Tuesday, October 11, 2011

المیہ ہے یہ تو

المیہ ہے یہ تو ۔۔۔۔۔۔ اس دور کا سب سے بڑا المیہ جس میں، میں خود بھرپور طریقے سے مبتلا ہوں وہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح سمجھنا ۔۔۔

آپ کسی بھی صحیح بات کو غلط سمجھیں گے تو اور غلط کو صحیح تو پھر کسی بھی انسان کا اور اس معاشرے کا ٹھیک ہونا نا ممکن ہی ہے ۔

بات یہ ہے کہ کل مجھے میرے ایک جانے والے نے کنیڈا سے فون کیا اور کہا کہ تم ایسا کرو یہاں آجاو بڑا سکون ہے بہت آزادی ہے بہت ڈویلویپمنٹ ہے ترقی کی راہیں بہت ہیں ۔۔ میں نے ان سے کہا کے یار یہ سب تو یہاں بھی بہت ہے ۔۔۔

تو مجھ سے کہا گیا ۔۔۔۔ ارے یار کہاں پھنسے ہوئے ہو یہ بھی کوئی آزادی ہے مرد الگ اور مستورات الگ :(

مطلب یہ اخذ ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔ اصل آزادی یہ ہے کہ آپ کا جو دل چاہے کریں اور اسپر کوئی روک ٹوک نا ہو ۔

تو بھائی میں باز آیا ایسی آزادی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :(

5 comments:

Shabih Fatima said...

Rok Tok na ho tau JAANWRAON se badtar zindagi na hojaye insan ki:S

DuFFeR - ڈفر said...

واہ واہ واہ شبو بی بی
آپ کے اس فرمان عالی شان کے سامنے تو پوسٹ بھی ہیچ ہے قسم سے

بنیاد پرست said...

آپ اسے کہتے یار یہاں کوئی ہوٹل بک کروالو میں تمہاری خواتین سے مل لوں گا ۔:)

یاسرخوامخواہ جاپانی said...

ایک بات بتاوں ،یہ جو مستورات کے ساتھ ساتھ گذرتی ہے نا۔
یہ جو مولبی ساب کا دل بھی جوان رہتا ہے نا مستورات کے تصور سے وہ دل،۔۔۔۔۔ دل نہیں رہتا۔
پاکستان میں روڈپر بھیک مانگتے میک اپ شدہ چہرے دیکھ کر جو کراہت آتی ہے ایسا ہی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

Abu Sarim said...

بھائی آزمائش تو یہی ہے نا کہ جب رب کہے رک جاؤ تو رک جاؤ۔ آخرت میں تو سب مل ہی جانا ہے۔ ایک چھوٹا سا امتحان لینا مقصود ہے۔