Wednesday, June 16, 2010

وہ درویش کیسا دانا و عقلمند تھا

“خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے، اُس سے عاجزی چھین لیتا ہے“۔ ماسٹر جی نے اپنی بات کا آغاز ایک حقیقی اور غیر معمولی بات سے کیا۔ مجب سمیت چالیس کے قریب نٹ کھٹ اور بلاکے شرارتی قسم کے لڑکے ھمیشہ کی طرح دم سادھے بیٹھے تھے۔ یہ ہمارے ہائی اسکول کے وہ واحد استاد تھے جن کے بارے میں طالب علم تو درکنار انکے کسی اپنے ساتھی کو بھی کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی۔ جس نے جب بھی یاد کیا اچھے اور عمدہ الفاظ میں یاد کیا۔

ماسٹر جی نے بولنا شروع کیا۔ “کسی غریب کا اپنی غریبی پے ندامت اختیار کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا کسی امیر کا اپنی امارت پر غرور کرنا۔ جو شخص اپنی قسمت پا راضی نہیں ہوتا اہ خدا کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ کیونکہ اس طرح وہ خدا کی تقسیم سے بغاوت کرتا ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان جدوجہد اور محنت کا راستہ ترک کر دے۔ جو ہے اس پر قناعت کرنا، خدا کا شکر بجالانے کے مترادف ہے اور جو نہیں ہے یس کے لئے جدوجہد کرنا خدا کی خواہش کی تکمیل کا نام ہے۔

“تم پوچھو گے کے وہ کیسے، خدا کی مرضی اس میں کہاں سے آگئی؟؟“ ماسٹر جی نے ہمارے پر تجسس چہروں کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔

“انسان کی ساخت پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انسان بنا ہی محنت کے لئے ہے، اسکے ھاتھ پاؤں، جسمانی طاقت اور اسے بخشی ہوئی بے بہا دماغی قوتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قدرت اسے محنت کرتے دیکھنے کی متمنی ہے۔ جس طرح کسی مشین کے موجد کو اس وقت تک حقیقی خوشی اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا جب تک اسکی بنائی ہوئی مشین پوری طرح سے کام کرنا نہ شروع کردے، اسی طرح خدا اس شخص سے کبھی خوش نہیں ہوسکتا جس نے اسکے بناے ہوئے وجود کو ناکارہ بنادیا ہو، ہا اسے کام لینے کے بجائے اسے دوسروں کے سہارے چھوڑ دیا ہو۔“ ماسٹر جی نے ہلکے سے گلا کھنکارا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوے کہا۔ “تمہیں پتہ ہے کہ لوگ دولت اور شہرت کے معاملے میں اکثر ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور ذہن صرف تدبیر سوچتے ہیں۔ میرے خیال میں سب سے برا حسد کسی کے ساتھ اپنا مقدر تبدیل کرنے کی خواہش کرنا ہے“۔

ماسٹر جی ذرا دیر کے لئے ٹھرے تو ایک لڑکے نے ان سے سوال کی اجازت لی اور بولا۔ “سر ھم انسان ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حسد درست نہیں ھم ایسا کر بیٹھتے ہیں۔ کوئی آسان طریقہ بتائیے کہ ھم اپنا دامن اس برائی سے بچا سکیں۔

ماسٹر جی مسکرائے اور پھر بولے۔ “ یہ بہت ہی سادہ سا سوال ہے اور اسکا جواب اسے بھی سادہ ہے۔ دیکھو جس سے حسد ہو رہا ہو، اگر اسے دعا دے دی جائے تو حسد جاتا رہتا ہے۔“ تمام لڑکے ماسٹر جی کے جواب پر حیران زدہ رہ گئے۔

“کیا تمہیں پتہ ہے کہ ایک مضبوط ینسان کی تعریف کیا ہے؟؟“ ماسٹر جی نے ہماری طرف دیکھا، ھم جو انہیں بڑی عقیدت اور محبت سے دیکھ رہے تھے چپ ریے۔ شاید اسکی بڑی وجہ یہ تھی کہ ھم جانتے تھے کہ کوشش کے باوجود بھی ھم اس منطقی جواب تک نہیں پہنچ سکیں گے جو ان کے شایان شان ہو۔

“میں تمہیں بتاتا ہوں“۔ ماسٹر جی نے کہا “ مضبوط انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ غریب جو دولتمندوں کی دولت دیکھ کر حسد نہیں کرتے اور نہ دولت کی حرص انہیں بے چین کرتی ہے۔ اور دوسرے وہ امرا جو اہنے مال پر غرور نپہں کرتے اور نہ اپنی دولت سے دوسروں کو خوف زدہ کرتے ہیں، میرے خیال میں امیروں سے نفرت کرنے والا غریب اور غریبوں سے نفرت کرنے والا امیر دونوں یکساں درجے کے مجرم ہیں کیونکہ دونوں کے نزدیک نفرت کرنے کی وجہ “دولت“ ہے۔ دولت پر تکبر نہ کرنے والے جانتے ہیں کہ “المتکبر“ اللہ کی وہ صفت ہے جس میں کسی طرح کی شرکت شرک ہے اور شرک جدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم یے۔“

“لیکن سر کیا انسان دنیاوی کامیابیوں پر فخر نہیں کرسکتا؟؟ کیا یہ بھی شرک کے ذمرے میں آئے گا؟؟

میں نے سوال کیا تو ماسٹر جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ “ فخر اگر اپنی حدود میں رہے تو برا نہیں لیکن اگر حدود سے باہر نکل جائے تو پھر غرور اور فخر میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ دکھو اور میری بات پر غور کرو فخر یہ ہے کہ میں بھی ہوں اور غرور یہ ہے کہ بس میں ہی ہوں۔ جب تم کسی شخص کو غرور کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ بے خبری اور غلط فہمی کا شکار ہے، تم ایسے شخص سئ دور رہنا، وہ دنیا سے ستائش چاہتا ہے اور ستائش اپنے اوپر عدم اعتماد کی علامت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے والوں کی قریب سے گذریں تو شاید وہ بہت چھوٹے نظر آیئں۔“

ھم ہمہ تن گوش تھے۔ معرفت اور علم کے خزانوں سے اپنا دامن بھرتے جا رہے تھے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں یہ واحد پیریڈ ہوتا تھا جس میں استاد کو “خاموش پلیز خاموش“ کے الفاظ کہنے کی کبھی نوبت نہیں آئی۔

ماسٹر جی بولے۔ “مجھے صرف ڈر لگتا ہے تو اس بات کا کپ ہمارا معاشرہ مغرب کی اندھی تقلید میں ایسی شکل اختیار نہ کر جائے جہاں پیسہ تہذیب و نسب اور غربت محض احساس شرمندگی بن کر رہ جائے، کیونکہ جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ اس نے معاشرے میں عزت اور مرتبہ حاصل کرنے کے بنیادی اور حقیقی فلسفے پر کاری ضرب لگائی ہے۔ پتہ نہیں میں کس حد تک غلط یا درست ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ وقت گذرنے کہ ساتھ ساتھ انسانیت، خاندانی شرافت، تعلیم و تربیت اور اخلاقی اقدار جیسے اوصاف ثانوی حیثت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور معاشرے میں محض “عزت کا معیار“ محض دولت رہ گئی پے“۔ ماسٹر جی نے اپنا جملہ پورا کیا ہی تھا کہ پیریڈ کے خاتمے کی گھنٹی بج اٹھی۔

اس بات کو برس ہا برس گذر گئے لیکن ماسٹر جی کی باتیں آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ وہ درویش کیسا دانا و عقلمند تھا۔ آنے والے دور کے بارے میں اسکے خیالات اور خدشات کتنے دورست تھے۔ میں ذندگی کے بہت سے معاملات میں آج بھی ان کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں اور میرا یقین ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اپنے احتساب کا قائل ہو۔

13 comments:

Kainat Hassan said...

Bohat umda bohat he umda.... apko yad hay apnay kaha tha eik bat kay Blog likhnay kay liya kiya khsosiyat honi chahiya aur main nay kaha tha 'Pagal' iska mutlab tha kay dewangi ke had tak kissi bhi chezz ka talabgar hona aur woo iss tharer say prove hogaya hay... bohat acha likha hay Zia bhai app nay

ابوشامل said...

بہت ہی شاندار تحریر ضیاء صاحب۔ یقین جانیں پڑھ کر مجھے اپنے استاد محترم یاد آ گئے۔ موقع ملا تو اپنے بلاگ پر ان کا ذکر خیر کروں گا۔

DuFFeR - ڈفر said...

ماسٹر جی کی کیا بات ہے
میری طرف سے ان کو عقیدت مندانہ پیغام پہنچا دینا کہ معاشرے نے مذکورہ شکل اختیار کر لی ہے
میری شادی ایس کر کے ای نی ہوندی

zhassankhan said...

ابو شامل..... آپ آے ھمارے گھر میں آپکا بہت بہت شکریہ.... آپ جیسے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی چاہیے یے بس... اور آپکی دعا...

zhassankhan said...

ڈفر.... ماسٹر جی نے شادی نہ ہونے اور نہ کرنے دونوں باتوں پے بھی بہت کچھ کہا ھے بہت جلد ھوش گذار کر دونگا.. اور آپکا پیغام بھی دے دونگا....

zhassankhan said...

Madam... first well come and 2nd i am in this category which you told since long back anyways thanks for coming here and comments ;)

jafar said...

جزاک اللہ
اللہ آپ کو خوش رکھے
اور آپ کے استاد پر اپنی رحمت کرے
جو اب میرے بھی استاد ہوگئے ہیں کہ میں نے بھی ان سے بہت کچھ، یہ تحریر پڑھ کے سیکھا ہے،
بہت ہی اعلی باتیں... See More
اور بہت ہی سادہ اور رواں انداز میں

یاسر خوامخواہ جاپانی said...

بہت ہی شاندار تحریر ضیاء صاحب۔
بہت ہی زبردست۔شاندار تحریر ھے۔
اور مبارک باد ۔
آپ کے ماسٹر صاحب سچے تھے۔
اس وقت ہمارے معاشرے میں
غریب کےتکبر کا ڈھیر ھے۔
اور امیر کے گند کا انبار۔

عمران اقبال said...

مائنڈ بلوئنگ۔۔۔ زبردست۔۔۔

آپ کی یہ تحریر میں نے آج پہلی دفعہ پڑھی ہے۔۔۔ استادِ محترم واقعی کوئی درویش عالم تھے۔۔۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔۔۔ اللہ مزید سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔

One of your best writes...

Tahir Taous said...

ماسٹر۔جی دور اندیش انسان۔تھے مستقبل کا بہت درست اندازہ لگایا تھا ہر بندہ یہ صلاحیت نہیں رکھتا

Tahir Taous said...

ماسٹر۔جی دور اندیش انسان۔تھے مستقبل کا بہت درست اندازہ لگایا تھا ہر بندہ یہ صلاحیت نہیں رکھتا

Tahir Taous said...

ماسٹر۔جی دور اندیش انسان۔تھے مستقبل کا بہت درست اندازہ لگایا تھا ہر بندہ یہ صلاحیت نہیں رکھتا

usman rasheed said...

بہت ہی عمدہ تحریر