Saturday, May 16, 2015

ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔ گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے


محبت۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم، تم اور فاصلے۔۔۔۔۔۔۔۔
گردشوں کے سفر میں یہی مستقل ٹھہرے۔


نواز شریف کی کرپشن کی تاریخ بیان کرتے کرتے میری تحریر کا موضوع اچانک محبت جیسا لطیف جذبہ ہوگیا۔۔۔۔۔ شاید لوگوں کو حیرت ہو گی کیونکہ کہاں ٹویٹر کی سخت الفاظ استعمال کرتی ہوئی تلخ ، بدتمیز اور بدزبان لڑکی اور کہاں محبت کا لفظ۔
اس لڑکی کے تو محبت کبھی قریب سے بھی نہ گزری ہوگی۔ لیکن جو لوگ میرے قریب ہیں یا تھے، چاہے وہ تحریکی ہوں، پٹواری ہوں یا نام نہاد نیوٹرل، میری وہ سائڈ جانتے ہیں جو محبت سے لبریز ہے۔
میرے دل سے صرف محبت کی ترسیل ہوتی ہے۔ میرے اندر سیاست کو لے کر جو تلخیاں بھری ہیں وہ میری پاکستان سے بےپناہ محبت کی وجہ سے ہی اتنی شدید ہیں۔ میرا دل محبت کے سوا کچھ اور کرنا اور سوچنا جانتا ہی نہیں۔

میں نے اس موضوع پر اپنے احساسات قلمبند کرنے کا فیصلہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کیا۔ شاید یہ تحریر آپکو بے ربط لگے اور اسکا مقصد بھی سمجھ میں نہ آئے۔ اس تحریر کا مقصد تو مجھے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا لیکن آج شاید پیمانہ چھلک گیا ہے، شاید میں catharsis کرنا چاہتی ہوں۔ شاید دل کا بوجھ ہلکا ہوسکے یا شاید کوئی اسکو پڑھ کر نصیحت ہی حاصل کرلے۔

ایک عزیز دوست سے باتوں کے دوران گفتگو کا رخ غیر ارادی طور پر محبت کی طرف مڑ گیا۔ ایسا میرے ساتھ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک مرد نے مجھے محبت کا مفہوم ایک مرد کے perspective سے بتایا۔

سن کر دھچکا لگا۔ محبت کے خوبصورت جذبے کی یہ تشریح میرے لیئے ناقابلِ فہم تھی۔
'عورت کا دل ایک ہوتا ہے، مرد کے کئی دل ہوتے ہیں۔'
دوست کے کہے اس ایک جملے نے مجھے ہر بات سمجھا دی۔ میرے دماغ میں زویا کیے لکھے بلاگ کا ایک ایک لفظ گونجنے لگا۔
میرے اس دوست نے مرد کے دل اور محبت کو کیسے بیان کیا میں انہی کے الفاظ میں بتانے کی کوشش کرتی ہوں۔
'مرد فطرتاً ٹھرکی ہوتے ہیں۔ انکا دل مچلا ہی رہتا ہے۔'
بات اگرچہ تلخ ہے لیکن عورت اور مرد کی نفسیات میں بہت فرق ہے۔ جب دل اور دماغ ایک ہی طرح فنکشن کرتے ہیں تو نفسیات فرق کیوں؟
'سچ تو یہ ہے کہ مردوں کو 'بہک' جانے کے بہانے چاہیئے ہوتے ہیں۔' یہ میرے نہیں ایک مرد دوست کے الفاظ ہیں۔
'خالص محبت صرف عورت کا ظرف ہے، مرد شاذ و نادر. ہاں محبت کے نام پر بیوقوف بنانے کے مرد ماہر۔۔۔۔ ایک ڈھونڈو ہزار دستیاب ہیں۔'
شاید ہر لڑکی کو ڈی ایم میں 'تم میری آخری محبت ہو' کاپی پیسٹ کرکے بھیجا جاتا ہے۔

مرد کی نفسانی خواہشات زیادہ ہیں۔ یہ قاعدہ کس نے بنایا ہے؟ عورت چاہے جانے اور سراہے جانے کی خواہش میں مردوں کی چالبازی کا شکار ہوتی ہے جسے وہ اپنی دانست میں محبت سمجھ رہی ہوتی ہے۔ مرد دل بھر جانے پر اپنا راستہ پکڑتے ہیں اور عورت اسے محبت میں دھوکہ سمجھ کر سوگ مناتی رہ جاتی ہے حالانکہ مرد نے اس سے محبت کی ہی نہیں ہوتی۔ مردوں کے پاس ہزار جال، ہزار ترکیبیں۔ لڑکیاں معصوم مردوں کی دُکھی داستانیں سن کر آبدیدہ ہوجاتی اور انکی محبت میں غوطے لگانے لگتی ہیں۔ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ ناخدا نہیں ہیں، ڈوب جانے دینگے۔
مرد کے وعدے، قسمیں کسی رومانوی ناول یا دیسی فلموں میں تو سچے ہوتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں خال خال۔
اور محبت جب ہوتی ہے تو بےحد ہوتی ہے۔ اس میں توازن رکھنے کا کہنے والے محبت کا مفہوم جانتے ہی نہیں۔ مردوں نے اس جذبے کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کردیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج یہ لفظ اپنا اعتبار کھو رہا ہے حالانکہ کہتے ہیں کہ محبت آفاقی جذبہ ہے۔
میں feminist نہیں ہوں لیکن دل تو بہرحال عورت کا ہی ہے۔
میرا مقصد کسی خاص شخص یا گروپ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انصافی ابھی بچے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں کا ابھی اندازہ نہیں ہے۔ عام نوجوانوں کی طرح فلمی محبتیں کرتے ہیں۔ دوستوں کیساتھ سکرین شاٹس وغیرہ شئیر کرنا بہرحال گھٹیا حرکت ہے چاہے کسی بھی عمر میں کی جائے۔ پٹواری البتہ گھاگ مرد ہیں۔ انہیں اپنی ٹھرک لفاظی کر کے 'عشق' کی صورت پیش کرنے میں زیادہ دقّت پیش نہیں آتی۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ انکی اس حرکت سے لڑکی کی نفسیات ہمیشہ کیلئے ڈسٹرب ہوجاتی ہے۔ وہ ہمیشہ کیلئے insecurities کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندگیاں برباد کرتے ہوئے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ انکی بہن، بیٹی، ماں بھی عورت ہیں اور اسی عورت کی پسلی سے وہ اس دنیا میں لائے گئے ہیں۔
مرد لڑکی کو کیا سمجھتے ہیں یہ تفصیلات ایک مرد کی زبانی سن کر تکلیف تو بہت ہوئی لیکن محبت پر میرا پختہ ایمان اور مضبوط ہو گیا۔ محبت اگر خالص ہو تو عبادت ورنہ ٹائم پاس کیلئے ڈی ایمی محبتیں تو ہر وقت دستیاب ہیں۔

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت___
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

یہ بلاگ لکھا ہے محترمہ ZAF صاحبہ نے وہ ایک مہمان لکھاری ہیں انکو ٹوئیٹر پر @MaonBillii کے نام سے تلاس کیا جاسکتا ہے

2 comments:

Salman Zahid said...

بلا تبصرہ. :)

Salman Zahid said...

بلا تبصرہ. :)