Monday, June 6, 2011

اعترافی اور اقبالی بیان

ایک مینڈکی نے خفیہ طور پر اپنا نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر ہمارے اوے چینل کے نمائندے کو اپنا اعترافی اور اقبالی بیان ارسال کیا ہے جس کو من و عن آپک قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا کسی بھی قسم کی مماثلت کو غیر اختیاری مماثلت سمجھا جائے

بقول اور فعل مینڈکی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ میں سے اکثر لوگ مجھے اچھی طرح جانتے اور پہچا نتے ہیں اور جو نہیں جانتے میں ان کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں ایک مینڈکی ہوں۔

آئیے میں آپ کو مزید اپنے بارے میں بتاتی ہوں۔

میرا مسکن پانی کے قریبی علاقوں میں ہوتا ہے۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں اور وہاں کی مخلوقات سے مجھے سخت نفرت ہے۔

میری وہ خوبی جو مجھے دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے میری پُھدکنا۔ کبھی اِدھر کبھی اُدھر ہر وقت میں تو بس پھدکتی رہتی ہوں۔ حاسدین اسی بات سے ہی بہت جلتے ہیں کہ میں گھر آرام سے کیوں نہیں بیٹھتی۔

دوسرے مینڈکوں کی طرح میرے دل کے بھی تین خانے ہیں۔ ایک خانہ "اُن" کیلیے اور باقی دو خانے میرے دو دوستوں ع غ کیلیے!

میرے سر میں زہریلے غدود پائے جاتے ہیں جو مجھے دشمنوں کا نوالہ بننے سے محفوظ رکھتے ہیں اور میری سوچ کو زہریلا کرتے ہیں۔ میری زبان کافی لمبی اور زہریلی ہے جس کی مدد سے میں اپنے آس پاس چھوٹے موٹے کیڑوں کو ایک پل میں چٹ کر جاتی ہوں۔

جب موافق موسم شروع ہوتا ہے تو میں راتوں کواٹھ کر ٹرٹرانا شروع کر دیتی ہوں اور ارد گرد کے مینڈک جو کہ کنویں کے مینڈک نہیں ہوتے، میری پکار پر لبیک کہتے ہوئے میری طرف لپکتے ہیں۔

میں دیگر جاہل اور ان پڑھ مینڈکیوں کے بر عکس صرف ایک بچے کی قائل ہوں اور دیگر ہزاروں انڈے ضائع کر دیتی ہوں۔ میں ان جاہلوں کو میٹامارفوسس کا عمل اور اس کے نقصانات بھی سمجھاتی رہتی ہوں۔

حد سے زیادہ ٹرٹرانے کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے مجھے زکام ہوا جو کہ اب بخار میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Tuesday, May 24, 2011

کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟

ہمارے ایک درینہ دوست نے وہ تحاریر جو کہ آج کل لوگوں کے زہنوں کو منتشر کرنے کے لیے لکھی جا رہی ہیں ، کہ جواب میں کچھ تحقیق کری ہیں ان شاءاللہ ان کی یہ تحریر بہت فائدہ دے گی کچھ اقتباسات یہاں لکھ دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا قرآن پچھلی کتابوں سے کاپی شدہ انسانی کلام ہے ؟

یہ بہتان سب سے پہلے مکہ کے کفار و مشرکین نے قرآن پر لگایا تھا، اللہ نے قرآن ہی میں انکے ان تمام وساوس کا جواب دے دیا تھا، پھر بھی بعد میں یہود ونصاری نے باوجود اپنی کتابوں میں ہی اس کتاب کے سچی ہونے کی گواہیوں کے’ محض اپنے عناد و تکبر کی وجہ سے اسے دوہرایا اور آج بھی انکے پیروکار جان بوجھ کر یا جہالت میں ان وساوس کو کاپی کرتے آرہے ہیں۔

باقی کی تحریر اس بلاگ پر پڑھی جاسکتی ہے اور تبصرے بھی اس بلاگ پر کئے جا سکتے ہیں


جزاک اللہ خیر

Tuesday, May 10, 2011

جو یہاں کرو تو حرام اور وہاں ہوا تو حلال

یہ بھی صرف ایک خبر ہے اور صرف یہ جانے کے لئے کہ ھیتھرو پر کتنے فیصد روشن خیال اور ترقی پسند لوگ ہوتے ہیں اور کس ملک کے شہر میں موجود ہے یہ پوائی اڈاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنے فیصد تاریک خیال بستے ہیں ان روشن خیالوں کے درمیان

اور ایک بات اور برائے مہربانی اعداد و شمار مصدقہ ہونے چاہیے نیز یہ بھی اگر معلوم چل جائے کہ اسکی آخر وجہ کیا تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور آخر میں ایک بات یہ کہ اگر اسطرح کبھی بھی کہیں بھی مردوں کا کنوارہ پن جانچا ہے انہوں نے تو وہ حوالہ بھی مل جاتا تو مشکل آسان ہو جاتی بہت سے لوگوں کی

انیس سو ستر کے عشرے میں برطانیہ کے ويزا ضابطوں کے تحت جنوبی ایشیائی خواتین کے کنوارے پن کی جانچ کرنے کے بارے میں کچھ نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ویزا دینے کے لیے لڑکیوں کی دوشیزگی کی جانچ کا معاملہ جتنا سمجھا جا رہا تھا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے ۔

فروری 1979 میں کنوارے پن یا دوشیزگی کی جانچ کے بارے میں انکشاف اور ہنگامہ آرائی کے بعد برطانوی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی تھی۔ حکومت نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس طرح کے ایک دو معاملے ہوئے تھے لیکن آسٹریلیائی محققوں کے ہاتھ بعض ایسی فائلیں آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کم ازکم 80 بھارتی خواتین کو برطانیہ آنے کے لیے اس ہتک آمیز عمل سے گزرنا پڑا تھا۔

اس انکشاف کے بعد اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ برطانوی حکومت معافی مانگے۔

برطانوی قانون کے تحت تیس برس گزرنے کے بعد اس طرح کی فائلوں کی کاپی نکالنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اسی کے تحت آسٹریلیائی محققوں نے کئی محکموں سے دستاویزات حاصل کی ہیں۔

ان دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک سے شادی کر کے برطانیہ میں جا کر بسنے والی خواتین کے کنوارے پن کی جانچ کے ایک دو نہین بلکہ متعدد واقعات ہوئے تھے اور یہ جانچ سرکاری پالیسی کا حصہ تھی۔

لندن سے چھپنے والے اخبار ''گارڈین '' میں خبر شائع ہو نے کے بعد فروری 1979 میں برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے جانچ کے عمل پر پابندی لگا دی تھی۔

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے شعبۂ قانون کے محقق اے ون سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت برطانوی حکومت نے بس ایک دو ایسے واقعات کی بات تسلیم کی تھی لیکن یہ سچ نہیں تھا۔

سمتھ نے کہا ’برطانیہ کی وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور وزیراعظم کے دفتر سے ہم نے جو کاغذات حاصل کیے ان سے یہی پتہ چلتا ہے کہ 1970 کے عشرے میں بھارت میں دلی اور مُمبئی میں 80 خواتین کی جانچ ہوئی تھی۔ ’ہمارے پاس پاکستان اور بنگنہ دیش کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ جتنا سمجھا جا رہا تھا یہ معاملہ اس سے کافی بڑا ہے‘۔

فروری 1979 میں اس معاملے کے سامنے آنے پر جوائنٹ کاؤنسل آن ویلفیر آف مائگرینٹس نے اس کی کافی مخالفت کی تھی۔

1960 میں قائم کیے گئے اس ادارے کی قانونی معاملات کی سربراہ حنا ماجد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک معاملہ ہے اور جس کے لیے حکومت کو معافی مانگنی چاہیے ۔

وہ کہتی ہیں ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت جنوبی ایشیائی خواتین سے ہونے والی ان ذیادتیوں پر معافی مانگے کیونکہ یہ ایک شرمناک اور نفرت انگیز عمل تھا۔ اس بات کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کہ کیونکہ یہ عمل خواتین، مائگرینٹس اور انسانی حقوق کے تئیں اہانت کے جزبات کا عکاس تھا‘۔

آسٹریلیائی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی نوجوان لڑکیوں کے کنوارے پن کی میڈیکل جانچ کے واقعات دلی اور مُمبئی میں واقع ویزا دفاتر میں اور کئی بار برطانیہ پہنچنے پر ہیتھرو ائر پورٹ پر بھی پیش آئے تھے۔

Tuesday, May 3, 2011

مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ

میں کیا اور میری اوقات کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر چاہوں بھی تو اس بات پر اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتا چاہے ساری عمر ایک ہی سجدہ میں کیوں نہ گزار دوں کے ایک سانس اندر گیا اور پھر واپس آجائے باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ میری ماں،باپ کی، اور میری اہلیہ اور میرے ان تمام بے شمار دوستوں کی دعاوں کا نتیجہ ہے کہ جب بھی دل میں خواہش جنم لیتی ہے کہ بیت اللہ کی سعادت کی جائے یا آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رودضہ پر نور کی سعادت کی جائے تو یقین جانئے اللہ پاک بغیر کسی مشقت کے خیر و عافیت کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں جب تک یہاں نہیں آیا تھا تو اکثر یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ یا اللہ صرف ایک مرتبہ اپنے گھر کی اور روضہ رسول کی زیارت کر وادے کہ آخر کو ایک مرتبہ دیکھوں تو صحیح اس مقام اس جگہ کو کہ جس کی جانب رخ کر کے اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ اس شہر اور اس ہستی کے روضہ کا دیدار تو کروا دے یا اللہ کہ جس کی وجہ سے یہ کائنات تخلیق کی گئی اور جو محسن انسانیت ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الحمداللہ ثمہ الحمداللہ، اللہ پاک نے یہ سعادت بخشی کہ کئی مرتبہ جانا ہو چکا ہے دونوں مقدس مقامات پر اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقین جانئے میں جب بھی جاتا ہوں تو یہ لگتا ہے کہ پہلی مرتبہ آہا ہوں کہ دیدار سے دل ہی نہیں بھرتا اور میں یہی دعا مانگتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا اللہ کم سے کم ایک مرتبہ ہر مسلمان کو حج بیت اللہ اور روضہ رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جانے سے پہلے ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہوں کہ جنکو میری وجہ سے دانستہ اور غیردانستہ تکلیف پہنچی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرمائے

Monday, April 18, 2011

یہ آیک خبر ہے اسکو صرف خبر سمجھ کر پڑھا جائے

مہنگے علاقے کے ایک جدید کلینک میں نوجوان عرب خواتین ایسے آپریشن کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں جس سے نہ صرف ان کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ شاید بچ بھی جائے۔آپریشن کا خرچہ سترہ سو پاؤنڈ ہے اور اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں۔
یہ کلینک دبئی یا قاہرہ میں نہیں بلکہ پیرس میں واقع ہے اور وہاں موجود خواتین آپریشن کے ذریعے کنوارپن کی بحالی چاہتی ہیں۔

ایشیا اور عالم ِعرب میں شادی سے پہلے کنوارپن ختم ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں خواتین کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد یہ معلوم ہونے پر کہ وہ پہلے ہی مباشرت کی مرتکب ہو چکی ہیں انہیں قتل بھی کیا جا سکتا یا کم سے کم برادری سے تونکال ہی دیاجائےگا۔

اب یہ خواتین آپریشن کے ذریعے ماضی کے جنسی فعل کے تمام نشان مٹا کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ شادی کی رات ان کے بستر پر خون کے داغ نظر آئیں۔

خواتین کنوارپن کے حوالے سے دباؤ میں آ کر بعض اوقات اپنی جان لینے پر بھی مجبور ہو جاتی ہیں۔ کلینک میں پیرس کے آرٹ کالج کی ایک طالبہ بھی موجود تھی جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتی۔ وہ پیرس میں پیدا ہوئی لیکن عرب روایات ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد میں نے اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سوچا کیونکہ اس وقت کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا تھا۔‘ لیکن اب ان کے پاس حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتی کہ ان کے ماضی کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہو، خاص طور پر ان کے ہونے والے شوہر کو۔

کنوارپن کی بحالی کا آپریشن تقریباً تیس منٹ میں مکمل ہوتا جس دوران عورت کی جھلی کو دوبارہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ کلینک کے مالک ڈاکٹر مارک نے بتایا کہ ان کے مریضوں کی اوسط عمر پچیس سال ہے۔ اس طرح کے آپریشن دنیا بھر میں ہو رہے ہیں لیکن ڈاکٹر مارک واحد عرب سرجن ہیں جو اس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔

چینی طب میں تو کنوارپن کی بحالی آپریشن کے بغیر بھی ممکن ہے۔ ایک ویب سائٹ پر بیس پاؤنڈ میں مصنوعی جھلیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔چینی جھلی ایلاسٹک سے بنتی اور اس کو مصنوعی خون سے بھرا جاتا ہے۔
کیا اسکو روشن خیالی کہا جائے دھوکہ دہی یا پھر دین سے بے انتہا دوری
لبنانی خاتون ندا نے بتایا کہ وہ شادی سے پہلے سات سال تک ایک لڑکے کے ساتھ رہی، لیکن اس لڑکے کے گھر والے کہیں اور رشتہ کرنا چاہتے تھے۔ان کی شادی نہ ہو سکی۔

ندا کی اب شادی ہو چکی ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آپریشن کے ذریعے دوبارہ جھلی بحال کروائی تھی۔ ’شادی کی رات میں بالکل سو نہیں سکی۔ بہت ڈری ہوئی تھی لیکن اسے بالکل شک نہیں ہوا۔ میں تمام رات روتی رہی۔‘

شام کے ایک عالم شیخ محمد نے بتایا کہ کنوارپن کے بارے میں لوگوں کو رویے روایت پر مبنی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی عیسائی آبادی بھی عورت کے کوارپن کے بارے میں اتنے ہی کٹر نظریات رکھتے ہیں۔

عرب مبصر ثنا الخیاط کے مطابق یہ سارا معاملہ ’کنٹرول‘ کا ہے۔ ’اگر وہ کنواری ہے تو اپنے شوہر کا کسی دوسرے مرد سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگر اس کے دوسرے مردوں سے تعلقات رہے ہیں تو پھر وہ تجربہ کار ہو گی۔ تجربہ انہیں طاقت دیتا ہے۔‘

Monday, April 11, 2011

فارمولا

بہت دن ہو گئے جی اب تو 30 مارچ2011 کو گذرے ہوئے ۔۔۔۔ یہ دن بھی پاکستان کی تاریخ میں کمال کا دن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سمجھ گئے نا تو پھر اب کام کی بات ہو جائے

کبھی کسی نے تکون چاند دیکھا ہے، یا کبھی کسی نے ہوائی جہاز کو بانی پر تیرتے اور پانی کے جہاز کو ہوا میں اڑتے دیکھا ہے۔۔۔۔ ارے ناراض نہ ہوں میں تو پوچھ رہا ہوں آپ لوگوں سے ۔۔۔۔

اچھا دیکھنے کو چھوڑیں یہ بتائیں کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟

کچھ لوگ لاجک لگا کر اسکو ممکن کر دیکھانے کی کوشش کریں گے اور آخر تک لگے رہیں گے اپنے اپنے طریقوں سے مگر جو علم رکھتے ہیں وہ شائد یہ کہہ دیں کہ اللہ پاک کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں وہ چاہے تو کچھ بھی کر ستکتا ہے۔۔۔

جی ہاں بےشک اللہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے اور کسی کا محتاج نہیں اور مسلمان ہونے کے ناطہ ہمارا ایمان بھی یہی ہے

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے لئے اس اللہ نے ایک فارمولا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ پہلے ہم انسان وہ کریں جو اللہ نے کہا ہے اسکے بعد اللہ پاک ہر وہ کام ہمارا کر دینگے جس کو عقل بھی کہتی ہے کہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم انسان ڈیڑھ سیانے کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ یا اللہ پاک آپ ہمارا یہ کام کر دیں تو پھر میں آپ کے تمام احکامات مانوں ۔۔۔۔۔۔ اور اس پر ہی جمے رہتے ہیں۔۔۔۔اور رو، رو کے دعائیں کرتے ہیں مطلب صرف دعا خالی خولی بغیر عمل کے۔۔۔۔۔۔

تو آپکا کیا خیال ہے ایسی دعا کس بلندی تک جاتی ہے اور اگر ہم کو دعا کو عرش تک پہنچانا ہے تو کس بات کی اشد ضرورت ہے ؟؟؟؟

Sunday, March 6, 2011

میرے دوست

انسان اپنے دستوں سے پہچانا تا ہے یہ بات کتنی درست ہے اسکا اندازہ اب جاکے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقی لائف میں تو دوست رہے نہیں یا یوں کہہ لیں کے مجھ سمیت کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں رہا کے کبھی وہی فرصت ہو اور میں اور میرے دوست ہوں ۔۔۔۔۔ بلاوجہ کی باتیں اور ان باتوں پر بلا وجہ ہنسنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو دوستی بھی الیکٹرانک ہوگی ہے ۔۔۔۔۔ جی ہاں اب فرینڈ صرف فیس بک پر، مگر یہاں بھی آپ اپنے فرینڈ لسٹ میں موجود فرینڈز کی وجہ سے ایڈ کیے جایئں گے۔۔۔۔۔

ویسے تو میری فیس بک فرینڈ لسٹ میں 100 سے زیادہ ہی فرینڈز ہیں مگر ان میں سے چند ہی ہیں جنکی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نا ہوگا۔۔۔۔۔۔

اور سب سے مزے کی بات جنکی وجہ سے بدنام ہوئے ان سے ابھی تک ملاقات ہی نہیں ہوئی اب تو ہر دم یہ دعا کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ تمام محترمین سے ملاقات ہوجائے تو انکی ہتھ بوسی کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر انسان تو پھر انسان ہے اللہ نے عقل تو دی ہے تو اس ہی کم عقلی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے چند دوستوں کا فرضی خاکہ بنایا ہوا ۔۔

مثلاً دوست جو سب سے زیادہ ڈیڑھ سیانے ہیں انکی شکل سے لگتا ہے کہ شائد کبھی کوئی ڈھنگ کا کام کرسکیں گے سوائے اسکے کہ دوسروں کے باتھ میں پیٹرول دے دیا ساتھ ایک کیوبا کا سگار بھی سلگا دیا اور کہا جا بچے ۔۔۔۔۔۔ اور بچہ اتنا سیدھا کے چلا بھی گیا۔۔۔۔۔

دوسرے دوست ہیں شکل سے تو بلکل گلاب کے پھول کی طرح ہیں ۔۔۔۔۔ مگر انکا فرضی خاکہ کچھ اسطرح ہی کہ چوک میں ایک دودھ کی دوکان کے باہر تھڑے پے پیٹھے ہوئے ہیں دو تین چھوٹے ساتھ ہیں جیسے کہیں کے استاد ہوں اور وہ چھوٹے استاد کے ھاتھ پاؤں اور ٹانگیں دبا رہے ہیں اور استاد صاحب لسی اور مکھن بن سے شغل فرما رہے ہیں

تیسرے دوست تو ہیں ہی انتہائی بدتمیز اور انکا فرضی خاکہ بہت حد تک انکی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ خود کچھ کرنا کرانا نہیں بس کبھی کسی آنٹی کو انکل اور کسی انکل کو آنٹی بنانا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی تو خود سمجھ گئے ہونگے

چوتھے دوست ہمارے اللہ انکو خوش رکھے جہاں رہیں خوش رہیں (آج کل گوشئہ نشین ہیں) اگر آپکو کوئی اپنا ایسا کام جسکو آپ چاہتے ہوں کہ قیامت تک ختم نہ ہو ۔۔۔۔۔ تو ہمارے اس دوست کو دے دیں وہ فوراً سول کورٹ کا جج بن جائے گا اور دیتا رہے گا آپکو ۔۔۔۔۔۔ تاریخ پے تاریخ، تاریخ پے تاریخ، تاریخ پے تاریخ

اور یہ جو ہمارے دوست ہیں۔۔۔۔ انکا کچھ پتی ہی نہیں چلتا کہ کب انکا دماغ پھر جائے اور کب یہ آپکے اپر چڑھائی کر دیں ویسے اب تک کے تجزیے اور فرضی خاکے کے مطابق یہی سب سے نیک انسان ہیں انکو زیادہ ٹینشن ہوتی ہے تو یہ جنگل جنگل نکل جاتے ہیں وہ گیت گنگناتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگل جنگل پتہ لگا ہے ۔۔۔چڈی پہن کر شیر نکلا ہے

اور یہ جو آخری ہیں انکا جو فرضی خاکہ ہے وہ کچھ اسطرح ہے کہ ایک ھاتھ میں سرخ جھنڈا ہوگا اور آفس میں بیٹھے ہونگے اگر مدیر نے کوئی کام کا کہا تو اپکو تو پتہ ہے جھنڈے میں ڈنڈا بھی تو ہوتا ہے