Tuesday, May 26, 2015

یقین!!

ہماری بہت ہی محترم چھوٹی بہن عائشہ بنت نفیس کی ایک پُر اثر تحریر آپ قارئین کی نظر اپنئ آراء سے ضرور نوازیں اور عائشہ ٹوئیٹر پر @AyeshaBNafees کے نام سے موجود ہیں

اسکی ہنسی بہت خوبصورت تھی۔ شفاف اور دلکش۔ چمکتی آنکھوں کے ساتھ جب اس کے تیکھے نقوش میں دو گڑھوں کا اضافہ ہوتا تو اس لمحے کوئی بھی لڑکی
اسے اپنا دل دے بیٹھتی۔ اور اس وہ اسکی گھبرائی بوکھلائی دلیل سن کر دل کھول کر ہنس رہا تھا۔
"تو کیا تمہیں اس کی محبت کا یقین نہیں؟"- عمار آدھے گھنٹے سے اسے راحیل کی غیرسنجیدگی سے ڈرا کر تفریح کر رہا تھا۔ اس نے مزید چھیڑنے کے لئے پوچھا۔ "کیا تمہارے لئے یہ تسلی کافی نہیں کہ وہ جہاں بھی جائے گا، گھر لوٹ کر تمہارے پاس ہی آئے گا؟"
ثمرہ کی مبہم مسکراہٹ اچانک سے گہری ہو گئی۔
"آپ نے کبھی مذہب کو پڑھا ہے؟"
"مطلب؟ قرآن شریف پڑھا ہے۔ روزوں میں پورا قرآن ختم کرتا ہوں۔" اس کا فخریہ انداز اور سنجیدگی دیکھ کر ثمرہ کا ایک لمحے کو زور سے ہنسنے کا دل چاہا۔ لیکن اس نے اپنا سوال دہرایا۔
"مذہب ۔ میرا مطلب ہے comparative religion کو سٹڈی کیا ہے؟"
"نہیں۔ کیوں!؟"
"آپ اور میں پیدائشی مسلمان ہیں ۔ اندھا یقین ہے ہمارا قرآن پر۔ لیکن ھمارے دل پھر بھی بےچین رہتے ہیں اور ہم اپنی عبادات سے بھی دور ہیں اور اپنے رب سے بھی۔ مذہب ہمارے ارد گرد ہوا کی طرح موجود ہے اور ہمیں اسکی قدر نہیں ۔ اس کے برعکس وہ شخص جو سوچ سمجھ کر اپنا مذہب اپناتا ہے، اسے اُسکی پوری قدر ہوتی ہے۔ وہ اس کے دل میں اتر کر اس کا سکون بن جاتا ہے۔ عجیب سی بات ہے لیکن اکثر ہم religiously converted لوگوں کے چہروں سے ان کے سکون اور یقین کو پڑھ سکتے ہیں ۔ وہ ہوا میں صرف سانس نہیں لیتے۔ وہ اپنے عقیدے کی پختگی اور اسکی خوشی گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں۔ محبت بھی ایسی ہی چیز ہے۔ خود سے محبت کے ہونے کا یقین کر لو، تو ہوا کی طرح موجود تو رہتی ہے، مگر بے رنگ اور بےبو۔ اپنی محبت کی conviction اگر دیکھ لو تو پھر دل میں ہی نہیں، سینے میں اتر کر روح تک سرشار کر دیتی ہے۔ مجھے اس سے محبت ہے عمار ۔ کیا وہ مجھے یہ conviction دے سکتا ہے؟ "

باتیں کروڑوں کی اور دوکان پکوڑوں

باتیں کروڑوں کی اور دوکان پکوڑوں کی جس نے بھی یہ محاورہ بنایا ہے کوئی کمال کا ہی حقیقت پسند انسان ہوگا یا پھر اسکا واسطی ایسے لوگوں سے ہی پڑا ہوگا کے جنکی زندگی صرف باتیں کرتی ہی گذری ہوگی خیر یہاں آج ایسا کوئی خاص موضوع نہیں ہے سوائے اسکے کے یہ جو آجکل بلاگنگ بلاگنگ کا شور مچا ہوا ہے اور ہر شخص اپنی حیثیت، تجربے اور مشاہدے کے مطابق جو بھی معاشرے میں اچھائی یا برائی نظر آرہی ہے اسکو لکھ رہا اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کے اب بھی لوگوں میں اچھائی اور برائی محسوس کرنے کی صلاحیت باقی۔۔۔۔۔۔

اب آتے ہیں اصل مسئلے کی جانب جہاں کچھ دوست لوگ بلاگنگ کو سوائے ایک اندھے کنوئیں کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں وہیں ہمارے ملک، یہاں ہمارے ملک اس لئے کہا ہے کے کسی اور ملک میں ایسا کوئی واقعہ دیکھنے کا میرا کوئی تجربہ نہیں، تو ہمارے ملک کا آج کے دور کا سب سے اہم میڈیا جس کو الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے اور انکے ذیلی ادارے جو لوگوں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور دیگر مراعات دے کر اپنے پاس ملازمت دیتے ہیں کے وہ انکے ادارے کے لئے کچھ لکھیں گے، اس ہی میڈیا کے بڑے بڑے مشہور صحافی اور اینکرز ان چھوٹے چھوٹے اردو بلاگرز کی تحاریر کو بغیر کسی اجازت کے اپنے کالمز میں چھاپتے رہے ہیں اور چھاپ رہے ہیں اور اگر کوئی نشاندہی کردے تو بجائے اسکے کہ اس پر شرمندہ ہوں آگے سے تاویلیں دینا شروع کردیتے ہیں کے یہ تو ہمارے پاس برسوں سے لکھی ہوئی رکھی تھی۔۔۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کے اردو بلاگنگ سے وابسطہ لوگ چاہے کوئی بھی ہوں اور انکے آپس میں کیسے بھی تعلقات ہوں سرد و گرم یہ تو ویسے بھی زندگی کی نشانی ہے مگر کم سے کم ان میں اتنی صلاحیتیں تو موجود ہیں کہ اللہ نے جو ان کو عقل و فہم دیا ہے اسکو استعمال کرتے ہیں اور بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی مشہوری کی خواہش کے جو دیکھتے ہیں وہ لکھ دیتے ہیں اور ایسے تمام لوگوں سے بہت ہی بہتر ہیں جو پیسے بھی لیتے ہیں انکی مشہوری پر لاکھوں روہے بھی خرچ ہوتے ہیں اور لکھنے کے لئے انکو صرف دوسرے کے بلاگز کی اسٹالکنگ کرنی پڑتی ہے اور پرانی کوئی اچھی تحریر اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں۔

اب اس بات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس شخض کو اتنا بھی علم و فہم، نہیں کے وہ کس طرح معاشرے کی برائی اور اچھائی عوام الناس کو دکھا سکے اس سے یہ کیسے امید لگائی جاسکتی ہے کے وہ معاشرے کو برائی سے بچا سکے گا،،،،

پتہ نہیں بات کہاں سے کہاں نکلے جارہی ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کے اردو بلاگرز کو پڑھیں یہاں بہت اچھے اچھے لکھنے والے ملیں گے اور ہر موضوع پر انکو صرف اس وجہ سے کنوئیں کا ڈڈو نہ کہیں کے یہ اپنی قومی زبان میں لکھتے ہیں اور قومی زبان کے فروغ کے لئے بغیر کسی لالچ کے انتھک محنت کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ انکی نہ دوکانیں انچی ہیں اور نہ ہی یہ بڑے بڑے نام نہاد صحافیوں اور چینلیز کی طرح صرف باتیں کروڑوں کی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

والسلام

Saturday, May 16, 2015

ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔ گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے


محبت۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔
گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے۔


نواز شریف کی کرپشن کی تاریخ بیان کرتے کرتے میری تحریر کا موضوع اچانک محبت جیسا لطیف جذبہ ہوگیا۔۔۔۔۔ شاید لوگوں کو حیرت ہو گی کیونکہ کہاں ٹویٹر کی سخت الفاظ استعمال کرتی ہوئی تلخ ، بدتمیز اور بدزبان لڑکی اور کہاں محبت کا لفظ۔
اس لڑکی کے تو محبت کبھی قریب سے بھی نہ گزری ہوگی۔ لیکن جو لوگ میرے قریب ہیں یا تھے، چاہے وہ تحریکی ہوں، پٹواری ہوں یا نام نہاد نیوٹرل، میری وہ سائڈ جانتے ہیں جو محبت سے لبریز ہے۔
میرے دل سے صرف محبت کی ترسیل ہوتی ہے۔ میرے اندر سیاست کو لے کر جو تلخیاں بھری ہیں وہ میری پاکستان سے بےپناہ محبت کی وجہ سے ہی اتنی شدید ہیں۔ میرا دل محبت کے سوا کچھ اور کرنا اور سوچنا جانتا ہی نہیں۔

میں نے اس موضوع پر اپنے احساسات قلمبند کرنے کا فیصلہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کیا۔ شاید یہ تحریر آپکو بے ربط لگے اور اسکا مقصد بھی سمجھ میں نہ آئے۔ اس تحریر کا مقصد تو مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا لیکن آج شاید پیمانہ چھلک گیا ہے، شاید میں catharsis کرنا چاہتی ہوں۔ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہوسکے یا شاید کوئی اسکو پڑھ کر نصیحت ہی حاصل کرلے۔

ایک عزیز دوست سے باتوں کے دوران گفتگو کا رخ غیر ارادی طور پر محبت کی طرف مڑ گیا۔ ایسا میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک مرد نے مجھے محبت کا مفہوم ایک مرد کے perspective سے بتایا۔

سن کر دھچکا لگا۔ محبت کے خوبصورت جذبے کی یہ تشریح میرے لیئے ناقابلِ فہم تھی۔
'عورت کا دل ایک ہوتا ہے، مرد کے کئی دل ہوتے ہیں۔'
دوست کے کہے اس ایک جملے نے مجھے ہر بات سمجھا دی۔ میرے دماغ میں زویا کیے لکھے بلاگ کا ایک ایک لفظ گونجنے لگا۔
میرے اس دوست نے مرد کے دل اور محبت کو کیسے بیان کیا میں انہی کے الفاظ میں بتانے کی کوشش کرتی ہوں۔
'مرد فطرتاً ٹھرکی ہوتے ہیں۔ انکا دل مچلا ہی رہتا ہے۔'
بات اگرچہ تلخ ہے لیکن عورت اور مرد کی نفسیات میں بہت فرق ہے۔ جب دل اور دماغ ایک ہی طرح فنکشن کرتے ہیں تو نفسیات فرق کیوں؟
'سچ تو یہ ہے کہ مردوں کو 'بہک' جانے کے بہانے چاہیئے ہوتے ہیں۔' یہ میرے نہیں ایک مرد دوست کے الفاظ ہیں۔
'خالص محبت صرف عورت کا ظرف ہے، مرد شاذ و نادر. ہاں محبت کے نام پر بیوقوف بنانے کے مرد ماہر۔۔۔۔ ایک ڈھونڈو ہزار دستیاب ہیں۔'
شاید ہر لڑکی کو ڈی ایم میں 'تم میری آخری محبت ہو' کاپی پیسٹ کرکے بھیجا جاتا ہے۔

مرد کی نفسانی خواہشات زیادہ ہیں۔ یہ قاعدہ کس نے بنایا ہے؟ عورت چاہے جانے اور سراہے جانے کی خواہش میں مردوں کی چالبازی کا شکار ہوتی ہے جسے وہ اپنی دانست میں محبت سمجھ رہی ہوتی ہے۔ مرد دل بھر جانے پر اپنا راستہ پکڑتے ہیں اور عورت اسے محبت میں دھوکہ سمجھ کر سوگ مناتی رہ جاتی ہے حالانکہ مرد نے اس سے محبت کی ہی نہیں ہوتی۔ مردوں کے پاس ہزار جال، ہزار ترکیبیں۔ لڑکیاں معصوم مردوں کی دُکھی داستانیں سن کر آبدیدہ ہوجاتی اور انکی محبت میں غوطے لگانے لگتی ہیں۔ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ ناخدا نہیں ہیں، ڈوب جانے دینگے۔
مرد کے وعدے، قسمیں کسی رومانوی ناول یا دیسی فلموں میں تو سچے ہوتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں خال خال۔
اور محبت جب ہوتی ہے تو بےحد ہوتی ہے۔ اس میں توازن رکھنے کا کہنے والے محبت کا مفہوم جانتے ہی نہیں۔ مردوں نے اس جذبے کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کردیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج یہ لفظ اپنا اعتبار کھو رہا ہے حالانکہ کہتے ہیں کہ محبت آفاقی جذبہ ہے۔
میں feminist نہیں ہوں لیکن دل تو بہرحال عورت کا ہی ہے۔
میرا مقصد کسی خاص شخص یا گروپ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انصافی ابھی بچے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کا ابھی اندازہ نہیں ہے۔ عام نوجوانوں کی طرح فلمی محبتیں کرتے ہیں۔ دوستوں کیساتھ سکرین شاٹس وغیرہ شئیر کرنا بہرحال گھٹیا حرکت ہے چاہے کسی بھی عمر میں کی جائے۔ پٹواری البتہ گھاگ مرد ہیں۔ انہیں اپنی ٹھرک لفاظی کر کے 'عشق' کی صورت پیش کرنے میں زیادہ دقّت پیش نہیں آتی۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ انکی اس حرکت سے لڑکی کی نفسیات ہمیشہ کیلئے ڈسٹرب ہوجاتی ہے۔ وہ ہمیشہ کیلئے insecurities کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندگیاں برباد کرتے ہوئے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ انکی بہن، بیٹی، ماں بھی عورت ہیں اور اسی عورت کی پسلی سے وہ اس دنیا میں لائے گئے ہیں۔
مرد لڑکی کو کیا سمجھتے ہیں یہ تفصیلات ایک مرد کی زبانی سن کر تکلیف تو بہت ہوئی لیکن محبت پر میرا پختہ ایمان اور مضبوط ہو گیا۔ محبت اگر خالص ہو تو عبادت ورنہ ٹائم پاس کیلئے ڈی ایمی محبتیں تو ہر وقت دستیاب ہیں۔

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت___
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

یہ بلاگ لکھا ہے محترمہ ZAF صاحبہ نے وہ ایک مہمان لکھاری ہیں انکو ٹوئیٹر پر @MaonBillii کے نام سے تلاس کیا جاسکتا ہے

Wednesday, December 17, 2014

بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال


معلوم نہیں، آرمی اسکول کے بچوں کو قتل کرنے کے حق میں بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال، ذمہ داروں نے واقعی کیا ہے یا نہیں، لیکن اگر کیا ہے تو یہ افلاس علم کے باوجود تحکم اور خود اعتمادی کے اسی رویے کی ایک مثال ہے جو اس پورے طبقے میں علی العموم دکھائی دیتا ہے۔ بنو قریظہ کے جن مردان جنگی کے قتل کا فیصلہ، خود انھی کے مطالبے پر مقرر کردہ حکم نے کیا اور جو خود تورات کی شریعت کے مطابق تھا، وہ یہودیوں کے کسی مدرسے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے جن پر اچانک جا کر دھاوا بول دیا گیا اور کہا گیا کہ زیر ناف بال دیکھ کر بالغوں اور نابالغوں کو الگ کر دیا جائے اور بالغوں کو قتل کر دیا جائے۔ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور ایک نہایت نازک موقع پر مدینہ پر حملہ آور مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی تھی۔ ان کا باقاعدہ جنگی قوانین کے مطابق محاصرہ کیا گیا اور پھر انھی کے مطالبے پر انھیں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی اجازت دی گئی کہ ان کے متعلق فیصلہ ان کے اپنے منتخب کردہ حکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کروایا جائے گا۔ چونکہ بنو قریظہ کی پوری آبادی اس جنگی جرم میں ملوث تھی، اس لیے ان کے عورتوں اور بچوں کوچھوڑ کر تمام مردان جنگی کو یہ سزا دیا جانا کسی بھی لحاظ سے جنگی اخلاقیات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ دشمن کے کیمپ سے متعلق غیر مقاتلین پر اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں جمع ہونے والے معصوم بچوں پر حملہ آور ہو کر انھیں قتل کر دینا، سنت نبوی کی پیروی ہے، جہالت اور سفاہت کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔

Tuesday, December 2, 2014

ناسٹیلجیا ۔۔۔۔۔


ہمارے دوست ابو نجمہ سعید صاحب کی جانب سے ایک بہترین قسم کا اظہار اور ماضی کی یاد۔۔۔۔۔۔ تمام اردو بلاگرز حضرات سے انکی شخصیت کوئی دھکی چھپی نہیں ہے۔۔۔۔۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ سچ کہا جس نے کہا کہ آدمی کو مکان اور اس کے متعلقات سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے جتنی عزیزوں سے۔ واٹس ایپ پر ویڈیو اور تصاویر موصول ہوئیں، اس حسرت ناک خبر کے ساتھ کہ آم کا پیڑ کاٹ دیا گیا۔ ہائے ہائے!!! خبر کیا تھی اک تیر پُر ستم تھا جو سیدھا جگر میں پیوست ہوا۔ ایسا لگا کہ آرا پیڑ پر نہیں ہمارے دلوں پر چلا۔ کاٹا اسکو نہیں ہمیں گیا۔ اکھاڑا اسکو نہیں ہمیں گیا۔ شاخیں اسکی نہیں بازو ہمارے کاٹے گئے۔اوندھے منھ وہ نہیں ہم گرے۔ ہائے ہائے!! آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں۔ تو پکارے ہائے گل، میں چلاؤں ہائے دل۔ یہ تو معلوم نہیں کب سے تھا وہ ۔ البتہ آنکھ جب سے کھولی تب سے تھا وہ۔ کرکٹ بھی اسی کی چھاؤں میں کھیلی، کیریاں بھی اسی کی کھائیں۔ اسی کے نیچے اپنے دادا کو پوتوں کا قرآن سنتے دیکھا۔ ان کے بعد والد صاحب اور چچاؤں کو دیکھا۔ آنے والے مہمانوں کو دیکھا۔ ہونے والی مٹنگوں کو دیکھا۔دی جانے والی اذانوں کو دیکھا۔ پڑھی جانے والی نمازوں کو دیکھا۔ ہونے والی شادیوں کو دیکھا۔ رکنے والی گاڑیوں کو دیکھا۔ بہنے والے پانیوں کو دیکھا۔پانی پینے والے بیلوں کو دیکھا۔ نہلائے جانے والی بھینسوں کو دیکھا۔ تیرنے والے ہم عمروں کو دیکھا۔ وضوء کرنے والے بزرگوں کو دیکھا۔پڑھے جانے والے قرآنوں کو دیکھا۔ ہونے والے دوروں کو دیکھا۔ دینے والے مالکوں کو دیکھا۔ لینے والے مزدوروں کو دیکھا۔ میٹنگ ہال بھی تھا وہ۔ مردان خانہ بھی تھا وہ۔ مہمان خانہ بھی تھا وہ۔گاڑیوں کا گیراج بھی تھا وہ۔ آنے والے مرد مہمان اسکے نیچے بچھی چارپائی پہ بیٹھتے اور عورتیں گھروں میں چلی جاتیں۔ چائے ناشتہ جو ہوتا وہ اس کی چھاؤں میں۔ شادی بیاہ کے ہنگامے جو ہوتے وہ اس چھاؤں میں۔ اذانیں جو ہوتیں وہ اسکی چھاؤں میں۔ نمازیں جو ہوتیں وہ اسکی چھاؤں میں۔ صرف دو موقعوں سے ویران ہوتا۔ ایک برسات میں دوسرے رات میں۔ اول الذکر کی وجہ بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ثانی الذکر کی وجہ آپ جانتے ہی ہونگے ۔ واٹس ایپ پر جو آج خبر موصول ہوئی تو ایسے لگا جیسے دادا کا ایک بار پھر انتقال ہوگیا۔ لگنا بھی بجا ہے کہ آخر تھا بھی وہ دادا ہی کی عمروں کا۔ دادا ہی طرح ہمیشہ دیا لیا کبھی نہیں۔ حتی کہ مرتے ہوئے بھی نہال کرگیا ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ سچ کہا جس نے کہا کہ آدمی کو مکان اور اس کے متعلقات سے اتنی ہی محبت ہوتی ہے جتنی عزیزوں سے۔ہائے ہائے!! آ عندلیب! مل کے کریں آہ و زاریاں۔ تو پکارے ہائے گل، میں چلاؤں ہائے دل۔ حالت غم میں ہوں یارو! تعزیت کرتے جاؤ یارو!

Wednesday, November 26, 2014

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔


ہمارے ایک بہت ہی قریبی دوست حافظ عبدالناصر کی لکھی ہوئی ایک بر اثر تحریر آپ سب کے لئے بیشِ خدمت ہے ۔۔۔

کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں لگتا ہے ، کہ کسی نے کراچی کو الگ کرنے کی بات کی تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ جیت ہار کے فیصلے پر کسی نے پنجاب کو برا بھلا کہا ، تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ مری غریب جاہل عوام کو بے غیرت کہا گیا تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے، کہ لوگوں نے جب پاکستان کی امید کے مرنے کی بات کی تو مجھے دکھ نہیں ہوا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے، کہ جیتنے والوں کی دھاندلی کا دکھ نہیں ہے مجھے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ ہارنے والوں کے حوصلوں کی تکلیف مری تکلیف نہیں ہے۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے۔۔۔ بلوچ مرے بلوچ نہیں ہہیں۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ سرائیکیوں کی ہار کا نعرہ مجھے چھلنی نہیں کر رہا۔۔تمہیں لگتا ہے، کہ آرمی کو چوڑیوں کی پیشکش مرا زخم نہیں ہے۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے، کہ انتخابی قافلوں پر حملوں میں مری جان نہیں گئی۔۔۔۔ تمہِیں لگتا ہے کہ ریلیوں پر مرنے والوں کا دکھ نہیں پہنچا مجھ تک۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے ، کہ ایوانوں تک پہنچنے والے بے ضمیروں پر مجھے غصہ نہیں ہے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے،ن، پ ق ، انصاف کے خاندانی حکمران مری آنکھوں میں نہین چھبتے۔۔۔۔۔۔
مجھے تم سب سے دکھ ہے ، مگر تم سب میں ہی مرا حوصلہ ہے۔۔۔۔ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔ امید مرے جسم میں خون بن کر دوڑتا ہے۔۔۔۔ اور میں کبھی مایوس نہیں ہوتا۔۔۔۔تب بھی نہیں جب تم تھکے ٹوٹے ہارے چہرے اور بچوں جیسی چیخ پکار لے کر شور مچانے لگتے ہو۔۔۔۔ کیونکہ میں تمہاری ماں ہوں۔۔۔۔۔ تم میری اولاد ہو۔۔اچھی بری ہو، نکمی ہوشیار بھی ہو۔۔مگر مری اپنی ہو۔۔۔۔۔ تم مجھے دکھ بھی دو، مگر مری جھولی میں تمہارے لئے دنیا بھر کی دعائیں اور محبت ہے۔۔۔۔۔
بس ، اپنے اپنے کام کرنا، مگر یاد رکھنا۔۔۔۔ مری محبت تب تک ہے، جب تک میں ہوں۔۔۔۔ مری محبت کو مرنے نہ دینا۔۔۔۔ میں اپنی نہیں تمیاری زندگی مانگ رہا ہوں۔۔۔۔ کیونکہ میں پاکستان ہوں۔۔۔۔ بہت دکھ میں ہوں، مگر امید مری رگوں میں اب بھی خون بن کر دوڑ رہی ہے۔۔۔۔ اور مجھے مری ساری اولاد اپنی غلطیوں سمیت عزیز ہے۔۔۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔۔

تو آپﷺ ذکر قیامت تک بلند رہے گا انشاء اللہ


حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے صاحبزادے کا جب انتقال ہوا تو عرب کے کفار بہت خوش ہوئے ، خونی رشتوں کی عرب میں بہت اہمیت تھی مگر ابو لہب تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا ، جب یہ تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آئی تو اسکی تو جیسے عید ہوگئی۔ صبح ہوئ تو وہ گھر گھر یہ خبر پہنچانے لگا (ابتر محمد اللیلتہ) آج رات محمد کی جڑ کٹ گئی اوروہ لا ولد ہوگئے (نعوذ باللہ )
اس کے بعدمکہ کے ایک سردار عاص بن وائل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ابتر کا لفظ خاص کر دیا جب بھی کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتا تو وہ فورا" منہ بنا کر کہتا کہ ان کی کیا بات کرتے ہو وہ تو ابتر (جڑ کٹے ) آدمی ہیں (نعوذ باللہ ) اس نے اس ابتر والی بات کو خوب پھیلایا یہ بات دو دھاری تلوار کی طرح تھی اس سے انکا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے صاحبزادوں کے انتقال کا غم ستاتا رہے اور دوسرا یہ کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم سے کٹ کر اس درخت کی مانند ہوگئے ہیں جس کی جڑیں کٹ گئی ہوں اور وہ گرنے ہی والا ہو ( استغفراللہ )
عاص بن وائل طنزا" کہتا یہ بے نسل رہ گئے انکا کوئی نام لیوا نہیں انکا نام مٹ جائے گا ، مسلمان جدھر سے گزرتے تو کفار ابتر ابتر کہہ کر انکا مذاق اڑاتے، جس سے مسلمانوں کو بہت تکلیف ہوتی ،
اللہ تعالی نے لفظ ابتر کے مقابلے میں سورۃ کوثر کو نازل فرمایا ،
اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا پس تم اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو ، بے شک تہمارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخالفین کے سامنے پڑھی تو وہ اس کے ادبی حسن سے مبہوت رہ گئے لیکن انہیں لفظ کوثر کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا ، چنانچہ وہ لفظ ابتر کو بھول گئے اور لفظ کوثر کے پیچھے پڑ گئے کہ اسکا کیا مطلب ہے ،
لوگ ایک دوسرے کو پوچھنے لگے کہ یہ کوثر کیا ہے، لوگ ماہرین کلام کے آگے پیچھے پھرنے لگے ہر بازار ، ہر گلی ، ہر کوچہ ، ہر محفل میں بس ایک ہی لفظ کی تکرار رہ گئی ، لفظ ابتر کے مقابلے میں لفظ کوثر کا صوتی حسن بہت زیادہ ہے حتیٰ کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں سے رجوع کیا اور لفظ کوثر کا مطلب پوچھا ، اس طرح لفظ کوثر نے مخالفین کے پروپیگنڈے کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے ، وہ مخالفین جو ابتر ابتر کہتے پھرتے تھے ان پر ایک زبردست ضرب لگائی کہ تم مخالف ہی جڑ کٹے ہو ، اللہ نے اپنی نبی کو تو خیر کثیر ، اللہ کا دین اور حوض کوثر عطا کیا ، اولاد کس کی باقی رہی ہے یہ تو سب مٹ جانے والے ہیں ،
اس وقت رواج تھا کہ خانہ کعبہ کے دروازے پر چیلنج کے طور پر کسی شعر یا کلام کو آویزاں کر دیا جاتا کہ اس کے مقابلے میں کوئی شعر یا کلام ہے تو لاؤ ۔ اگر کوئی لے آتا تو پہلے والا اتار کر دوسرا آویزاں کر دیا جاتا ،
مسلمانوں نے بھی سورۃ کوثر کے اعجاز و اثر کو دیکھ کر خانہ کعبہ کے دروازے پر آویزاں کر دیا ، اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے بہت جوش وخروش پیدا ہوا اور اس کے بدلے کوئی کلام لانے پر خوب زور لگایا گیا مگر بے سود ، آخر عاجز آ کر کہنے لگے کہ یہ انسان کا قول نہیں ہے
دیکھا آپ نے کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن کا کیسے منہ توڑا ، اور انکو ذلیل کیا
انشاء اللہ آج بھی یہ دشمن اور چیلنج کرنے والے منہ کی کھائیں گے اور ذلیل ہونگے ، بے نام ونشان ہو کر رہ جائیں گے اور انکی آنے والی نسلیں انکا انجام دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیں گی
قرآن پاک میں ہے ، اور ہم نے تیرے لیے تیرے ذکر کو بلند کر دیا ، تو آپ ذکر قیامت تک بلند رہے گا انشاء اللہ