Wednesday, October 27, 2010

صحبت

میں آج سے نہیں بچپن سے اس بات کا داعی رہا ہوں کہ جو بات دل میں ہے وہ کر دو ۔۔۔۔۔۔ دل میں بات نہیں رکھو اسکے بہت سے نقصانات ہوتے ہیں جن کی تفصیل سب کو پتہ ہی ہے ۔۔۔۔

بات اصل میں یہ ہے کہ ہر شخص اپنے آپ میں ایک ارسطو ہے میں خود بہت بڑا ارسطو ہوں ۔۔۔۔ دسروں کو تو بہت کہتا ہوں کہ یہ کام نا کرو ۔۔۔۔۔ تم لوگ پتہ نہیں کیسے کر لیتے ہو ۔۔۔ ۔مگر کچھ دن بعد وہی کام خود کر رہا ہوتا ہوں اور دسروں کو تبلیغ بھی کر رہا ہوتا ہوں ۔۔۔۔۔ اسکی کیا وجوہات ہیں وہ مجھے نہیں پتہ اگر آپ کو پتہ ہوں تو ضرور بتایئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے ایک بچپن کے دوست ہیں انتہائی لفنگے قسم کے کئی مرتبہ ان سے دوستی نبھانے کے چکر میں ابا کی جانب سے زبردست قسم کی مار بھی کھائی ۔۔۔۔۔ مگر چونکہ لفنگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو گیا تھا اس لئے مار کا کوئی اثر نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف حال یہ تھا کہ کوئی مجھے لفنگا کہہ دے تو لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے کے جب ہم نے کوئی لفنگا گیری کی ہی نہیں تو کہا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر کالج میں آکر کچھ پڑھے لکھے لوگون میں اٹھنا بیٹھنا ہوا ۔۔۔۔۔۔ اپنا تعلیمی ریکارڈ تو تھا ہی ایسا کہ میٹرک کے پرچے کمبایئنڈ اسٹیڈی کی نظر ہو گئے رات پھر فلمیں وہ بھی ایسی کے کئ کئ دن انکے اثر سے نکلنے میں لگتے تھے اور صبح امتحانی پرچہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتیجہ جب اخبار میں آیا تو ابا سمیت سب ہی چشمے لگا لگا کر رول نمبر ڈھونڈتے رہے مگر ناکام رہے سب کیونکہ ھمکو تو پہلے ہی پتہ تھا کے نتیجہ وہی دھاک کے پانچوں پرچوں میں فییل۔۔۔۔

ہاں کالج میں کچھ پڑھے لکھوں سے دوستی ہوئی تو ایک دن ابا سے کہتے ہوئے سنا (پڑھے لکھوں سے صرف دوستی تھی خود نہیں پڑھتے تھے) کہ چلو برخوردار کی گیدرنگ تو ٹھیک ہوئی اب کچھ کر بھی لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ بس یارو یہ بات ابا کی دل پر لگ گئی کہ ابھی ھم نے صرف اچھے لوگوں میں بیٹھنا شروع کیا ہے تو لوگوں کی نظر میں اچھے ہوگئے اگر بقلم خود اچھے ہوجایئں گے تو ابا اور گھر والے کتنے خوش ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔

مقصد یہ ہے کے انسان خود کچھ نہیں ہوتا ماحول اسکو اچھا برا بناتا ہے ۔۔۔۔ اور ماحول کے بنانے والے میں اور آپ ہیں ۔۔۔۔ کسی بھی فورم پر کیوں نہ ہوں اپنی اقدار کو نہ ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کچھ عرصے کے بعد بری بھی اچھی لگنے لگتی ہیں بقول استاد محترم کے


شاید میں بھول گیا تھا یا بھول جاتا ہوں جسکی وجہ سے پریشانیاں اور رسوایئاں اٹھانی پڑتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اور میں نے کچھ دن پہلے اپنے ایک دوست سے کہا بھی تھا کہ کبھی ایسا کوئی کام نہ کرو جسکی وجہ سے تم کسی کے سوال کا جواب نہ دے سکو ۔۔۔۔۔۔۔۔

8 comments:

توارش said...

آپ کا اعتراف نامہ قبولہ جاتا ہے

آپ کے پاپوں کا پراشچت اب ایسے ہی ہوسکتا ہے کے آپ بادام کھایا کریں

DuFFeR - ڈفر said...

کونسا کام؟
فیس بک بکنے والا کام؟
یا ٹویٹنے والا کام؟
یا ایویں پھنتیں مارنے والا کام؟
یا مخففی سٹیٹس اپڈیٹنے والا کام؟

Noumaan said...

عمدہ تحریر ہے۔

عنیقہ ناز said...

اس قسم کے اقوال کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو اپنے گرد کا ماحول تبدیل کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی اچھائ کو پھیلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی برائ کو۔ دیکھا جائے تو برائ میں بڑی کشش ہوتی ہے۔
بچوں کے لئے تو پھر صحیح کہ کچا ذہن ہوتا ہے۔ چیزوں کا اثر جلدی قبول کر لیتا ہے۔ بڑوں کے لئے یہ بات سو فی صد درست نہیں ہو سکتی۔
آہکے علاقے میں جوئے کے اڈے ہوں یا شراب خآنے تو کیا آپ محض اس لئے ادھر نہیں جائیں گے کہ کہیں میں بھی شراب نہ پینے لگوں یا جوا نہ کھیلنے لگوں۔ اس طرح تو وہ علاقہ مستقل بنیادوں پہ انہی کا علاقہ بن جاءے گا۔
جیسے جیسے عمر میں پختگی آتی ہے یعنی انسان اٹھارہ سال کی بعد والی عمر میں داخل ہوتا ہے۔ اسے وقتاً فوقتا اپنا احتساب کرنا چاہئیے۔ اپنے لئے اخلاقی حدود کا تعین کرنا چاہئے۔ اپنے اعمال اور افعال سے پیدا ہونے والے نتائج پہ نظر رکھنی چاہئیے۔ اپنی زندگی میں کچھ نہ ٹارگٹس رکھنے چاہئیِں۔
زندگی میں آپکو ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ نے اپنے اوپر بھی کوئ کنٹرول رکھا ہوا ہے یا نہیں۔ اور عالم یہ ہو
کہ
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

بات یوں ہونی چاہئیے کہ
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ مٹا سکے
ہم رقص کرنے والے ہیں خود زندگی کے ساتھ

یاسرخوامخواہ جاپانی said...

بہت اچھے!۔

zhassankhan said...

عنیقہ۔۔۔۔ نعمان اور یاسر صاحب کو بہت بہت خوش آمدید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور امید ہے کہ اسطرح ہی ہم جیسے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افتخار اجمل بھوپال said...

درست ہے کہ ماحول انسان کی زندگی پر بہت زيادہ اثر انداز ہوتا ہے ۔ بچپن ميں گھر کا ۔ تعليمی زمانہ ميں سکول و کالج کا ۔

مجھے آپ کی تحرير آج اتنی دير بد اس لئے نظر آئی کہ جب آپ نے لکھی تھی ان دنوں ميں کمپيوٹر چلانے کے قابل نہ تھا اٹھائيس ستمبر کے حادثہ کی وجہ سے

اُؤں مولوی said...

پ کا اعتراف نامہ قبولہ جاتا ہے