جب چنگیز خان کی پیدائش ہوئی ہوگی تو اسکے والدین نے ایک جشن منایا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر انکے والدین اور اس جشن میں شریک کسی بھی فرد کو اس بات کا رتی برابر بھی اندازہ ہوتا کہ یہ چنگیز خان جب بڑا ہوگا تو کیا، کیا کارنامے انجام دیگا تو شائد وہ اسکو اسی دن مار دیتے ۔۔۔۔۔۔۔
ہم مسلمانوں میں بھی ایک شخص گذرا ہے حجاج بن یوسف کے نام سے اسکے کارنامے تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اسکا بھی اگر کسی کو پتہ ہوتا تو وہ بھی مار دیا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔ جب کے اسکے خاندان میں تو بڑے بڑے عرب شرفاء شامل تھے اور دین اسلام کے لئے انکی خدمات اور قربانیاں بھی بڑی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب انسان بلکہ جب کسی مسلمان کے گھر کوئی پیدا ہوتا ہے تو ایک جشن ہوتا ہے اسلامی اور سنت کیمطابق کان میں اذان اور اقامت کہی جاتی ہے
پھر عقیقہ ہوتا ہے اور اپنی اسططاعت کیمطابق لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ جس میں سب ہی خوشی خوشی شرکت کرتے ہیں ۔۔۔
کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے تو کوئی انجینئر تو کوئی مفکر ہوتا ہے تو کوئی اسکالر تو کوئی رئیس امرہوی جیسا انسان ہوتا ہے سب شریک ہوتے ہیں سب دعا دیتے ہیں ۔۔۔ کہ اللہ پاک عمر دراز کرے ۔۔۔ نیک اور صالح بنائے نصیب اچھا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
والدین اپنے شب و روز اپنی اولاد کے لئے وقف کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ والدین کی اپنی اولاد کے لیے قربانیوں کا کوئی شمار ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ بھی آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جا رہا ہے ابتدائی دونوں میں جب تک والدین کے زیر اثر ہوتا ہے تو بہت ہی شریف اور نیک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بچپن سے لڑکپن کی طرف آجاتا ہے کچھ کچھ اپنی من مانیاں کرنے لگتا ہے والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ آپکے لئے صحیح نہیں ہے اسے آپکا بھی نقصان ہوگا اور دوسرے بھی پریشان ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر
بچے کے سمجھ میں نہیں آتی اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے اماں باوا میرے تو دشمن ہی ہو گئے اور اسی دوران بچہ لڑکپن کو پھلانگتا ہوا جوانی دیوانی میں داخل ہو جاتا ہے
بہت ہی زورآور طریقے سے اور بہت سے اسیے لوگوں کیساتھ مل جاتا ہے کہ جنسے ملنے پر اسکے وہ تمام لوگ جو اس عقیقے میں شامل تھے اسکو سجمھاتے ہیں کہ دیکھوا بیٹا یہ روش ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ صرف تمھاری زات کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورئ قوم کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔ کہ جو لوگ اپنی قابلیت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے وہ اب ۔۔۔۔ کانا ۔۔۔ کمانڈو ۔۔۔ ٹنڈے ۔۔۔ ٹی ٹی ۔۔۔۔ اور لنگڑے کے ناموں سے جانے جا رہے ۔۔۔۔۔
جن لوگوں کے ھاتھ میں قلم ہونا چاہیے تھا انکے ہاتھ میں اسلحہ آگیا ۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ میرٹ میں اول ہوتے تھے اب وہ لوگ لوٹ مار اور بھتہ خوری میں اول آرہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اور اصل بات تو یہ ہے بیٹا کہ کسی اور کو نہیں اپنے ہی لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اپنے ہی شہر کو جلا رہے ہیں ۔۔۔۔
شرفاء کی ایک جماعت اس بچے جو کہ اب جوان اور بااثر ہوگیا ہے اسکو سمجھاتے ہیں کہ اس وقت لوگ اور خاص کر نوجوان طبقہ اپنے والدین سے زیادہ آپ کی مان رہے ہیں ۔۔۔۔۔
تو جو اس ٹائم کچھ شریف لوگ ریئس امرہوی جیسے انہوں نے مشورہ دیا اس بچے کو کہ ابھی بھی وقت ہے اگر اس وقت کی جنریشن کو تعمیری کاموں میں لگا دیا جائے تو بغیر کسی خون خرابے کہ انقلاب آجائے ۔۔۔ مگر
صد افسوس ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو ہر نشہ ہی حرام اور خطرناک ہے مگر جو سب سے خطرناک ہے وہ ہے جہالت اور طاقت کا نشہ اور اس میں بھی سب سے خطرناک ہے پڑھے لکھے جاہل کا جہالت کے نشے میں چور ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کا خمیازہ 2 نسلیں تو بھگت چکیں اور پتہ ہیں کتنوں نے اسکو بھگتانا ہے
اصل بات یہ ہے کہ کسی کی پیدایئش میں کسی ولی اللہ کی شرکت اس شخص کے مستقبل میں ایک اچھا انسان بنے کی دلیل نہیں جب تک کہ وہ انسان خود اسکی کوشش نہ کرے اور اللہ سے اس پر استقامت کیساتھ جمے رہنے کی دعا نہ کرے
اللہ سب کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین
Sunday, September 11, 2011
Tuesday, August 16, 2011
چھنو آنٹی کا کلب بلاگستان
بلاگستان کو جنگستان بنانے والی آنکھوں میں نشہ لئَے چھنو آنٹی کا ذکر تو بہت ہوچکا اب زرا انکے قلبی تعلق والے کلب کا بھی ذکر ہو ہی جائے بلاگستان پہلے امن کا گہوارہ تھا ایک دن اس بلاگستانی محلے میں ایک خارش زدہ کتا داخل ہوا اس کا کام ہر وقت بھونکنا تھا بلاگستان کا ہر بلاگی اس کو دھتکارتا تھا مگر چھنو آنٹی اس کو بہت پسند کرتی تھی ہر طرف کی دھتکار سے تنگ آکر اس نے چھنو آنٹی کے قدموں میں پناہ لی آنٹی کو ایک ہمراز غمگسار مل گیا ، کتا جب بھونک کے تھک جاتا تو چھنو آنٹی کے قدموں میں جا بیٹھتا اور قدموں میں سر رکھ کر سارے شکوے کہہ سناتا کہ کس نے اس پر کیا ستم ڈھائے، چھنو آنٹی اس زبان کی ماہر تھی سب کچھ سن کے تسلی دیتے ہوئے کہتی فکر نہ کر پیارے جب تک میں ہوں پنی ہر بلاگ پوسٹ تجھ پہ وار دوں گی پھر پیار سے اس کی ٹیڑھی دُم کو جھٹکا دیتی بلکل اس طرح جیسے لکڑی کی کاٹھی والے گھوڑے پہ ہتھوڑا مارا جاتا تھا تو وہ دُم دبا کے بھاگتا تھا لیکن یہ بلاگی کتا مالکن کے پیار سے شرما کے مالکن کے قدموں میں منہ چھپا لیتا اور سوچتا اس ظلمی بلاگستان میں کوئی تو ہے جو میرا اپنا ہے مالکن کا دستِ شفقت اس لاغر کو ایک نئی توانائی بخشتا تھا کتا اپنے مالک کے لیئے وفادار لیکن پاکبازوں کے لیئے نجس ہے اس لیئے اے ایمان والو ! کتے کا سوچ کے 313 مرتبہ لاحول پڑھ کے پھونک مارا کرو غیبی پھونک ضرور اثر کرے گی اس لیئے کہ کتا جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اس کا مالک بھی نظر نہیں آتا مگر اس کی باتیں کتوں پر اثر کرتی ہیں کتے کو ذلیل و خوار کرنے کی ترکیبوں پہ باقی باتیں پھر ہوں گی اس وقت لاحول پڑھتے ہی کتا مالکن کے پاس چلا گیا ہے اس پوسٹ کی شکایت لگانے رب راکھا ۔۔۔
Wednesday, August 10, 2011
انٹ کی شنٹ
ایسے ہی یہ پوسٹ بھی انٹ کی شنٹ ہے دیکھیں کہ کس، کس کے جاکے لگتی ہے :ڈ
بدصورت ہونا اتنی بری بات نہیں جتنا دماغی طور پر بدصورت ہونا۔ آپ میں یہ دونوں خامیاں اتم طور پر پائی جاتی ہیں۔ کیا آپ اپنی احساس کمتری کا اسی طور پرچارک کرتی رہیں گی؟ ویسے اگر آپ نے بچپن میں اس درخت سے ایک دفعہ بھی ہانڈی کھال لیتی ہوتی تو عقل اور شکل دونوں کو فرق پڑتا۔
خیر اب بچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چک گئی کھیت۔
دراصل آپ کے اندر اتنا گند ہے کہ کینیڈا تو دور کی بات آپ تو جنتی مسلمانوں میں بھی کیڑے نکال دیں۔ وجہ ویسی ہی ہوگی کہ جیسے آپ کینیڈا کے لئے ذلیل ہو خوار ہو کر ویزہ حاصل کر سکیں ویسے ہی جیسے آپ کے اعمال اور اخلاقیات ہیں جنت کے لئے بھی تردد کرنا ہو گا۔ پانی ابال کر ہی پیچئے مگر خدارا یہ پتوں کا سفوف سادہ ہی پھانکئے کہ چہرے پر نہ صحیح دماغ کا گند تو صاف ہو۔
جیسے آپ اپنا تعفن اور بغض اپنی علمی تحاریر سے باہر نہیں رکھ سکتیں ویسے ہی قاری سے توقع نہ رکھیں نہ کسی معتدل تبصرہ نگار کو جانور کی طرح پڑیں۔
Monday, July 25, 2011
اقسامِ بلاگرز
بلاگرز ۔۔۔۔۔ ہاں تو آج بات ہوگی کچھ بلاگرز کی اقسام کے بارے میں اور یہ سراسر میری اپنی ذاتی آرا ہیں کوئی اسکو ذاتی نہ لے اور اگر لے بھی لے تو اسکی مرضی ۔۔۔
ویسے تو جی کئی اقسام کے بلاگرز ہیں ۔۔۔ مگر بات ہوگی صرف اردو بلاگرز کی کیونکہ انگریزی بلاگ تو میں پڑھتا نہیں ہوں بس دیکھتا ہوں :)
پچھلے ایک سال سے میں تقریباً روزآنہ کی بیناد پر بلاگ پڑھ رہا ہوں اور کسی بھی بلاگ کو پڑھنے کے لئے اردو سیارہ کا سہارا لیتا ہوں کے وہاں آسانی سے کسی بھی بلاگ کی رسائی ممکن ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اس عرصے میں جو میں نے محسوس کیا بس آج اسکا ہی ذکر خیر ہوگا یہاں۔۔۔۔۔
سب سے پہلے بلاگرز کی اقسام !
فلسفی بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بلاگز کو تو شائد خود بھی کچھ نہیں پتہ ہوتا کے وہ کیا لکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسکا کام ہوتا ہے صرف لکھنا چاہے کسی کو سمجھ آئے یا نا آئے اور ایسے بلاگروں کی تعداد بہت ہی کم ہے میں سب کا نام تو نہیں لکھوں گا مگر آجکل ہمارا ایک بہت ہی اچھا دوست ایسی ہی بلاگنگ کر رہا ہے اگر اپنا اوے شاہ پڑھے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میں نے اسکو کہا ہے ۔۔۔ باقی وہ خود بہت سمجھدار ہے :)
بھوکے بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان بلاگروں کی تعداد اب کچھ ترقی کی جانب جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان میں بلا تخصیص مرد اور خواتین سب شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جنکا مقصد کچھ نہیں ہوتا سوائے اپنے بلاگ کی ٹریفک بڑھانے کے ۔۔۔۔ اور آپ یقین کریں یہ ایک ایسی لت ہے جسکا اگر ابھی سے علاج نہیں کیا تو یہ بلاگرز سے وہ، وہ لکھاوائے گی اور وہ، وہ کروائے گی کہ پوچھو مت۔
ایسا بلاگرز لکھتے ہوئے نا کچھ سوچتا ہے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے اسکا مقصد صرف اپنی بکواس لکھنے کا ہوتا ہے چاہے اس کے لکھنے سے اسکا انسان ہونے میں بھی شک ہونے لگے اور بعض اوقات تو کچھ خواتین بلاگرز بھی ایسا لکھتی ہیں کے گمان ہوتا ہے کوئی انتہائی پڑھا لکھا جاہل انسان اس بلاگ کو لکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی تازہ مثال تو ماضی قریب میں ایک مکھی کی بھنبھناہٹ سے لی جاسکتی ہے ۔۔۔۔
مرد نما عورت بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اب کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کچھ کہونگا تو وہ کیا کہتے ہیں کہ یہ بات تیر کی طرح لگے گی مقام خاص پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ بلاگرز ہیں جنکا کام ہی لوگوں کا زہن خراب کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور بقول ہمارے ایک دوست کے ۔۔۔۔۔۔ یہ احساس محرومی کی ماری بلاگرز ہوتی ہیں انکو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہیے ۔
نفیس بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بلاگروں کی تعداد انتہائی قلیل مقدار میں ہے ۔۔۔۔ اور بلاشبہ یہ ہی چند بلاگرز ہیں جنکی وجہ سے قارئین تک حقیت پر مبنی تحریں پہنچتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انکا مقصد واقعی کسی اچھی بات کی ترویج کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ان میں جاوید گوندل صاحب ۔۔۔ ابو شامل، تلخابہ اجمل صاحب، ڈاکٹر جواد، اپنا عمر لالا، حجاب، تانیہ رحمان وغیرہ ۔۔۔۔۔ اور بھی بہت نام ہیں مگر ان نامون کی تعداد پھر بھی اپر دی گئی قسم بلاگرز سے بہت کم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
دبنگ بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ ٹھوکو بلاگرز‘( بلاگرز لوگوں کے اندیشوں کو مدِ نطر رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ نام تبدیل کردیا ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ اپنے استاد کو تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا). یہ صرف چند بلاگرز ہیں اور انکا مقصد ان بلاگرز کی ٹھوک ٹھوک کے بجانا ہے جنکا مقصد لوگوں کے زہنوں کو خراب کرنا ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ بہت کم لکھتے ہیں مگر جب بھی لکھتے ہیں تو سمجھ میں نہیں آتی کہ کس کی بجا رہے ہیں ۔۔۔ ان میں سر فہرست تو اپنا استاد ہے اسکے بعد ایک ایسا بلاگر ہے جسکا نام تو ایویں چول سا ہے اور شکل کو پیلیا ہوا
ایک اپنے ڈاکٹر صیب ہیں ایک جو کبھی بدتیمز تھا اب نہیں رہا ۔۔۔۔ ایک وقار اور جو سب سے زیادہ چھوٹا ہے لیکن بنا ہوا انکل سب کا، اپنے دوست شاکر عزیز ۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ ایسے ہی ہیں بلاگرز دنیا میں جیسے کچھ لوگ ہوتے ہیں امن کمیٹی میں اور جنکا کام ہوتا ہے کہ جو کوئی امن خراب کرنے کی کوشش کرے اسکی تشریف لال کردیں ان اقسام کے بلاگرز کا بھی یہی کام ہوتا ہے کہ جو کوئی بلاگرز ورلڈ میں نقص امن کا سبب بنتا ہے یہ اسکی لال کردیتے ہیں مگر ایسے کہ لال بھی ہوجاتی ہے آواز بھی نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔
جلابی بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو بڑی ہی عجیب قسم کے بلاگرز ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اپنی پوسٹس ایسی بھینکر سپیڈ میں لکھتے ہیں جیسے کسی کو جلاب لگے ہوئے ہوں ۔۔۔۔ مطلب اور مقصد کچھ بھی ہیں ۔۔۔۔۔ بس سال کے آخر میں گنتی ہوئی تو پتہ چلا کے سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اسکو 6 سے ضرب دے دیں ۔۔۔ ارے بھائیوں مہینے میں ایک ہی پوسٹ لکھو مگر با معنی لکھو :)
روشن خیال بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہ بلاگرز اپنی تعریف آپ ہیں انکا بلاگ پڑھنے کے بعد مجھے تو غسل کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اور کلمہ بھی پڑھتا ہوں ساتھ میں کہ دل و دماغ سب پاک ہو جائے
ان بلاگرز میں بڑے ہی اعلی قسم کی شخصیات شامل ہیں ۔۔۔۔۔ اگر یقین نہ آئے تو کچھ دن صبر کریں کہ ابھی تحقیق جاری ہے اور گرمیاں بھی کچھ خاص شروع نہیں ہوئی ہیں وہاں :)
پست ذہن بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔(یہ لوگوں کی سوچ ہےکہ یہ پست زہن ہیں) آہ یہ وہ بلاگرز ہیں جو بیچارے گنتی کے ہی ہیں ۔۔۔۔۔ اور یہ کہتے ہیں کہ بھائی جیسا کہا گیا ہے صرف ویسا ہی کرو اپنی عقل نہیں لگاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سمجھ تو گئے ہونگے جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو قلم کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا تعلق انکے خالق سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں بہت ہمارے سب سے محترم بھائی سعد المعروف بنیاد پرست اور ابو نجمہ سعید صاحب۔ سلیم صاحب ، عمران اقبال اور ایک ہیں خامخواہ قابل زکر ہیں
ٹھرکی بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بلاگرز، بلاگرز کم اور کمنٹیٹر زیادہ ہیں ۔۔۔۔۔ انکا مقصد مرد بلاگرز کے بلاگ پر بلاوجہ کی تنقید اور خواتین بلاگرز کے بلاگ پر جا کر اپنی ٹھرک کو پورا کرنا ہوتا ہے جاہے وہ خواتین بلاگرز انکی ٹوں کی ٹوں ہی نہ کر دیں اور اگر کہیں وہ خواتین روشن خیال ہوں تو پوچھیں مت :)
صلح جو بلاگرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ بلاگرز ہیں جو بیچارے بس اسی کوشش میں ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی بلواہ نا ہو اگر کچھ ہو جاتا ہے تو یہ کوشش کرکے صلح نامہ کرواتے ہیں انمیں جو بلاگرز ہیں وہ میرے خیال سے شازل سمیر اور اپنے وکیل صیب ہیں ۔۔۔۔۔ اور بھی ہونگے مگر میں نے انکی تحریروں کو ایسا ہی پایا ہے
اور بھی کئی اقسام کے بلاگرز ہیں مگر یہ وہ چند اقسام ہیں جو میں نے لکھی ہیں جنکو میں نے پڑھا ہے اور لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ لکھنے کا کوئی مقصد ہی نہیں رہا
ہاں میں کس قسم کا بلاگر ہوں ۔۔۔ تو بھائی میں تو ابھی اس تالاب میں اترا ہی نہیں ہوں جس کو بلاگنگ کہتے ہیں :)
Wednesday, June 15, 2011
گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ویسے تو کئی تحرریں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھتے ہی کچھ دیر کے لیئے ہی سہی اپنا اثر کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو پہلی مرتبہ پڑھ کر سمجھ میں ہی نہیں آتی ہیں۔
مگر کچھ تحاریر ایسی ہوتی ہیں جنکو انسان غیر ارادی طو پر کئی کئی مرتبہ پڑھتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ آیا وہ تحریر اسکو سمجھ آرہی ہے کہ نہیں ۔
لیکن جب سمجھ آتی ہے تو لگتا ہے کہ جیسے شاعر نے میری روزآنہ کی زندگی کو سامنے رکھ کر یہ اشعار لکھے ہیں
کچھ اسطرح کل میرے ساتھ بھی ہوا ۔۔ میں آفس سے نکلا تو ایک صفحہ کسی کاپی کا میری گاڑی کی بونٹ پر پڑا ہوا تھا مین نے اسکو اٹھا کر دیکھا تو اس پر اردو کی نظم تحریر تھی
میں نے وہیں کھڑے کھڑے پڑھا اور وہ کاغذ لپیٹ کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔
مجھے شک تو تھا کہ یہ نظم انکی ہی ہوگی جو میں سمجھ رہا ہوں ۔۔۔ گھر پہنچ کر پہلا کام یہی کیا گوگل میں سرچ کیا تو نام آیا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
میں اسکو پڑھنے کہ بعد سوچتا رہا کہ واقعی لگتا ہے کہ اللہ پاک کی کوئی خاص رحمت تھی اس شخص کیساتھ جسکو اس دور میں یہ ہنر بخشا کہ وہ لوگوں کہ لیے مشعل راہ بن سکے کسی جگمگاتے ہوئے جگنو کی طرح۔
ویسے تو اقبال رحمۃ اللہ عیلہ کی تمام شاعری ہی بہت پر اثر ہے مگر یہ نظم تو ماشاءاللہ سے بہت ہی خوب ہے اور جو اگر میں اپنا زرا سا بھی محاسبہ کرلوں تو شائد زندگی بدل جائے اس لیے آپ سب کے ساتھ بھی شئیر کر رہا ہوں۔
اقبال فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔
گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
یہ بات نہیں کہ مجھ کو اس ہر یقیں نہیں
بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے
توفیق نہ ہوئی مجھ کو اک وقت کی نماز کی
اور چپ ہوا موزن اذاں کہتے کہتے
کسی کافر نے جو پوچھا کہ یہ کیا ہے مہینہ
شرم سے پانی ہوا میں رمضاں کہتے کہتے
میرے شیلف میں جو گرد سے اٹی کتاب کا جو پوچھا
میں گڑھ کیا زمیں میں قرآں کہتے کہتے
یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے
مگر کچھ تحاریر ایسی ہوتی ہیں جنکو انسان غیر ارادی طو پر کئی کئی مرتبہ پڑھتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ آیا وہ تحریر اسکو سمجھ آرہی ہے کہ نہیں ۔
لیکن جب سمجھ آتی ہے تو لگتا ہے کہ جیسے شاعر نے میری روزآنہ کی زندگی کو سامنے رکھ کر یہ اشعار لکھے ہیں
کچھ اسطرح کل میرے ساتھ بھی ہوا ۔۔ میں آفس سے نکلا تو ایک صفحہ کسی کاپی کا میری گاڑی کی بونٹ پر پڑا ہوا تھا مین نے اسکو اٹھا کر دیکھا تو اس پر اردو کی نظم تحریر تھی
میں نے وہیں کھڑے کھڑے پڑھا اور وہ کاغذ لپیٹ کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔
مجھے شک تو تھا کہ یہ نظم انکی ہی ہوگی جو میں سمجھ رہا ہوں ۔۔۔ گھر پہنچ کر پہلا کام یہی کیا گوگل میں سرچ کیا تو نام آیا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
میں اسکو پڑھنے کہ بعد سوچتا رہا کہ واقعی لگتا ہے کہ اللہ پاک کی کوئی خاص رحمت تھی اس شخص کیساتھ جسکو اس دور میں یہ ہنر بخشا کہ وہ لوگوں کہ لیے مشعل راہ بن سکے کسی جگمگاتے ہوئے جگنو کی طرح۔
ویسے تو اقبال رحمۃ اللہ عیلہ کی تمام شاعری ہی بہت پر اثر ہے مگر یہ نظم تو ماشاءاللہ سے بہت ہی خوب ہے اور جو اگر میں اپنا زرا سا بھی محاسبہ کرلوں تو شائد زندگی بدل جائے اس لیے آپ سب کے ساتھ بھی شئیر کر رہا ہوں۔
اقبال فرماتے ہیں کہ ۔۔۔۔
گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
یہ بات نہیں کہ مجھ کو اس ہر یقیں نہیں
بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے
توفیق نہ ہوئی مجھ کو اک وقت کی نماز کی
اور چپ ہوا موزن اذاں کہتے کہتے
کسی کافر نے جو پوچھا کہ یہ کیا ہے مہینہ
شرم سے پانی ہوا میں رمضاں کہتے کہتے
میرے شیلف میں جو گرد سے اٹی کتاب کا جو پوچھا
میں گڑھ کیا زمیں میں قرآں کہتے کہتے
یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے
Sunday, June 12, 2011
استانی، مائی ورک اور پیٹھ پہ تھپکی۔
ہمارا ایک دوست اپنی والدہ کے انتقال کے بعد یتیم ہوگیا اور اسکی والدہ مرتے، مرتے ایک عدد ہر جگہ سینگ پھنسانے والی چیز اسکے حوالے کر گئیں ایسے میں ایک محلے کی آنٹی نے اس سینگ پھنسانے والی چیز کو اپنی زیر تربیت(جامہ نہیں )رکھ رکھا لیا۔ ساتھ ساتھ اسے وہ پڑھا بھی رہی ہیں کہ اسکی والدہ نے اس شعبہ پہ کوئی کام نہیں کیا ہے۔ اس سینگ پھنسانے والی چیز نے استانی محترمہ سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس ایسی یہ کیا تکنیک ہے جس سے آپ سامنے والے کو دیوار سے لگا دیتی ہیں۔ بلخصوص احکام اسلام میں تو کوئی آپ کے نقطہ نظر کو کاٹ ہی نہیں سکتا۔ سبکو چپی لگ جاتی ہے(اگر چہ اسکی یہ چپی آپکو پاگل اور نفسیاتی مریض سمجھنے کی وجہ سے ہوتی ہے) استانی نے پہلے تو کنواریوں کی طرح نخرے دکھائے (کیونکہ اصل زندگی میں انکو نخروں کا موقعہ نی ملا۔ جسکے سامنے نخرہ کیا وہ پلٹ کر واپس نی آیا )اور کہا:کیا ہم نے یوں ہی پھرا یا ہے اپنا دماغ؟! عرصہ ہائے دراز لگا تب جاکے پھرا ۔ سینگ پھنسانے والی چیز خوشامد کرتے کرتے جب تھک گیا تو اس نے ترپ کا یکا بن کے آخری چال چلی اور استاد کے تجویز کردہ نسخہ(نسخہ نی بے دوا ) کی پیش کش کی جس کو سنتے ہی وہ "ٹھنڈی" ہوگئیں (استاد کیسی دوا بتائی ہے وہ تو ٹھنڈا کر دیتی ہے) اور فرمانے لگیں:سامنے والے نے جو بات یا آیت پیش کی ہے اسکو لیکر بیٹھ جاؤ۔ اور عقلی طور پہ جو بعید سے بعید اعتراض یا اعتراضات اس پہ ہو سکتے ہوں وہ سب کر ڈالو ۔ سامنے والے کی خود ہی چپی لگ جائے گی۔ "اصول کافی حد تک میں سمجھ گیا ہوں بس ایک آدھ مثال اگر آپ دے دیتیں تو میں تو میں بصیرت کے درجہ پہ فائز ہوجاتا"۔ "مثال چاہیئے؟ لو مثال بھی لو ۔ یہ دیکھو میں نے ایک ڈاکٹر کو کیسے دیوار سے لگایا ہے جس نے ایک آیت پیش پیش کی تھی
۔"آپ نے میری اس بات کا جواب نہیں دیا کہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک جاہل مرد موجود ہے جو کسی گائوں سے شہر میں نووارد ہے اور ایک عورت ہے جو اسی شہر میں رہتی ہے پڑھی لکھی ہے ، تمام فہم و فراست رکھتی ہے، جدید علوم سے واقف ہے. وہ ایک بہتر گواہ ہوگی یا وہ جاہل مرد جو اس شہر کی گلیوں سے نا آشنا"۔
جاؤ گھر جا کے اس ضابطہ پہ خوب مشق کرو۔
اب وہ سینگ پھنسانے والی چیز ٹھری نری جاہل ۔۔۔۔۔ الف سے لام لا لٹو نہیں پتہ اسکو وہ سیدھے پمارے دوست کے پاس آیا اور آنٹی کی دی ہوئی مشق کو انجام تک پہچانے کی دوخواست کی پہلے تو ہمارے دوست نے منع کیا کہ ، نہ کر اوے کہ اگر میں نے اسکا جواب لکھ دیا تو آنٹی نے تجھے دیوار کے ساتھ لگا کے وہ کرنا ہے کہ وہاں وہاں تیرے زخم آئیں گے کہ کسی کو دکھا کہ ہمدردی بھی نہیں لے سکے گا۔۔۔۔۔ لیکن نہیں بھئی سینگ پھنسانے والی چیز کوئی آخری ڈھیت مانا ہی نہیں تو پھر ہمارے دوست کہا چل جیسی تیری مرضی ۔۔۔۔۔
ہمارا دوست نیٹ پہ بیٹھا اور مشقی میٹر کیلئے گوگل بگھوان کو عرضی دی۔ انہوں نے جواب میں مندرجہ ذیل "مواد"باہر پھینکا
۔"دودن پہلے میرے سسر صاحب نے نکاح فارم کی ایک کاپی کروائ اور کہا کہ وہ پینسل سے
بھر کر یہ کاپی دیں گے اور اصل نکاح فارم اسی طرح بھرا جائے گا۔ جب وہ فارم واپس آیا تو ہم سب کو ایک خوشگوار حیرت ہوئ کہ انہوں نے فارم کی ایک ایک شق کو پر کیا تھا۔ اور شق نمبر اٹھارہ جسکے تحت طلاق کا حق بیوی کو تفویض کیا جاتا ہے اس میں ہاں لکھا تھا"۔
اور ساتھ ہی یہ جواب لکھ کر سینگ پھنسانے والی چیز کے حوالے کر دیا۔۔۔۔۔۔
فرض کیجئے کہ ایک پڑھے لکھے جوڑے کی شادی اس شق کے ساتھ ہوتی ہے۔ دونوں بڑی محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے جذبہ کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں ۔لوگ بھی اس جوڑے پہ رشک کرتے ہیں۔ شادی کے بعد شوہر بیوی کو ملازمت کا نہ صرف اختیار دیتا ہے بلکہ اپنے سے بھی اچھی ملازمت اس کیلئے تلاش لیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد شوہر مزید کوشش کر کے بیوی کیلئے بیرون ملک بھی ایک ملازمت تلاش لیتا ہے۔ بیوی بیرون ملک چلی جاتی ہے۔ اپنی عمدہ کار گذاری کی وجہ سے اسے اس سے بھی اچھی ملازمت دوسری جگہ مل جاتی ہے۔شوہر سے بھی رابطہ میں رہتی ہے۔ ادھر میاں بھی اپنے لئے باہر کی ملازمت تلاش کرتا ہے، دوران تلاش وہ ٹارگیٹ کلنگ کی زد میں آتا ہے اور اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھتا ہے۔ رہی سہی نوکری بھی چلی جاتی ہے۔ بیوی ضروری کاموں کی وجہ سے وطن نہیں آپاتی البتہ شوہر کا سرمایہ ختم ہوجانے کے بعد علاج کا تھوڑا خرچہ اٹھاتی ہے۔ سوئے اتفاق یہ کہ ایک بار میاں اپنا منھ دھوتا ہے اور بجائے پانی کی بوتل اٹھانے کے تیزاب کی بوتل اٹھا تا ہے۔ گرمی زیادہ ہونی کی وجہ سے چھینٹے نہیں مارتا بلکہ بوتل چہرے پہ انڈیلتا ہے ۔علاج بسیار کے بعد جان تو بچ جاتی ہے مگر چہرہ مکروہ ہوجاتا ہے۔ بیوی ضروری کام نپٹا کر وطن آتی ہے ۔ شوہر کی یہ حالت دیکھ کر اسکی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ کچھ دن تو برداشت کرتی ہے پر ایک دن شوہر سے کہہ دیتی ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ کیوں؟ ان احوال میں تم مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے۔ لیکن یہ تو میرے ساتھ حادثہ ایسا ہوگیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے؟ یہ میں نہیں جانتی۔میں نے تمہارے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا تھا۔ تمہارے لئے یہاں بھی ملازمت تلاش کی تھی اور باہر بھی۔ اسکا کچھ تو خیال کرو۔ دیکھو میں نے تمہارے چہرے کے علاج میں اتنا پیسا خرچ کیا ہے کہ اتنا تم نے ابھی تک کمایا بھی نہیں ہوگا۔ تم نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک کیا ہے اس پہ میں شکریہ ادا کرتی ہوں لیکن میں اس وقت تمہاری تلاش کی ہوئی ملازمت پہ نہیں ہوں میں تو اپنی قابلیت اور صلاحیت کی وجہ سے اپنا ایک الگ جہان بنا چکی ہوں۔ لیکن میرا کچھ تو سوچو، میرا آگے کیا ہوگا میرے تو رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ یہ سر دردی تمہاری ہے۔ تو اب تم کیا چاہتی ہو؟میں شق اٹھارہ میں دیا ہوا حق استعمال کرنا چاہتی ہوں
سوال یہ ہے کہ جب تک میٹھا میٹھا رہا بیوی ہپ ہپ کرتی رہی جونہی کڑوا شروع ہوا بیوی نے تھو تھو کرنا شروع کر دیا
جب وہ سینگ پھنسانے والی چیز اپنا کام استانی کو دکھانے کیلئے لے گئے تاکہ پیٹھ پہ "یو آر اے سمارٹ بوئے کے تعریفی جملہ کے ساتھ شاباشی کی تھپکی لیں۔ انہوں نے کام ملاحظہ کیا۔ بعد ملاحظہ کے حکم دیا کہ ہاٹھ اٹھاؤ۔ اٹھا لئے۔ "دیوار سے لگ جاؤ"۔ لگ گئے۔ انہوں نے "دیوار سے لگانے" کے بعد تھپکی لی اور پیٹھ پہ جو بجائی ہے ( اور صرف تھپکی ہی نہیں بیلن چکلا جھاڑو گلاس۔ و علی ہذا القیاس) تو سینگ پھنسانے والے بیٹھنے اور سونے کے لائق نہیں رہے دو دن سے گھوڑے کی طرح کھڑے کھڑے سورہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پیٹھ پہ وہ والی تھپکی کے بجائے یہ والی تھپکی کیوں پڑی؟
۔"آپ نے میری اس بات کا جواب نہیں دیا کہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک جاہل مرد موجود ہے جو کسی گائوں سے شہر میں نووارد ہے اور ایک عورت ہے جو اسی شہر میں رہتی ہے پڑھی لکھی ہے ، تمام فہم و فراست رکھتی ہے، جدید علوم سے واقف ہے. وہ ایک بہتر گواہ ہوگی یا وہ جاہل مرد جو اس شہر کی گلیوں سے نا آشنا"۔
جاؤ گھر جا کے اس ضابطہ پہ خوب مشق کرو۔
اب وہ سینگ پھنسانے والی چیز ٹھری نری جاہل ۔۔۔۔۔ الف سے لام لا لٹو نہیں پتہ اسکو وہ سیدھے پمارے دوست کے پاس آیا اور آنٹی کی دی ہوئی مشق کو انجام تک پہچانے کی دوخواست کی پہلے تو ہمارے دوست نے منع کیا کہ ، نہ کر اوے کہ اگر میں نے اسکا جواب لکھ دیا تو آنٹی نے تجھے دیوار کے ساتھ لگا کے وہ کرنا ہے کہ وہاں وہاں تیرے زخم آئیں گے کہ کسی کو دکھا کہ ہمدردی بھی نہیں لے سکے گا۔۔۔۔۔ لیکن نہیں بھئی سینگ پھنسانے والی چیز کوئی آخری ڈھیت مانا ہی نہیں تو پھر ہمارے دوست کہا چل جیسی تیری مرضی ۔۔۔۔۔
ہمارا دوست نیٹ پہ بیٹھا اور مشقی میٹر کیلئے گوگل بگھوان کو عرضی دی۔ انہوں نے جواب میں مندرجہ ذیل "مواد"باہر پھینکا
۔"دودن پہلے میرے سسر صاحب نے نکاح فارم کی ایک کاپی کروائ اور کہا کہ وہ پینسل سے
بھر کر یہ کاپی دیں گے اور اصل نکاح فارم اسی طرح بھرا جائے گا۔ جب وہ فارم واپس آیا تو ہم سب کو ایک خوشگوار حیرت ہوئ کہ انہوں نے فارم کی ایک ایک شق کو پر کیا تھا۔ اور شق نمبر اٹھارہ جسکے تحت طلاق کا حق بیوی کو تفویض کیا جاتا ہے اس میں ہاں لکھا تھا"۔
اور ساتھ ہی یہ جواب لکھ کر سینگ پھنسانے والی چیز کے حوالے کر دیا۔۔۔۔۔۔
فرض کیجئے کہ ایک پڑھے لکھے جوڑے کی شادی اس شق کے ساتھ ہوتی ہے۔ دونوں بڑی محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کے جذبہ کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں ۔لوگ بھی اس جوڑے پہ رشک کرتے ہیں۔ شادی کے بعد شوہر بیوی کو ملازمت کا نہ صرف اختیار دیتا ہے بلکہ اپنے سے بھی اچھی ملازمت اس کیلئے تلاش لیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد شوہر مزید کوشش کر کے بیوی کیلئے بیرون ملک بھی ایک ملازمت تلاش لیتا ہے۔ بیوی بیرون ملک چلی جاتی ہے۔ اپنی عمدہ کار گذاری کی وجہ سے اسے اس سے بھی اچھی ملازمت دوسری جگہ مل جاتی ہے۔شوہر سے بھی رابطہ میں رہتی ہے۔ ادھر میاں بھی اپنے لئے باہر کی ملازمت تلاش کرتا ہے، دوران تلاش وہ ٹارگیٹ کلنگ کی زد میں آتا ہے اور اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھتا ہے۔ رہی سہی نوکری بھی چلی جاتی ہے۔ بیوی ضروری کاموں کی وجہ سے وطن نہیں آپاتی البتہ شوہر کا سرمایہ ختم ہوجانے کے بعد علاج کا تھوڑا خرچہ اٹھاتی ہے۔ سوئے اتفاق یہ کہ ایک بار میاں اپنا منھ دھوتا ہے اور بجائے پانی کی بوتل اٹھانے کے تیزاب کی بوتل اٹھا تا ہے۔ گرمی زیادہ ہونی کی وجہ سے چھینٹے نہیں مارتا بلکہ بوتل چہرے پہ انڈیلتا ہے ۔علاج بسیار کے بعد جان تو بچ جاتی ہے مگر چہرہ مکروہ ہوجاتا ہے۔ بیوی ضروری کام نپٹا کر وطن آتی ہے ۔ شوہر کی یہ حالت دیکھ کر اسکی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ کچھ دن تو برداشت کرتی ہے پر ایک دن شوہر سے کہہ دیتی ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ کیوں؟ ان احوال میں تم مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے۔ لیکن یہ تو میرے ساتھ حادثہ ایسا ہوگیا ہے اس میں میرا کیا قصور ہے؟ یہ میں نہیں جانتی۔میں نے تمہارے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا تھا۔ تمہارے لئے یہاں بھی ملازمت تلاش کی تھی اور باہر بھی۔ اسکا کچھ تو خیال کرو۔ دیکھو میں نے تمہارے چہرے کے علاج میں اتنا پیسا خرچ کیا ہے کہ اتنا تم نے ابھی تک کمایا بھی نہیں ہوگا۔ تم نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک کیا ہے اس پہ میں شکریہ ادا کرتی ہوں لیکن میں اس وقت تمہاری تلاش کی ہوئی ملازمت پہ نہیں ہوں میں تو اپنی قابلیت اور صلاحیت کی وجہ سے اپنا ایک الگ جہان بنا چکی ہوں۔ لیکن میرا کچھ تو سوچو، میرا آگے کیا ہوگا میرے تو رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ یہ سر دردی تمہاری ہے۔ تو اب تم کیا چاہتی ہو؟میں شق اٹھارہ میں دیا ہوا حق استعمال کرنا چاہتی ہوں
سوال یہ ہے کہ جب تک میٹھا میٹھا رہا بیوی ہپ ہپ کرتی رہی جونہی کڑوا شروع ہوا بیوی نے تھو تھو کرنا شروع کر دیا
جب وہ سینگ پھنسانے والی چیز اپنا کام استانی کو دکھانے کیلئے لے گئے تاکہ پیٹھ پہ "یو آر اے سمارٹ بوئے کے تعریفی جملہ کے ساتھ شاباشی کی تھپکی لیں۔ انہوں نے کام ملاحظہ کیا۔ بعد ملاحظہ کے حکم دیا کہ ہاٹھ اٹھاؤ۔ اٹھا لئے۔ "دیوار سے لگ جاؤ"۔ لگ گئے۔ انہوں نے "دیوار سے لگانے" کے بعد تھپکی لی اور پیٹھ پہ جو بجائی ہے ( اور صرف تھپکی ہی نہیں بیلن چکلا جھاڑو گلاس۔ و علی ہذا القیاس) تو سینگ پھنسانے والے بیٹھنے اور سونے کے لائق نہیں رہے دو دن سے گھوڑے کی طرح کھڑے کھڑے سورہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پیٹھ پہ وہ والی تھپکی کے بجائے یہ والی تھپکی کیوں پڑی؟
Tuesday, June 7, 2011
تمام خداوں سے بہتر خدا۔
ہم سب ایک شخص کے نہایت عجیب و غریب استدلال کچھ دنوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں پہلے وہ عقل استعمال کرتا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ عقل استعمال ہی ایک نیوٹرل بندے اور غیر مسلم کے پوائنٹ آف ویو سے کی تھی۔ پھر وہ خدا کا انٹرویو کر آتا ہے اپنی لاشعوری کوشش کہ اس کو لا دین نہ سمجھا جائے۔ عجب تضاد کا شکار ہے۔ پھر برسوں گمنامی میں سونے والا ایک اور شخص جو کہ نہایت دعووں کے ساتھ گیا تھا پھر نمودار ہوتا ہے اور اپنی لا یعنی باتوں کا آغاز کر لیتا ہے حتی کہ غیروں کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی مانند دوسرے بلاگز پر پرائے پھڑے میں ٹانگ اڑا لیتا ہے اور واپس جا کر مالک کو اپنی کارگزاری سنا رہا ہوتا ہے۔
یہ شخص جا بجا ترجمہ کرتا ہے اور اخلاقی جرات کا یہ عالم ہے کہ کہیں بتانے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ سب اس کا لکھا نہیں عجب فراڈ انسان ہے۔ فلپائن میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ جلا لیا۔ آگے کی کہانی اس کو خوب معلوم ہے۔ اللہ واقعی بے نیاز ہے مگر اگر وہ اتنا ہی بے نیاز ہے تو لوگوں کو حساب کیونکر لے گا؟ جنت قدموں تلے رکھنے والیوں کو ایک یہ بھی پڑھ لینا چاہئے۔ کیونکہ بارہا ثابت ہو چکا کہ اس نے قران سمجھنا تو دور کی بات ترجمے سے پڑھ بھی نہیں رکھا۔ اور ہم تمام لوگوں کے لئے درج کی گئِ تمام آیات اہم ہیں مگر اہم ترین آخری والی۔
يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٩﴾
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿١٠﴾
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ﴿١١﴾
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾
خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾
اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں
یہ شخص جا بجا ترجمہ کرتا ہے اور اخلاقی جرات کا یہ عالم ہے کہ کہیں بتانے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ سب اس کا لکھا نہیں عجب فراڈ انسان ہے۔ فلپائن میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ جلا لیا۔ آگے کی کہانی اس کو خوب معلوم ہے۔ اللہ واقعی بے نیاز ہے مگر اگر وہ اتنا ہی بے نیاز ہے تو لوگوں کو حساب کیونکر لے گا؟ جنت قدموں تلے رکھنے والیوں کو ایک یہ بھی پڑھ لینا چاہئے۔ کیونکہ بارہا ثابت ہو چکا کہ اس نے قران سمجھنا تو دور کی بات ترجمے سے پڑھ بھی نہیں رکھا۔ اور ہم تمام لوگوں کے لئے درج کی گئِ تمام آیات اہم ہیں مگر اہم ترین آخری والی۔
يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٩﴾
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے
فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴿١٠﴾
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ﴿١١﴾
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ﴿١٢﴾
خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾
اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)