ایک مینڈکی نے خفیہ طور پر اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر ہمارے اوے چینل کے نمائندے کو اپنا اعترافی اور اقبالی بیان ارسال کیا ہے جس کو من و عن آپک قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا کسی بھی قسم کی مماثلت کو غیر اختیاری مماثلت سمجھا جائے
بقول اور فعل مینڈکی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ میں سے اکثر لوگ مجھے اچھی طرح جانتے اور پہچا نتے ہیں اور جو نہیں جانتے میں ان کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں ایک مینڈکی ہوں۔
آئیے میں آپ کو مزید اپنے بارے میں بتاتی ہوں۔
میرا مسکن پانی کے قریبی علاقوں میں ہوتا ہے۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں اور وہاں کی مخلوقات سے مجھے سخت نفرت ہے۔
میری وہ خوبی جو مجھے دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے میری پُھدکنا۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر ہر وقت میں تو بس پھدکتی رہتی ہوں۔ حاسدین اسی بات سے ہی بہت جلتے ہیں کہ میں گھر آرام سے کیوں نہیں بیٹھتی۔
دوسرے مینڈکوں کی طرح میرے دل کے بھی تین خانے ہیں۔ ایک خانہ "اُن" کیلیے اور باقی دو خانے میرے دو دوستوں ع غ کیلیے!
میرے سر میں زہریلے غدود پائے جاتے ہیں جو مجھے دشمنوں کا نوالہ بننے سے محفوظ رکھتے ہیں اور میری سوچ کو زہریلا کرتے ہیں۔ میری زبان کافی لمبی اور زہریلی ہے جس کی مدد سے میں اپنے آس پاس چھوٹے موٹے کیڑوں کو ایک پل میں چٹ کر جاتی ہوں۔
جب موافق موسم شروع ہوتا ہے تو میں راتوں کواٹھ کر ٹرٹرانا شروع کر دیتی ہوں اور ارد گرد کے مینڈک جو کہ کنویں کے مینڈک نہیں ہوتے، میری پکار پر لبیک کہتے ہوئے میری طرف لپکتے ہیں۔
میں دیگر جاہل اور ان پڑھ مینڈکیوں کے بر عکس صرف ایک بچے کی قائل ہوں اور دیگر ہزاروں انڈے ضائع کر دیتی ہوں۔ میں ان جاہلوں کو میٹامارفوسس کا عمل اور اس کے نقصانات بھی سمجھاتی رہتی ہوں۔
حد سے زیادہ ٹرٹرانے کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے مجھے زکام ہوا جو کہ اب بخار میں تبدیل ہو چکا ہے۔