسکی محبت شائد ٹھنڈی پڑگئی تھی مگر میں بھلا اپنے دل کا کیا کرتا جو کہ کسی طور سنبھل ہی نہیں رہا تھا اسکا حل ایسا نکالا میں نے کہ دل و جاں صرف اور صرف پڑھائی پر لگادی مشکل توبہت ہوئی خیر اب اتنی بھی مشکل نہیں مگر محبت کا بھوت اتر گیا یا یوں کہہ لو کہ خاموش ہوگیا اسی دوران چار سال گذر گئے اور ہماری پہلی محبت بھی شائد اپنی پہلی محبت کے ساتھ اپنے پیا گھر سدھار گئیں جس کا کہیں دل کے کسی گوشے میں افسوس تو بہت ہوا تھا مگر کہتے ہیں نہ وقت بڑا مرہم ہے تو اس مرہم نے بھی یہی کام کیا اور بس کچھ بھول بھال کے نوکری میں لگ گیا اسے کے بعد پھر اچانک ہی کچھ کچھ ہونے لگاباقی اب پتہ چلا کہ محبت جب ہوتی ہے تو وہ کم نہیں ہوتی وہ بڑھتی ہی جاتی ہے مطلب اس رفتار سے بڑھتی ہے کہ جسکا مجھے اب پتہ چلا اور کبھی کبھی تو لگتا سوچتا ہوں کہ ضروری نہیں کہ پہلی محبت ہی پہلی ہو اکثر دوسری تیسری محبت بھی پہلی ہی ہو سکتی کیونکہ جو ہو کہ بھول جائے یا بھلا دی جائے وہ محبت ہوتی ہی نہیں ہے اور جس محبت میں صرف ترقی ہی ترقی ہو اور جس میں کوئی مفاد اور توقع نہ ہو اصل محبت وہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔آخر میں ابا مرحوم کا بہت بہت شکریہ کہ جنکی رہمنائی اور جنکی نصحتیں آج تک ہمارے بدرجہ اتم کام آرہی ہیں :)

باقی ریفیرینس کے لئے دو جنوری والی پوسٹ تو سب نے پڑھی ہی ہوگی

15 comments:

DuFFeR - ڈفر said...

مولبی ساب ایک بار پھر آن دا ریکارڈ مکھن بازی کرتے ہوئے :ڈ

Mudassir Iqbal said...

شاندار، کافی نئی معلومات ملیں ، ہو زور قلم اور زیادہ -

Mudassir Iqbal said...
This comment has been removed by the author.
faheem wali said...

جانے کیوں لوگ پہلی لالچ کو محبت سمجھ لیتے ہیں:ڈ

افتخار اجمل بھوپال said...

یہ تو نوجوانوں کے ساتھ ہوتا ہی ہے ۔ میں کیوں بچ گیا ؟ اس میں میری کوئی بہادری نہیں ۔ اب سوچتا ہوں کہ شاید وجہ یہ رہی ہو کہ بچپن سے ہی لڑکیاں مجھے بہت لِفٹ کراتی تھیں ۔ سب سے یکساں سلوک اور لڑکیوں کا چھوٹے بھائی کی طرح کہا ماننا ۔ چناچہ کسی پر مر مٹنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوا ۔ لیکن محبت سے بچا نہیں کیونکہ منگنی ہو جانے کے بعد دل میں کچھ کھسر پسر ہونے لگی جو شادی کے بعد پائیدار محبت بن گئی اور اب تک چل رہی ہے دادا بننے کے بعد بھی

ضیاء الحسن خان said...

جناب بھوپالی صاحب یہی تو ہے اصل محبت اور یہی تو مطلوب ہے آج کل

saeed irshad said...

پہلی دفعہ آپکی تحریر پڑھی اچھی لگی جیتے رہیے..

محمد سلیم said...

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
بہت عرصے کے بعد لکھنے کیلئے شکریہ قبول کریں، مزید کا انتظار ہے۔

sarwataj said...

good

Dohra Hai said...

آپ کا ٹوٹا هوا قلم پھر سے چل پڑا اچھا لگا .اب اس سلسلے کو جاری رکھئے گا.

Sikandar Baba said...

اتنے عرصے بعد لکھا ہے آپ نے کہ مجھے اب پتا چلا آپ بلاگر ہیں اور ماشاء الله اچھے خاصے بلاگر ہیں :)

Anonymous said...

والد مرحوم کیلئے دل سے دعائیں نکلیں۔ ورنہ ایسے ابے ملتے کہاں ہیں

سعید

افتخار اجمل بھوپال said...

جناب ۔ میں بھوپالی یعنی بھوپال کا رہنے والا نہیں ۔ میرے قبیلہ کا نام بھوپال ہے

Baghi Bol said...

بعض اوقات وقتی جذبات کو ہم پیار سمحھ لیتے ہیں پر وہ صرف وقتی ابال جذبات اور صرف پسند ہوتی ہے جسے بندہ عشق سمجھنے لگتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بندہ تقریبا بھول جاتا ہے کہ کسی دور میں وہ کسی شخص کیلیے کس قدر شدید جذبات رکھتا تھا۔

Anonymous said...

یہ لگتا بھابھی سے کُٹ کھانے کے بعد کی مکھن بازی ہے لکھوا لیں لیکن سوچ میں ڈال دیا آپ نے